٢٠٠٩ کی طرف واپسی؟

0
81
٢٠٠٩ کی طرف واپسی؟

٨ فروری ٢٠٢٢

تحریر فرزانہ علی 


پشاور

ایک بار پھر ٢٠٠٩ والی صورت حال بنتی دکھائی دے رہی ہے ۔بھتے کے لئے واٹس ایپ کالز کا آنا اور رقم کے مطالبے کے ساتھ خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکی ۔حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں کئی یونٹس کو یہ کالیں آچکی ہیں جبکہ ایک یونٹ کے سامنے تو مسخ شدہ لاش بھی پھینکی گئی جسکے جسم کے کچھ حصے کٹے ہوئے تھے۔

یہ الفاظ پشاور کے ایک صنعتکار کے ہیں جنھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمیں بھتے سے متعلق ملنے والی کالز کی تفصیلات بتائیں۔گذشتہ دو ماہ میں سات اہم صنعتکاروں کو واٹس ایپ کال کے ذریعے بھتہ مانگنے کے واقعات نے پشاور کی تاجر اور صنعت کار برادری کے خوف میں اضافہ کر دیا۔

صنعتکار کا کہنا تھا کہ آخر ہم کب تک اس خوف میں مبتلا رہیں گے ۔ہمارے بہت سے ساتھی دوبارہ صوبہ چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ اگر ہمارا خاندان اور کاروبار محفوظ نہیں تو پھر یہاں کیا رہنا۔ انھوں نے گلہ کیا کہ موجودہ حکومت باہر کے انوسٹر زکو ملک میں لانے کے دعوے کر رہی ہے لیکن اپنے انوسٹر کو محفوظ ماحول دینے میں ناکام ہے۔

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔معاملہ شروع ہوا دہشت گرودں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں سے جو چلتے چلتے ٹارگٹ کلنگ اور بھتے کی کالوں تک پہنچ گیا۔اب بھتے کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی رپورٹ یا ایف آئی آر کسی تھانے میں درج نہیں کرائی جاتی بلکہ جسکو کال موصول ہوتی ہے وہ ڈر کے مارے اسکو پوشیدہ ہی رکھتا ہے اب یہاں بھی یہی ہوا لیکن جب معاملہ گھمبیر ہونے لگا تو صنعتکاروں کے ایک وفد نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے ملاقات کی اور معاملے کا نوٹس لینے کا کہا ۔جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جو اس سارے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔کمیٹی کو چھ سے سات تحریری شکایات بھی دی گئیں لیکن ایک یونٹ کے سامنے لاش پھنکے کے واقعے نے معاملات کی سنگینی میں اضافہ کر دیا ہے۔

2022 کاآغاز اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی

دوسری طرف پشاور میں پادری ولیم سراج اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شعیہ فرقے سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی ٹارگٹ کلنگ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ اگرچہ اس سے قبل گذشتہ سال باجوڑ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کو کوئی اور رخ دیا گیا لیکن کہانی کے سرے اسی جنگ سے آکر کر ملنے لگے جس میں ٢٠١٥ کے بعد کچھ ٹھہراو سا آگیا تھا۔ایک دم سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ کالعدم تحریک طالبان کی طاقت میں بڑھاوے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خصوصا ٹی ٹی پی سے ہونے والے مذکرات اور پھر جنگ بندی کا ہونا اور ٹوٹنا ایسے واقعات میں اضافے کا سبب بنتا دکھائی دیتا ہے۔

غیر سرکاری ادارے ساوتھ ایشین ٹیررازم پورٹل کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں کئی پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں ٦٨ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں سب سے زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے جو ٢٤ بتائی گئی ہے سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ٢٢ اہلکار مارے گئے ہیں۔جبکہ سکیورٹی فورسز اور پولیس کی کارروائیوں میں ٢٢ شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس پر بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی جبکہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے شہریوں کے قاتل نامعلوم بتائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ دیکھنے میں آیا کہ ماضی کی طرح کالعدم تحریک طالبان بھی حملوں کے بعد میڈیا کو زمہ داری قبول کرنے کے لئے معلومات کی فراہمی میں بھی سرگرم نظر آرہی ہے۔ اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں کیونکہ کچھ عرصہ قبل سرکاری زرائع یہ دعوی کرتے دکھائی دیتے تھے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طاقت انتہائی کم ہے۔ وہ بڑے حملے نہیں کر سکتے ان کے پاس ٹھکانے نہیں رہے تو پھر ایک دم سے بڑھنے والی دہشت گردی کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟

کون سے محرکات کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو طاقت فراہم کر رہے ہیں

یہ سوال رکھا ہم نے سابق سفارتکار اور تجزیہ کار رستم شاہ مہمند کے سامنے تو انھوں نے اسکو بارڈر پراور اسکے پار ہونے والے معاملات کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ افغان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہ ہونا، امارات اسلامی کا اقتصادی اور اندرونی مشکلات کا شکار ہونا اور بارڈر پر فنسنگ کی وجہ سے ناراض ایلینمٹس کا ان حالات کو استعمال کرنا کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے فائدے میں چلا گیا۔ دونوں طرف کے ایسے قبائل جو فنسنگ کے حق میں نہیں تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کی وجہ سے انکی تجارت، آمدورفت اور قبائل کے تعلقات متاثر ہو رہے ہیں ۔ایسے خیالات کے حامل عناصر کو دونوں طرف اشتعال دلا کر فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

اگرچہ کالعدم تحریک طالبان کے بارڈر کے اس طرف یعنی پاکستان میں اڈے یا کیمپ نہیں لیکن چونکہ انکی تربیت ہو چکی ہے اس لئے وہ لوگ بارڈر پار آتے ہیں حملے کر کے چلے جاتے ہیں اور کہیں کہیں پاکستان کے اندر بھی انھیں مدد مل رہی ہے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان طالبان کی اقتصادی مشکلات اور پاکستان کی طرف سے کمٹمنٹ کا پوار نہ ہونا بھی مسائل کی وجہ بن رہا ہے۔ افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی بجائے واشنگٹن کی طرف دیکھنا پہلے جیسے شکوک وشبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی ماضی میں پاکستان نے آدھی رات کو آنے والی فون کال پر جو کیا وہ افغان طالبان آج تک نہیں بھولے۔ اس لئے افغانستان کے اندرونی حا لات جہاں ایک طرف بارڈر پر انکی گرفت کمزور کر رہے ہیں وہاں دوسری طرف افغان وار لاڈر کو بھی راستہ فراہم کر رہے ہیں جسکافوری حل نکالنا ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here