30 ستمبر 2023

تحریر: مریم مثال


لاہور

پروگریسو ویمن نیٹ ورک نے ہفتے کے روز لاہور میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی جس میں بائیں بازو کی سیاست، قانون اور میڈیا میں خواتین کے رتبہ اور عدالتی طبقوں میں خواتین کی مشکلات پر بات کی گئی۔ کانفرنس میں خواتین مزدوروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس میں بائیں بازو کی سیاست میں سرگرم خواتین کی شرکت اور سماجی-سیاسی بیانیے میں متوسط اور نچلے طبقے کو متحرک کرنے کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

بائیں بازو کی سیاست میں خواتین سے متعلق پینل میں عصمت شاہجہاں، ڈاکٹر عالیہ حیدر اور فائزہ رفاقت شامل تھیں۔ پینل کا مقصد ان مسائل کو حل کرنا تھا جو خواتین کو سیاست میں درپیش آتے ہیں۔

ڈاکٹر عالیہ حیدر نے ایک آن گراؤنڈ ایکٹیوسٹ کے طور پر اپنا تجربہ شیئر کیا جو کم اجرت پر نوکری کرنے والی خواتین کے ساتھ کام کرتی ہیں اور اور جو خواتین خود کوحقوق نسواں کی موجودہ صورت کے ساتھ متفرق محسوس کرتی ہیں۔

عالیہ نے سامعین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف خواتین ہی سمجھ سکتی ہیں کہ ان کی ضروریات کیا ہیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمیں محاذ پر خواتین کی ہی ضرورت ہے جس کی دائیں بازو کی سیاست تک میں بھی کمی ہے۔

عصمت شاہجہاں نے اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین فیکٹری ورکرزاور گھریلو ملازمین پاکستان میں جدید حقوق نسواں سے جڑا ہوا محسوس نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا، ‘خواتین کو بائیں بازو میں جگہ دینے کی جدوجہد میں، ہم نے خود کو بعض تنظیموں سے دور کر لیا ہے، جو سال میں صرف ایک دن خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔’

وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر عالیہ حیدر نے بتایا کہ بہت کم جگہیں ہیں جہاں خواتین کو بولنے کا موقع ملتا ہے خاص طور پر وہ خواتین جنہوں نے زمین پر انتھک کام کیا ہے، یہ اپنے آپ میں ایک جیت ہے کہ ہمارے لیے ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم اپنے تجربات بیان کر سکتے ہیں.

کانفرنس میں میڈیا میں خواتین کے کردار اور پدر شاہی نظام کے مڈیا پر اثرات بھی ذیر بحث لائے گئے۔

پینل کو لائبہ زینب نے ماڈریٹ کیا اور اس میں منیزے جہانگیر اور ابسا کومل بطور پینلسٹ شامل کیا گیا۔

ابسا کومل کا کہنا تھا کہ میڈیا میں خواتین مخصوص شعبوں تک محدود ہیں اور وہ رپورٹنگ کے ایک خاص معیار تک ہی محدود ہیں۔ ان کے مطابق، نیوز چینلز کے لبرل بیانیے کے باوجود میڈیا ہاؤسز میں موجود پدر شاہانہ سوچ نے خواتین کی آواز کو قید کر دیا ہے۔

منیزے جہانگیر نے میڈیا ورکر کے طور پر اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے بہت طویل سفر طے کیا ہے، خواتین کے مسائل کے حوالے سے اس میں برداشت بڑھ گئی ہے اور اب خواتین کے مسائل کے حوالے سے حساسیت کا ایک خاص معیار میڈیا میں نظر آتا ہے لیکن ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ 20 سال پہلے کے مقابلے میں میڈیا میں خواتین کی جدوجہد بدل گئی ہے لیکن وہ جدوجہد ابھی جاری ہے۔

منیزے کا کہنا تھا کہ فی الحال کوئی خاتون رپورٹر وزیراعظم یا ایوان صدر کی کوریج نہیں کر رہی جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنس کے درمیان تفاوت ابھی تک غالب ہے۔

منیزے کا کہنا تھا کہ،

“ترقی کی تعریف کپڑوں سے نہیں ہوتی۔ چاہے آپ خود کو ڈھانپنے کا انتخاب کریں یا نہ کریں یہ ترقی کے لیے ایک پیمانہ نہیں ہے۔ ترقی تب ہوتی ہے جب آپ قانون سازی کرتے ہیں جس کی پیروی ادارے کرتے ہیں اور اس کے اطلاق کا طریقہ کار ہوتا ہے، ہم اسے ترقی کہتے ہیں،” ۔

پینل کے اختتاپ پرکومل نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ جب کوئی خاتون میڈیا میں فیصلہ سازی کی پوزیشن میں آتی ہے تو اسے دوسری خواتین کے لیے بھی جگہ کو یقینی بنانا چاہیے اور پدرانہ نظام کی زنجیروں کو توڑنا چاہیے۔

وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے لائبہ زینب نے کہا، کہ ڈیجیٹل میڈیا نے خواتین کو بے شک جگہ دی ہے اور انہیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ مواقع فراہم کیے ہیں۔ پھر بھی، اس جگہ کے وجود کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جدوجہد ختم ہو گئی ہے۔

کانفرنس کو ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر، فرزانہ باری اور جنت بخاری نے آگے بڑھایا جنہوں نے قانون میں خواتین کے کردار اور ان کی جدوجہد کی نوعیت پر تبادلہ خیال کیا۔

ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد خواتین کے کردار، گھریلو اور مزدور دونوں شعبوں میں ان کے حقوق کے ساتھ ساتھ پدرانہ ماحول میں موجود حکمت عملیوں کے بارے میں بات چیت شروع کرنا ہے ۔

کانفرنس کی شرکاء اور مقررین میں خوشبو بھی تھی جن کا تعلق سندھ کے ایک گاوؑں سے ہے۔ وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے خوشبو نے بتایا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں دیہی علاقوں سے آنے والی خواتین کے اعتماد کو بڑھاتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here