یہ رپورٹ کینیڈا فنڈ براے مقامی منصوبہ جات کے تعاون سے ہے

٣٠ ستمبر ٢٠٢٣

تحریر: فرزانہ علی


پشاور

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 2 خودکش سمیت 8 حملوں اور 60 سے زائد اموات نے ایک بار پھر دونوں صوبوں کو اپنے شکنجے میں لئے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سنگینی کو واضح کر دیا ۔ ہنگو میں مسجد اور مستونگ میں عید میلاد النبیؐ کے جلوس پر خودکش حملوں اور اس سے قبل کے گھنٹوں میں دونوں صوبوں کے مختلف اضلاع کو نشانہ بنانے والا مین دہشت گرد گروپ کون سا ہے ۔یہ موضوع حملوں کے بعد سے زیر بحث ہے۔ 2003 سے لشکر جھنگوی اور پھر امیر عثمان سیف اللہ کرد کی 2015 میں ہلاکت کے بعد بکھری لشکر جھنگوی سے داعش کا گڑھ بننے والا مستونگ اب کن دہشت گرد تنظیموں کے زیر اثر ہے اور اسکی بنیادی وجہ کیا ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جسکا جواب بہت سی گرہیں کھولنے کا سبب بن سکتا ہے اس لئے ہم نے یہی سوال کیا سینئر صحافی اور آج نیوز کوئٹہ کے بیورو چیف مجیب احمد سے تو انھوں نے بتایا کہ مستونگ بلوچستان کا ایک پسماندہ علاقہ ہے اور یہی پسماندگی کئی دہائیوں سے اس علاقے اور یہاں کے عوام کو مختلف قسم کی سیچوئشنز سے دو چار کر چکی ہے جسکے سہولت کار خود مقامی افراد ہی ہیں ۔ماضی میں یہاں بسنے والے ہزارہ کا آبادی کا 20 فیصد تک پہنچنا تھا یا پھر 2003 سے لشکر جھنگوی کا یہاں جنم لینا اور پھر 2004 کے خودکش حملے سے اپنے ہونے کا احساس دلا کر ایک دہائی کے دوران نئی شکل داعش کی صورت میں بھر پور طور پر سامنے آ کر اپنا وجود منوانے تک کے اس سفر میں کئی اتر چڑھاو ہیں۔مجیب کا یہ بھی مانناہے کہ مستونگ آج صرف ایک شدت پسند تنظیم کا گڑھ نہیں بلکہ یہاں بلوچ نیشنلسٹ آرمی۔تحریک طالبان ،داعش یا پھر لشکر جھنگوی کی باقیات سب ہی ایک نیٹ ورک کی صورت میں کام کر رہے ہیں اور انکا ہیڈ کواٹر افغانستان ہے جہاں سے شدت پسند تربیت لے کر آتے ہیں اور یہاں مقامی سہولت کاروں کی مدد سے حملے کرتے ہیں ۔ پورے نیٹ ورک میں شامل جماعتوں کا نظریہ کچھ بھی ہو لیکن چونکہ مفاد مشترکہ ہے اس لئے یہ ایک دوسرے کو نہ صرف سپورٹ کرتے ہیں بلکہ واقعات کی زمہ داریوں کا بوجھ بھی بانٹ کر چلتے ہیں ۔مجیب نے بتایا کہ فورسز کی طرف سے مستونگ کے علاقے اسپلنجی اور قابو میں ان شدت پسند گروپوں کے خلاف درجنوں آپریشن بھی کئے گئے تاہم انکی موجودگی وہاں ہے اور اسکی وجہ مقامی افراد کی سہولت کاری ہے جو مختلف شدت پسند گرپوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔یہ سوال کہ مستونگ میں عید میلادالنبیؐ کی جلوس پر حملے کی ذمہ داری کا معاملہ شک کا شکار ہے کے جواب میں مجیب احمد کا کہنا تھا کہ اگرچہ سامنے آنے والی ٹوئیٹ کی تاریخ اور لکھی گئی تحریر میں جمعیت کا ذکر ہونے کی وجہ سے معاملہ شک کا شکار ہوا لیکن انکی اطلاع ہے کہ یہ کام داعش نے ہی کیا ہے لیکن براہ راست ذمہ داری کو قبول نہ کرنے کے پیچھے وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ علاقہ مکینوں کو پتہ ہے کہ کس تنظیم کے ساتھ کون کام کرتا ہے اور جانبحق ہونے والے بھی مقامی ہیں معاملہ قبائلی ایشو بن سکتا ہے اس لئے واضح طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ۔اور جہاں تک بات کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک بیان میں مستونگ حملے کی مذمت کی بات ہے تو اسکی وجہ وہی افغان حکومت کا پریشر ہے ۔ٹی ٹی پی کی مذمت کے ایشو پر کوئٹہ ہی کے سینئر صحافی سلیم شاہد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی اب خود کو فورسز پر حملوں کی زمہ داری قبول کرنے تک محدود رکھے ہوئے ہے وہ اپنے بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ انکی عوام کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے پھر مذہبی جلوس پر حملے کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے اس لئے انھوں خود کو اس سے دور کر لیا ۔سلیم شاہد نے بھی افغان حکومت کے پریشر کی بات کی ہے کیونکہ ان کے مطابق ٹی ٹی پی کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے ہیں اس لئے وہ خود کو ایسے حملوں سے الگ رکھنے کا تاثر دے رہے ہیں۔سلیم شاہد نے یہ بھی بتایا کہ عید میلاد النبیؐ کے جلوس پر حملے سے دو روز قبل کوئٹہ ایسٹرن بائی پاس کے پاس ایک گاڑی پکڑی گئی جسمیں بارود تھا پھر دوسری گاڑی کوئٹہ شہر کے وسط سے پکڑی گئی جسمیں اسلحہ تھا جس سے لگتا یہی ہے کہ مستونگ اور کوئٹہ کو بیک وقت نشانہ بنانے کا پروگرام تھا۔

دوآبہ کے پولیس سٹیشن کی مسجد میں حملے کا زمہ دار کون ۔۔۔

خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ کے پولیس سٹیشن کی مسجد میں جمعے کے خطبے کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی زمہ داری بھی ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے کہ آیا یہاں بھی فرقہ وارانہ ایشو تھا یا پولیس ہی نشانہ تھا جیسا کہ جنوبی اضلاع میں مسلسل پختونخوا پولیس شدت پسند گروہ کے نشانے پر ہے یہ سوال رکھا ہم نے خیبر نیوز پشاور کے بیوروچیف سید وقاص شاہ کے سامنے تو انکا کہنا تھا کہ یہ پیٹرن ٹی ٹی پی کا ہے اور براہ راست پولیس سٹیشن کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے اس میں کہیں فرقہ واریت کا عنصر نہیں ہے دونوں خودکش حملہ آور پولیس سٹیشن کو ہی نشانہ بنانا چاہتے تھے جیساکہ ماضی قریب میں ہم نے خیبر کے علاقے باڑہ میں دیکھا تھا لیکن یہاں بھی ایک حملہ آورکو گیٹ پر ہی ختم کر دیا گیا تو دوسرے نے خود کو مسجد میں اڑا دیا ۔ وقاص شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اورکرزئی اور ہنگو میں داعش ایلیمنٹ ہے اور ماضی میں اینٹی شیعہ ایلیمنٹ کی وجہ سے ہی یہ پروان چڑھا لیکن پولیس سٹیشن حملے میں فرقہ واریت کا کوئی عنصر سامنے نہیں آیا ۔اب سوال یہ کہ پھر ٹی ٹی پی نے زمہ داری کیوں نہیں قبول کی تو اس کی وجہ وہی افغان پریشر اور خود کو پس منظر میں رکھ کر معاملات چلاتے جانے والی پالیسی ہے

چترال دراندازی میں زخمی تیرا دہشتگرد بھی گرفتار

افغان زرائع سے آنی والی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں پاکستان مخالف دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف افغان بارڈر پر کنڑ سمیت دیگر صوبوں میں افغان فورسز کی طرف سے آپریشن کیا گیا ۔آپریشن کے دوران چترال دراندازی میں زخمی تیرا دہشتگرد بھی گرفتار کئے گئے۔گرفتار افراد میں پاکستان کو مطلوب کئی اہم افراد بھی شامل ہیں جن کا ڈیٹا پاکستان نے افغان حکومت سے شئیر کیا تھا۔ افغانستان کے ترجمان اور محکمہ داخلہ نے بھی دو سو پچاس افراد کی گرفتاری کی تصد یق کی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here