حق مہر کے تنازعات کا فیصلہ لکھوائی گی شرائط کی اصل نیت کو مدنظر رکھ کر کیا جاے: سپریم کورٹ    

0
119
حق مہر کے تنازعات کا فیصلہ لکھوائی گی شرائط کی اصل نیت کو مدنظر رکھ کر کیا جاے: سپریم کورٹ

٤ جولائی ٢٠٢٢

تحریر احمد سعید


سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں یہ قرار دیا ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کے زیر کفالت ہونے کا حق  اسلامی قانون کے تحت اس وقت تک مکمل اور لاگو رہتا ہے ‘جب تک وہ وفادار  رہے اور اپنی ازدواجی ذمہ داریوں کو پورا کرتی رہے’
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دیا جس کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے تھے جب کہ جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل تھے. فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے
جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں کہا کہ ایک مسلمان شوہر اپنی بیوی  کی کفالت کرنے کا پابند ہے چاہے شادی کے وقت ان کے درمیان اس حوالے سے کوئی شرط نہ بھی رکھی گی ہو یا بیوی اپنے وسائل سے اپنے اخراجات کرنے کی اہلیت رکھتی ہو
یہ فیصلہ خیبر پختون خواہ کے ضلع  چارسدہ سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی حسن الله اور ناہید بیگم کے کیس میں دیا گیا. اس کیس میں ناہید بیگم نے اپنے شوہر سے حق مہر کے طور پر چار کنال زمین اور اپنے سمیت پانچ نا بالغ بچوں کی کفالت کی رقم دینے کا تقاضہ کیا تھا
 کیس کی تفصیلات کے مطابق  شوہر نے نکاح نامے کے خانہ نمبر سولہ (جو کہ حق مہر کی رقم کے بدلے جائیداد دینے سے متعلق ہوتا ہے) میں چار کنال زمین لکھوائی تھی جب حق مہر والے خانہ (خانہ نمبر تیرہ) میں سات تولہ سونے کے زیورات لکھواے تھے
. کچھ عرصہ قبل شوہر حسن الله نے دوسری شادی کرلی اور دوسری بیوی کے ساتھ رہنے لگا. ناہید بیگم کی حق مہر کی زمین اور کفالت کے خرچے کی درخواست ضلعی عدالتوں نے اس بنیاد پر خارج کر دی کہ نکاح نامہ کے خانہ نمبر سولہ میں درج جائیداد اس وقت ہی بیوی کو مل سکتی ہے اگر حق مہر ادا نہ کیا گیا ہو جب کہ   ناہید بیگم  حق مہر کی وصولی کا اقرار کرتی ہے اس لیے وہ چار کنال زمین کی حقدار نہ ہے
اس کے علاوہ سیشن عدالت نے یہ بھی قرار دیا کیوں کہ ناہید بیگم اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ رہی اس لئے وہ اس کی کفالت کا ذمے دار نہ ہے
تاہم پشاور ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے حکم کو رد کرتے ہوئے ناہید بیگم کو چار کنال زمین کا حقدار  اور شوہر کے زیر کفالت ہونے کا حکم دیا تھا
اس فیصلے کے خلاف شوہر  حسن الله نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی
اپیل کے فیصلے کا آغاز اس قول سے کیا کہ “یہ مرد کی بالادستی والا معاشرہ ہے۔ مرد زمانوں سے ہمیشہ مذہب کو اپنی سہولت کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ فکر مند رہے ہیں، خاص طور پر ازدواجی معاملات میں، لیکن جب خواتین کے تئیں ان کے فرض اور فرض کی بات آتی ہے تو وہ مذہب کو بھول جاتے ہیں۔”
عدالت نے فیصلے میں کہا نکاح نامہ   میاں بیوی کے درمیان شادی کا ایک معاہدہ ہوتا ہے اور دیگر کسی بھی معاہدے کی طرح اس کی شقوں/کالموں کے مندرجات کی تشریح فریقین کی نیت کو مدنظر رکھ کر کی جاے گی
عدالت نے مزید کہا کہ  نکاح نام کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات میں عدالتوں کا اولین فرض  ہوتا ہے  کہ نکاح نامے میں درج شرائط کی اصل نیت کے مطابق فیصلے کریں اور اس حوالے سے نکاح نامے میں درج کالموں کی مخصوص عبارت تک خود کو محدود نہ رکھیں
چار کنال زمین کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ  خانہ نمبر سولہ میں جائیداد کی تفصیل لکھنے سے پہلے اس نمبر (٢) کا حوالہ دیا گیا جب کہ حق مہر کی تفصیل سے پہلے نمبر ایک (١) درج کیا گیا، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چار کنال زمین بھی دراصل حق مہر کا ہی حصہ تھی اور بیوی کی ملکیت تصور ہوگی. عدالت نے مزید کہا کہ چار کنال زمین اور حق مہر میں درج سات تولے سونے کی قیمتوں کا آپس میں کوئی موازانہ نہیں بنتا اس لئے خانہ نمبر سولہ میں درج زمین بھی حق مہر ہی کے طور پر لکھوائی گی تھی

‘شوہر کی غلطی کا فائدہ شوہر کو نہیں دیا جا سکتا’

بیوی کی کفالت کے حوالے سے فیصلے میں لکھا کہ چوں کہ ناہید بیگم نے شوہر کے ساتھ رہنے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی لیکن حسن الله نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو اس لئے شوہر اپنی بیگم کو نان نفقہ دینے کا پابند ہے
عدالت نے کہا کہ اگر بیوی اپنی ازدواجی ذمے داریاں ادا کرنے کو تیار ہو مگر کسی وجہ سے نہ کر سکے یا شوہر کے کسی عمل کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر رہے تو وہ قانونی طور پر اپنے شوہر سے کفالت کی رقم لینے کی حقدار ہوگی اور شوہر کو اس کی غلطی کا فائدہ ماہی دیا جا سکتا
عدالت نے مزید لکھا کہ اس کیس میں شوہر نے بیوی کی کفالت کرنے اور مرضی سے حق مہر دینے کی بجاۓ کسی نہ کسی بہانے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کی ہے۔ عدالت نے شوہر کے روئے کو مایوس کن قرار دیا اور اس کی پٹیشن کو خارج کر دیا اور حکم دیا کہ وہ بیوی کو تمام عدالتی اخراجات بھی ادا کرے گا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here