کیا ریاست پاکستان جبری گمشدگیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا چاہتی ہے؟

0
99
کیا ریاست پاکستان جبری گمشدگیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا چاہتی ہے؟

١٨ جولائی ٢٠٢٢

اسٹاف رپورٹ


سابق سابق وزیر اعظم عمر انُ خان نے سولہ جولائی کو پی ایف یو جے کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ فوجی قیادت کا موقف تھا کہ گمشدہ افراد میں سے کچھ لوگ دہشت گردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث ہوتے ہیں اور ایسے کسیز کو عدالتوں میں ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کے اس صورتحال کے پیش نظر ان کی حکومت کے آخری دنوں میں ایک تجویز یہ بھی زیر غور تھی کہ لاپتا افراد کو ان کے اہلخانہ سے ملاقات کروا دی جاے اور پھر بے شک ان کی حراستگی کی مدت میں اضافہ کر دیا جاے۔

بعض مبصرین کے نزدیک عمران خان کا یہ بیان ان کوششوں کو ظاہر کرتا جو پس پردہ کافی عرصے سے جاری ہیں اور جن کا مقصد جبری گمشدگیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے تاکے اس میں ملوث افراد یا ادارے مستقبل میں کسی بھی بھی قانونی چارہ جوئی سے سکیں۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا الله بھی یہ بات کہ چکے ہیں کہ لاپتا افراد کے مسلے کو حل کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز جن میں لاپتا افراد کے اہلخانہ، ریاستی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حکومت شامل ہو کو بیٹھ کر کوئی حکمت عملی بنانا ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسا بل صرف لاپتا افراد کی گمشدگی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے گا مگر مسلے کا حل تجویز نہیں کرے گا وہ خود بھی گمشدہ ہی ہوتا رہے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل ہمیشہ ہی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے انتہائی سخت موقف اختیار کے رکھا مگر ٢٠١٨ میں وزیر اعظم بننے کے بعد وہ اس حوالے کوئی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکے۔ ان کی حکومت نے اس حوالے سے ایک بل قومی اسمبلی سے تو پاس کروا لیا مگر سینیٹ میں آنے کے بعد وہ بل کہیں غائب ہو گیا اور بعد ازاں اس وقت کی وفاقی وزیر براۓ انسانی حقوق نے اس بل کو ہی “گمشدہ” قرار دے دیا۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اگر چہ اس سے قبل بھی کچھ افراد کو مبینہ طور پر جبری لا پتا کیا گیا اور اسکا الزام ریاستی اداروں پر ہی عائد ہوا تھا تاہم جبری گمشدگیوں میں شدت اس وقت آئی جب پاکستان نے ٢٠٠١ کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں شمولیت اختیار کی اور اپنے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ بعد ازاں جب بلوچستان میں بھی شورش میں اضافہ ہوا تو وہاں سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے واقعات دیکھنے میں آے۔ ان میں کچھ افراد تو کچھ سال بعد بازیاب ہو کر گھر واپس آ گئے جب کہ کچھ کی تشدد زدہ لاشیں ویرانوں سے ملی جب کہ کچھ افراد کے بارے میں سالوں گزرنے کے باوجود کوئی اتا پتا نہیں ہے اور ان کے پیارے تاحال ان کی واپسی کی امید میں دن رات کرب سے گزر رہے ہیں۔

تقریباً ہر سیاسی جماعت نے ان افراد کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ میں یہ وعدہ بھی کر رکھا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر جبری گمشدگیوں کے عمل کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے قانون سازی کریں گے اور ساتھ میں ان ذمے داروں کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جاے گی جو ایسے کسی عمل میں ملوث ہوں گے۔ مگر اقتدار میں آتے ہی سیاسی جماعتیں مختلف بہانے بنا کر اپنے اس وعدہ سے پہلو تہی کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔

“لاپتا افراد کے اہلخانہ ایسی تجویز کو رد کر دیں گے”

سیاسی قیادت کی جانب سے حالیہ بیانات سے لگتا ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کو کوئی قانونی تحفظ دیا جاے اور جبری طور پر لاپتا لوگوں کو لمبے عرصے کے لئے عدالتوں میں پیش کے بغیر تفتیش کے لئے زیر حراست رکھا جا سکے۔ اس حوالے سے جب ہم نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لئے جد وجہد کرنے والی سماجی کارکن آمنہ مسعود جنجوعہ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے اہلخانہ کے لئے ایسی کوئی بھی تجویز نا قابل قبول ہوگی اور اگر اس طرح کی کوئی قانون سازی ہوئی تو وہ بھی آئین اور قانون سے متصادم ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ جبری گمشدگیوں میں ملوث افراد کو قانونی تحفظ میل تو اس کے لئے “سچائی اور مفاہمتی” کمیشن بنانا پڑے گا جس میں پہلے ریاستی ادارے یہ تسلیم کریں کے انہوں نے نے ماضی میں لوگوں کو لاپتا کیا ہے اور وہ آیندہ کسی کو بھی جبری طور پر لاپتا ان کرنے کا عہد کریں اور اس کے بعد لاپتا افراد کو ان کے پیاروں سے سے ملاقات کروائی جاے اور جو لگ وفات پا چکے ہوں ان کے عزیزوں کو بھی سچائی سے آگاہ کیا جاے۔ اس کے بعد بے شک حکومت ان چیزوں میں ملوث افراد کو قانونی کاروائی سے استثنیٰ دے دے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ تجویز کابینہ کی سا رکنی ذیلی کمیٹی براۓ گمشدہ افراد کے سامنے بھی رکھی ہے جس کی صدارت وفاقی وزیر براۓ قانون اعظم نذیر تارڑ کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے اب تک تین اجلاس ہو چکے ہیں اور اس کے پاس اپنی سفارشات مرتب کترنے کے لئے تین ہفتوں کا وقت ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ اب تک وہ کمیٹی کے کام سے مطمئن ہیں مگر اس کمیٹی کا فائدہ تب ہی ہوگا جب اس کی سفارشات پر عمل درآمد ہو سکے گا۔

‘اداروں کو قانون کے دائرے میں لاے بغیر کمیٹیوں کا کوئی فائدہ نہیں’

سابق سینیٹر اور پپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللّه بابر بھی ایس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اس مسلے کے حل کے لئے اپنی رائے اور سفارشات پیش کر چکے ہیں۔ وائس پی کے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا قیام خوش آئند تو ہے مگر جب تک ان اداروں کو قانون کے دائرے میں نہیں لایا جاتا لوگوں کو ماوراۓ قانون لاپتا کرتے ہیں تب تک کسی بھی کمیٹی کی سفارشات کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک ملک میں لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے جبری گمشدگی کی سات ہزار ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں مگر کسی ایک پر بھی کاروائی نہیں ہو سکی کیوں کہ جن اداروں پر الزام ہے وہ کسی قانون کے تابع ہی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا بطور سینیٹر جب انہوں نے یہ سوال پوچھا کہ بتایا جاے کے آئی ایس آئی کس قانون کے تحت کام کرتی ہے تو ان کو بتایا کہ یہ ایک خفیہ اور احساس معاملہ ہے جس کو عام نہیں کیا جا سکتا ہے۔

‘اداروں کو پارلیمنٹ کا سرٹیفکیٹ چاہئے’

فرحت الله بابر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ ادارے دباؤ ڈلوا کر جبری گمشدگیوں کو قانونی تحفظ فراہم کروا دیں کیوں کہ اب یہ مسلہ زبان زد عام ہو چکا ہے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ چاہتے ہیں پارلیمنٹ ان کو ایسا کرنے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دے اور پھر ان کے پاس لوگوں کو غیر معینہ مدت تک لاپتا کرنے کی کھلی چھٹی حاصل ہو جاے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں میں ملوث افراد کو ان کے جرائم کا اعتراف کے بغیر معاف کرنا شکست خوردانہ سوچ کی عکاسی ہوگا اور وہ ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ادارہ اس حوالے سے قانونی کاروائی سے استثنی چاہتا ہے تو اسے پہلے “سچائی اور مفاہمتی” کمیشن کی طرز پر اپنے اعمال کا اعتراف کرنا ہوگا اور لاپتا افراد کا ڈیٹا ان کے لواحقین سے شئیر کرنا ہوگا جس کے بعد ہی ان کو معافی دی جا سکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here