ستمبر22 , 2023

تحریر: مریم مثال


لاہور/ اسلام آباد

جمعہ کے روز، ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو اے بی این کے بیورو چیف اسلام آباد خالد جمیل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا۔ سینئر صحافی پر پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے، جسے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505 کی مد میں پڑھا گیا ہے۔

ایف آئی آر انیس الرحمان، ٹیکنیکل اسسٹنٹ ایف آئی اے، سائبر کرائم رپورٹنگ سیل (سی سی آر سی)، اسلام آباد کی جانب سے درج کی گئی۔

پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 505 کی مد میں پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا سیکشن 20 خالد جمیل کے خلاف درج ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔

 پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا سیکشن 20 کسی شخص کے وقار کے خلاف ہونے والے جرائم کا ازالہ کرتا ہے۔ اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ جان بوجھ کر کسی بھی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے کے جرم میں تین سال تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ 

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس کے تحت لائسنس یافتہ براڈکاسٹ میڈیا یا ڈسٹری بیوشن سروسز کے ذریعے نشر کیے جانے والے مواد پر یہ شرط لاگو نہیں ہوتی۔

دریں اثنا، پی پی سی کے سیکشن 505 میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آرمی، نیوی، یا ایئر فورس کے افسروں یا اہلکاروں کے خلاف غفلت برتنے کے ارادے سے بیانات، افواہیں، یا رپورٹیں بنانا، شائع کرنا، یا گردش کرنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔  

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے مئی ۲۰۲۲ میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو صحافیوں کے خلاف کسی بھی شکایت کو درج کرنے سے پہلے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے رائے لینے کا پابند کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود خالد جمیل کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور ان کے گھ میں داخل ہو کر چادر کی خلاف ورزی ک گئی، مزید یہ کہ ان کی گرفتاری کے دوران سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی گئی جس پر میڈیا پروفیشنلز اور سول سوسائٹی کی توجہ مرکوز ہوئی۔

خالد جمیل کی گرفتاری کے بعد پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا مشترکہ بیان سوشل میڈیا پر جاری کیا  جس میں پی ایف یو جے نے نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج کا اعلان کیا۔

پی ایف یو جے کا بیان نہ صرف خالد کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے بلکہ ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک تصویر کی گردش پر بھی تنقید کرتا ہے۔ پی ایف یو جے کے مطابق خالد جمیل کے خلاف مقدمہ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے جس میں ایف آئی اے کو صحافیوں کو گرفتار کرنے سے پہلے پی ایف یو جے سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

‘آپ ہمیں تھپڑ ماریں اور رونے کی اجازت بھی نہ دیں’ 

ڈی جی میپ کے چیئرمین سبوخ سید نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے خالد جمیل کی گرفتاری کے حوالے سے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایف آئی اے نے اپنے ادارہ جاتی پروٹوکول کی پابندی نہیں کی جس کے تحت ملزمان کو گرفتار کرنے سے پہلے ان سے پوچھ گچھ ضروری ہے۔

 انہوں نے کہا، ’’خالد جمیل اپنی ذاتی رائے کے حقدار ہیں، اور اگرآپ کو ان سے تشدد پر اکسانے کے خدشات ہیں تو اسے پی ایف یو جے یا اس تنظیم سے مشاورت کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے جس سے وہ وابستہ ہیں۔‘‘ سبوخ کے خیال میں گرفتاری مسئلے کا حل نہیں ہے۔

موجودہ سال میں صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بارے میں، سبوخ نےکہا کہ ہر کسی کی طرح صحافی بھی مہنگائی، بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح اور ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متاثر ہیں۔ اس لیے ان کا اپنے تحفظات کا اظہار اور آواز اٹھانا فطری امر ہے۔

“آپ ہمیں تھپڑ نہیں مار سکتے اور ہم سے رونے کی توقع نہیں کر سکتے،” سبوخ نے کہا۔

ہم اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیتے ہیں’

  پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری ارشد انصاری نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نے خالد جمیل کو گرفتار کر کے ایف اَئی اے نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے ، جوکہ جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل کے جواب میں دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم صحافی ہیں اور ہمیں اپنی حدود کو نہیں بھولنا چاہیے لیکن کوئی ادارہ اپنے ایس او پیز پر عمل کیے بغیر ہم پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں آزادی اظہار کی صورتحال کا باقی دنیا سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے خلاف کارروائی کریں۔

ارشر نے مزید بتایا کہ پی ایف یو جے خالد جمیل کی غیر قانونی گرفتار کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور اگر انہیں رہا نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی۔

ارشد نے کہا، ’’ہم اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیتے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر کسی صحافی کو اپنی رائے دینے سے روکنا ہے تو اس سے مناسب چینلز کے ذریعے رابطہ کیا جائے اور اداروں کی طرف سے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔‘‘

 پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا مقصد زبان بندی ہے 

فریڈم نیٹ ورک کے اقبال خٹک نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خالد جمیل کے خلاف بنایا گیا پورا مقدمہ بولنے پر پابندی کے مترادف ہے۔

اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان کا آئین ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے اور صحافی کے خلاف ایف آئی اے کے اقدامات آئین کے خلاف ہیں اوراسلاپآباد ہائی کورٹ کے براہ راست احکامات کی بھی نفی کرتے ہیں۔

پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ مزحمت کی آواز کو روکنے کے لیے ہے اور اسے  ۲۰۱۶ سے ہی صحافیوں اور صحافت کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے”۔

سینئر صحافی اورسماجی کارکن منیزے جہانگیر نے اس معاملے پرسوال کیا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں اور لوگوں کے حقوق پر حقیقی گفتگو کیسے ہو سکتی ہے جب شہریوں کو آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں ہے؟ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here