خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین اور ادارے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود خواتین پر تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی۔ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران ضلع میں خواتین پر تشدد کے 75 مقدمات رپورٹ ہوئے، جن میں 13 قتل، 4 غیرت کے نام پر قتل اور 29 اغوا کے مقدمات شامل ہیں۔ حالیہ واقعے میں ٹک ٹاک ویڈیوز کے تنازع پر ایک شخص نے اپنی بہن اور بھانجی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق ناقص تفتیش، راضی ناموں اور قوانین پر کمزور عمل درآمد نے ملزمان کو سزا سے بچنے کا موقع دیا
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
پشاور میں مقیم دو کرایہ دار خواجہ سراؤں کا الزام ہے کہ پولیس مالک مکانوں پر دباؤ ڈال کر انہیں گھروں سے نکلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریحانہ اور زارا نے اسی شکایت کے ساتھ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کسی کو محض شناخت کی بنیاد پر گھر چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ان کے بقول محفوظ رہائش ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔
دنیا بھر کے صحافی اور سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر مواد شائع کرنے والے افراد اب خواتین کے بارے میں لکھتے ہوئے باعزت، مناسب اور حساس الفاظ کے انتخاب میں مصنوعی ذہانت سے مدد لے سکتے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم ’’عکس‘‘ کی ایک تحقیق کے مطابق بہت سے صحافی اور سوشل میڈیا صارفین غیر ارادی طور پر بھی خواتین کے لیے ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جو نامناسب یا غیر حساس ہوتے ہیں۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر تنظیم نے خواتین کے حقوق اور صنفی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔
وادیٔ تیراہ کے بے گھر افراد کی 10 اکتوبر کو متوقع واپسی مؤخر کیے جانے کی اطلاعات کے بعد باڑہ میں ہزاروں متاثرین اور قبائلی عمائدین کا بڑا جرگہ منعقد ہوا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ انہیں مزید انتظار کیے بغیر اپنے گھروں کو جانے دیا جائے۔
طورخم سرحد سے چند کلومیٹر دور، خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں افغان مہاجرین کے لئے قائم عارضی قیام اور قانونی کارروائی کا مرکز چند ہفتے پہلے تک ہزاروں افراد کی آمد و رفت کا محور تھا۔ یہاں اتنا رش ہوتا تھا کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔ اب اسی مرکز میں غیر معمولی خاموشی ہے۔ واپس جانے والے مہاجرین کے مطابق ایک طرف پاکستان میں قیام مشکل ہو گیا تھا، تو دوسری طرف افغانستان میں شدید سردی اور رہائش کے لئے گھروں کی عدم دستیابی نے لوگوں کو واپسی سے روک رکھا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین اور ادارے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود خواتین پر تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی۔ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران ضلع میں خواتین پر تشدد کے 75 مقدمات رپورٹ ہوئے، جن میں 13 قتل، 4 غیرت کے نام پر قتل اور 29 اغوا کے مقدمات شامل ہیں۔ حالیہ واقعے میں ٹک ٹاک ویڈیوز کے تنازع پر ایک شخص نے اپنی بہن اور بھانجی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ ماہرین کے مطابق ناقص تفتیش، راضی ناموں اور قوانین پر کمزور عمل درآمد نے ملزمان کو سزا سے بچنے کا موقع دیا
کارکنوں اور ماہرین صحت نے سفارش کی ہے کہ نامزد خواتین شمار کنندگان کو ہی خواتین، لڑکیوں اور خواجہ سراؤں کی میں مردم شماری کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی گنتی سہی ہو
مختلف غیر سرکاری تنظیموں جیسے موومنٹ فار سولیڈیرٹی اینڈ پیس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 1,000 سے زائد اقلیتی (ہندو اور مسیحی) لڑکیوں کو مبینہ طور پر جبری مذہب تبدیل کروا کر مسلمان مردوں سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے عہدیداروں کے مطابق صرف سندھ میں ہر ماہ کم از کم 20 ہندو لڑکیوں کو جبری تبدیلیِ مذہب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے ساتھ زیادتی یعنی جنسی تشدد جیسے بھیانک جرائم ماضی کی طرح آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں بھی جاری ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود نہ صرف ان پر مؤثر عمل درآمد میں بااثر معاشرتی طبقات رکاوٹ بنتے ہیں، بلکہ بعض اوقات عدالتی نظام میں بھی ایسے رویے سامنے آتے ہیں جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
قدیم تہذیبوں کا مرکز ٹیکسلا، جہاں بدھ مت، ہندو اور مسلم ادوار کی متعدد تاریخی نشانیاں موجود ہیں، آج ایک اور قیمتی ورثے کے زوال کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ٹیکسلا کے وسط میں واقع قبل از تقسیم ہندو شیو مندر، جسے مقامی طور پر رام رکھی مندر کہا جاتا ہے، رہائشی مکانات اور دیگر تعمیرات کے باعث اپنی اصل شناخت کھوتا جا رہا ہے اور شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔