ربڑ کے پائپ کے تشدد سے گھریلو ملازم ہلاک، پانچ افراد گرفتار

0
80
ربڑ کے پائپ کے تشدد سے گھریلو ملازم ہلاک، پانچ افراد گرفتار

١٣ جولائی ٢٠٢٢

تحریر احمد سعید


لاہور کے علاقے ڈیفنس میں مالکان کے تشدد سے ہلاک ہونے والے کم سن گھریلو ملازم کامران کی ہلاکت کے کیس میں پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہلاک ہونے والے لڑکے کامران کی عمر تقریبآ بارہ سال تھی جب کہ اس کا چھ سالہ بھی رضوان تشدد سے شدید زخمی ہو گیا تھا۔

گرفتار ہونے والوں میں نصراللہ ا سکی بیوی شبانہ ،بہو حنا، اور بیٹے محمود اور ابوالحسن شامل ہیں۔

پولیس نے ہلاک ہونے والے لڑکے کامران کی لاش کا پوسٹ مورٹم کروا لیا ہے تاہم رپورٹ آنے میں کچھ دن مزید لگ جائیں گے۔ تاہم لڑکے کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔ تشدد سے زخمی والے لڑکے رضوان کا بھی میڈیکل کروا لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق دونوں بھائی ایک سال سے گھر میں ملازم تھے اور ان کو اکثر مار پیٹ کا نشانہ بنایا جا تا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں لڑکوں کو صبح سے شام تک کام کروایا گیا اور کھانے کو کچھ نہیں دیا گیا، شام کو بھوک سے تنگ آ کر بھائیوں نے فریج سے کھانا نکال کے کھا لیا۔ یہ بات پتا چلنے پر ابوالحسن نے ربڑ کے پائپ سے دونوں بھائیوں پر غیر انسانی انداز سے تشدد کیا جس سے دونوں کی حالت غیر ہوگی اور کامران بیہوش گیا۔

جب کافی دیر تک کامران ہوش میں نہیں آیا تو اس کو قریبی ہپستال لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کر دی اور تشدد کے نشانات دیکھ کر پولیس کو اطلاع کر دی. پولیس نے ہسپتال پہنچ کر جب ملزمان سے تفتیش کی تو ان کے جوابات غیر تسلی بخش پا کر پہلے ابوالحسن اور اس کے والد نصر الله کو حراست میں لیا اور بعد ازاں مزید تفتیش پی باقی گھر والوں کو بھی گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق رضوان کی حالت اب بہتر ہے اور اس کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے. کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر اقبال کے مطابق لڑکے کے والدین کو ٹریس کیا جا رہا ہے تاہم ابھی تک نہ والد اور والدہ تک پولیس کی رسائی ہو پائی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق اگلے چند گھنٹوں میں وہ دونوں بھائیوں کے والدین کو ٹریس کر لیں گے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والے لڑکوں کے والدین کا تعلق بہاولپور کے ایک گاؤں سے ہے اور میں علیحدگی ہو چکی ہے اور لڑکوں کا والد کراچی میں محنت مزدوری کرتا ہے۔

پولیس کے مطابق لڑکوں کے والد کے تین نمبرز تھے مگر وہ تینوں ہی نمبرز مسلسل بند جا رہے ہیں۔

پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کر لیا ہے اور ایف آئی مار میں قتل کی دفعہ کے علاوہ فساد فی الارض اور چائلڈ پروٹیکشن ریسٹرکٹشن ایکٹ کی دفعات بھی لگائی گی ہیں. پولیس کے مطابق فساد فی الارض کی دفعہ لگانے کا مقصد جرم کو نا قابل معافی بنانا ہے۔

پنجاب کے وزیر داخلہ عطا تارڑ نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کیس کو ایک مثال بنایا جاے گا اور ذمے داروں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جا ے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here