کراچی میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے منارٹی مارچ کا انعقاد کیا گیا، جس کی اس سال کی تھیم "یاد رکھا جائے گا" رکھی گئی۔ شرکا نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے 11 مطالبات پیش کیے۔ مذہبی اقلیتوں کو مساوی و بااختیار نمائندگی سمیت برابر کے شہری حقوق دیے جانے کی مانگ بھی رکھی گئی۔
بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں صوبے کے کئی اہم اضلاع میں طویل عرصے سے سروس معطل ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد کوئٹہ سمیت متعدد علاقوں میں مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ پشتون بیلٹ میں آج سروس بحال کر دی گئی ہے۔
کوئٹہ میں 9 اگست سے موبائل انٹرنیٹ سروس وقتاً فوقتاً بند ہے، جبکہ ایک دن کے لیے کال سگنلز بھی معطل رہے۔ اس سے قبل 31 جنوری کو ایک کالعدم بلوچ مسلح تنظیم کی جانب سے کوئٹہ میں کیے جانے والے حملے کے بعد صبح 9 بجے موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا، جو ایک ہفتے بعد بحال ہوا تھا۔
خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل میں پاک افغان سرحدی علاقے آنگور اڈہ کے قریب 45 سالہ خاتون کو نامعلوم افراد نے پتھر مار کر بے دردی سے قتل کردیا۔ واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار اور مقامی آبادی کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا ہے لیکن تا حال نامعلوم ملزمان گرفتار نہ ہوسکے۔
کراچی میں 11 اگست کو منعقد ہونے والے مینارٹی مارچ کے منتظمین شدید تشویش کا شکار ہیں کیونکہ مارچ میں محض چند روز باقی رہ جانے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تحریری اجازت نامہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ گزشتہ کئی برسوں سے کراچی میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، تحفظ اور انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے یہ مارچ منعقد کیا جاتا رہا ہے، اور اس سال بھی، 2026 میں، یہ مزارِ قائد پر منعقد کیا جائے گا، جہاں مذہبی اقلیتیں اپنے مسائل اور مطالبات ریاست کے سامنے رکھیں گی۔
وادیٔ تیراہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کی وجہ سے اُن کے بچے بیمار ہو رہے ہیں۔ ملیریا، خسرہ، ڈائریا اور جِلدی امراض — وہ بیماریاں جو تیراہ میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی تھیں، اب روزانہ کسی نہ کسی گھر کے بچے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
کراچی میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے منارٹی مارچ کا انعقاد کیا گیا، جس کی اس سال کی تھیم "یاد رکھا جائے گا" رکھی گئی۔ شرکا نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے 11 مطالبات پیش کیے۔ مذہبی اقلیتوں کو مساوی و بااختیار نمائندگی سمیت برابر کے شہری حقوق دیے جانے کی مانگ بھی رکھی گئی۔
کارکنوں اور ماہرین صحت نے سفارش کی ہے کہ نامزد خواتین شمار کنندگان کو ہی خواتین، لڑکیوں اور خواجہ سراؤں کی میں مردم شماری کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی گنتی سہی ہو
مختلف غیر سرکاری تنظیموں جیسے موومنٹ فار سولیڈیرٹی اینڈ پیس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 1,000 سے زائد اقلیتی (ہندو اور مسیحی) لڑکیوں کو مبینہ طور پر جبری مذہب تبدیل کروا کر مسلمان مردوں سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے عہدیداروں کے مطابق صرف سندھ میں ہر ماہ کم از کم 20 ہندو لڑکیوں کو جبری تبدیلیِ مذہب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے ساتھ زیادتی یعنی جنسی تشدد جیسے بھیانک جرائم ماضی کی طرح آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں بھی جاری ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود نہ صرف ان پر مؤثر عمل درآمد میں بااثر معاشرتی طبقات رکاوٹ بنتے ہیں، بلکہ بعض اوقات عدالتی نظام میں بھی ایسے رویے سامنے آتے ہیں جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
قدیم تہذیبوں کا مرکز ٹیکسلا، جہاں بدھ مت، ہندو اور مسلم ادوار کی متعدد تاریخی نشانیاں موجود ہیں، آج ایک اور قیمتی ورثے کے زوال کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ٹیکسلا کے وسط میں واقع قبل از تقسیم ہندو شیو مندر، جسے مقامی طور پر رام رکھی مندر کہا جاتا ہے، رہائشی مکانات اور دیگر تعمیرات کے باعث اپنی اصل شناخت کھوتا جا رہا ہے اور شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔