٢٦ ستمبر ٢٠٢٣

سٹاف رپورٹ


لاہور

پاکستان کے سینئر وکلاء نے پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان کی رہائی کے فوری بعد دوبارہ گرفتاری کو خلاف قانون قرار دیا ہے۔
وکلاء کا کہنا تھا کہ ایک مقدمے میں رہائی کے بعد کسی دوسرے مقدمے میں گرفتاری بدنیتی پر مبنی ہوتی ہے کیوں کہ قانون کی منشا یہ ہی ہوتی ہے کہ ایک شخض جب گرفتار ہو جاے تو اس کی تمام مقدمات میں گرفتاری ڈال دینی چاہئے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اگر ریاست کی یہ ہی روش برقرار رہی تو پھر عدالتوں کو کو سخت قانونی قدم  اٹھانا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ جس طرح عدالتوں نے ایمان مزاری کےمقدمے میں اپنی اتھارٹی منوائی ویسے ہی سخت حکم جاری کرنا ہوں گے  ۔
اس سے قبل جمیعت علماے اسلام کے سینٹر کامران مرتضیٰ نے آج نیوز کے پروگرام سپاٹ لائٹ میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواتین کو اس طرح لمبی قید میں رکھنا غلط ہے۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے مطابق یاسمین راشد، خدیجہ شاہ سمیت بیس سے زیادہ خواتین ایسی ہیں جو ایک سو پچاس دنوں سے زیادہ قید میں ہیں کوئی عدالت  نہ ان کو ضمانت پر رہائی دے رہی  اور نہ ہی ان پر فرد جرم عائد کی جا رہی ہے. یعنی بغیر جرم بتاے ان کو قید رکھا جا رہا ہے  ۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ  پاکستان کے قوانین اور سپریم کورٹ کے کئی فیصلے اس حوالے سے موجود ہیں  جن میں کہا گیا ہے خواتین کو صرف تین صورتوں میں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
١ اگر وہ ضمانت کے بعد فرار ہو جائیں
٢ اگر وہ ضمانت ملنے کے بعد ریکارڈ ٹمپر کریں
یا پھر وہ اپنے کے گے جرم کو دہرائیں
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تئیس ستمبر کو  صنم جاوید سمیت نو پی ٹی آئی کارکنوں کی نو مئی کے واقعات کے حوالےسے درج مقدمے میں چار مہینے کے بعد ضمانت منظور کی تھی۔
لیکن پچیس ستمبر کو جیسی ہی ان لوگوں کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا تو لاہور پولیس نے چار خواتین صنم جاوید، شاہ بانو، اسما شجاع اور افشاں طارق کو  نو مئی کے حوالے سے درج ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا اور پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔
پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی کا کہنا تھا کہ عدالتیں تو بار بار اس حوالے سے فیصلے دے رہی ہیں مگر ان کے پاس صرف قلم کی طاقت ہی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود سابق وزیر اعلی پرویز الہی کو گرفتار کرنے پر آئی جی  اسلام آباد اکبر ناصر خان  کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کر کے آئی جی   کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریار آفریدی کو ضمانت ملنے کے باوجود گرفتار کرنے پر ڈی سی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کی فرد جرم عائد کر دی ہے۔
پاکستان بار کونسل کے ممبر امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اس طرح بار بار گرفتاری کا طریقہ قانونی تو ہے لیکن اس میں بدنیتی بلکل واضح ہوتی ہے۔
وکلاء نے سیاسی لیڈرز کی بار بار گرفتاریوں کو خلاف آئین قرار دیا ہے اور نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی  سے اس حوالے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here