یہ رپورٹ کینیڈا فنڈ براے مقامی منصوبہ جات کے تعاون سے ہے

١٣ اکتوبر ٢٠٢٣ 

اسٹاف رپورٹ


پشاور

پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک چھوٹے سے پارلر کے اندر افغان لڑکیوں کی ایک بھیڑ جمع تھی جن، میں اکثریت کی عمر ١٦ سے ٢٥ سال کے درمیان تھی۔ چند لڑکیوں کے ساتھ اُنکی مائیں بھی موجود تھیں۔ پاکستان حکومت کی طرف سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے فیصلے سے متاثر ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد اُس پارلر میں موجود تھی، جن کے لبوں پر صرف ایک ہی سوال تھا۔۔۔

“جن حالات سے بھاگ کر ہم پاکستان میں پناہ لینے آئے وہ حالات تو اب اور بھی تشویشناک صورت اختیار کر گئے ہیں، تو پھر مجھے واپس اُس آگ میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟”

“انسانی ہمدردی کی بنا پر ہی سہی۔۔۔ ہمیں پاکستان میں رہنے دیں۔ ہم یہاں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔”

ننگرہار کے ضلع جلال آباد کی ١٧ سالہ *عائشہ واپسی کے فیصلے سے سخت پریشان تھی۔ اُس نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ گذشتہ سال اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان سے پاکستان آئی تھی کیونکہ اب وہاں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ عائشہ کا کہنا تھا کہ ٢٠٢١ میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد خواتین کے حقوق مسلسل ضبط کئے جا رہے ہیں۔ پہلے تعلیم، پھر ملازمت اور عوامی مقامات پر جانے سے خواتین کو روکا گیا اور پھر بیوٹی سیلون پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ اور یوں خواتین کے روزگار کا ایک باپردہ زریعہ بھی بند کر دیا گیا جس سے ہزاروں خواتین بے روز گار ہو گئیں۔

عائشہ نے سوال کیا کہ اسلام میں خواتین کے لئے پردہ تو ہے لیکن اسلام نے خواتین کی تعلیم کو تو منع نہیں کیا اور نہ خواتین کی ملازت کرنے کے حق کو۔ بلکہ اسلام نے تعلیم حاصل کرنے کا کہا ہے۔ عائشہ نے بتایا کہ جلال آباد میں کئی خواتین سیلون کے زریعے ہزاروں خواتین کے لئے بھی روزگار کا زریعہ بنی ہوئی تھیں۔ لیکن اس ایک ظالمانہ فیصلے نے نہ صرف کئی گھرانوں کے چولہے ٹھنڈے کر دئیے بلکہ خواتین کی اپنی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کئے۔

عائشہ نے بتایا کہ پاکستان آنے بعد اس چھوٹے سے پارلر میں تین ماہ کے کم عرصے میں بیوٹیشن کا کورس سیکھ لیا۔

“میں خوش تھی کہ اب میں بھی پاکستانی لڑکیوں کی طرح ہنر حاصل کر کے اپنے پاوں پر کھڑی ہونے کی کوشش کروں گی، لیکن واپسی کے فیصلے نے سب خواب چکنا چور کر دئیے۔”

پارلر میں موجود *گل بی بی، جو اپنی ١٦ سالہ بیٹی *نغمہ کے ساتھ آئی تھی، نے بتایا کہ ٩٠ کی دہائی میں آنے والے طالبان اور اب کے طالبان میں کچھ ذیادہ فرق نہیں۔ پہلے بھی خواتین پر سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ باہر نکلنا تو دور کی بات، جو خواتین چھت پر بھی نظر آتیں تو انھیں گولی مار دی جاتی۔ اب چونکہ بیچ میں ٢٠ سال کا ایک جمہوری اور آزاد دور گزرا اور ایک نسل جوان ہو گئی تو اب ایک نئی طرح سے وقفے وقفے سے پابندیاں سامنے آرہی ہیں۔

نغمہ علاقے میں اسکول مکتب نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم تھی لیکن پاکستان آنے بعد کچھ سیکھنے کی جستجو آخر اسے پارلر لے آئی۔ نغمہ کے والد کی وفات کے بعد سارے اختیار بھائی کے پاس تھا جو ٢٠٢١ میں ہی پاکستان آگیا تھا اور بورڈ بازار میں چھوٹی سے دکان چلا رہا تھا۔ وہ بہنوں کی تعلیم کے حق میں نہیں تھا لیکن ماں کے مجبور کرنے پر بہن کو بیوٹی پارلر کا کورس کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ یہ پارلر ایک غیر سرکاری تنظیم کے تحت چل رہا تھا جہاں افغان لڑکیوں کے لئے مفت مختلف ہنر سکھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

پارلر میں آنے والی خواتین میں کابل کی ایک فیشن ڈیزائنر *لائبہ بھی شامل تھی۔ ١٥ اگست ٢٠٢١ کی تبدیلی نے اسے کاروبار بند کر کے پاکستان آنے پر مجبور کر دیا۔ لائبہ کے مطابق اس کے پاس کافی بزنس تھا۔ وہ بیرون دنیا سے آن لائن آرڈر بھی وصول کرتی تھیں۔ انکے پاس کام کرنے والے عملے میں بھی خواتین بھی شامل تھیں لیکن سب کچھ ختم ہو گیا اور اب وہ پاکستان میں زیرو سے سفر شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ افغان خواتین کابل میں فیشن اور سیلون انڈسٹری کی مالک تھیں لیکن ایک حکومت کی تبدیلی نے سب کچھ ختم کر دیا۔ انھوں نے بتایا کہ صرف بیوٹی سیلون کی بندش سے تقریباً ١٢٠٠٠ خواتین کے زیرِ انتظام چلنے والے سیلون جن میں اندازاً ٦٠٠٠٠ خواتین کام کرتی تھیں وہ پابندی کی نذر ہو گئے۔ لائبہ کے مطابق ٣٠٠٠ بیوٹی سیلون دارالحکومت کابل میں صرف بند کر دئیے گئے۔

رافعیہ کو معلوم نہیں کہ اسکا شوہر ذندہ ہے یا نہیں لیکن اب وہ خودد کو ایک ذندہ لاش تصور کرتی ہے

افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی کہانی کے یہ وہ کردار تھے جو نام اور شناخت کو محفوظ رکھنے کی شرط پر سامنے آکر بات کر رہے تھے۔ لیکن کچھ ایسے تعلیم یافتہ خواتین کردار بھی ہیں جو اپنی جان بچا کر پاکستان پہنچے لیکن گھر کے واحد کفیل ہونے کے ناطے معاشی مسائل کے ہاتھوں سروائیول سیکس یا ٹرانسیکشنل سیکس پر مجبور ہوگئیں۔ ایسی ہی ایک کہانی *رافعیہ کی ہے جسکا تعلق افغانستان کے صوبہ ہرات سے ہے۔ گریجویشن تک تعلیم حاصل کرنے والی رافعیہ طالبان حکومت سے قبل ایک غیرسرکاری تنظیم کے ساتھ کام کرتی تھی۔

ایک بچے کی ماں رافعیہ کو اس وقت ذندگی کے ایک ایسے تلخ سفر کا سامنا کرنا پڑا جب ١٥ اگست کے بعد اسکا نوجوان شوہر لاپتہ ہو گیا اور طالبان اسکی جان کے پیچھے پڑ گئے۔ تب سسرال کے کچھ افراد نے اسے ملک چھوڑ کر پاکستان جانے کا مشورہ دیا اور یوں وہ جان بچا کر ٣ سالہ بچے کے ساتھ پاکستان آپہنچی لیکن بدق سمتی سے جس خاتون دوست کے پاس وہ پشاور پہنچی بیوہ ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کا واحد سہارا تھی۔ وہ ایک ٹیلر کے پاس کام کرتی تھیں۔ ایک آدھ ماہ تو اس نے دونوں ماں بیٹے کا خیال رکھا لیکن ایک روز اسے کہہ دیا گیا کہ آپ اپنے لئے کچھ بندبست کریں۔

یہ وقت روزگار کی متلاشی رافعیہ کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ وہ کسی بھی طرح اپنے بچے کے لئے کچھ نوالے کمانا چاہیتی تھی اور اسی مجبوری سے فائدہ اٹھایا اس ٹیلر نے جس نے رافعیہ کو سروائیول سیکس یا ٹرانسیکشنل سیکس کی طرف آنے کا مشورہ دیا اور اسے بتایا کہ اس کے پاس کچھ کلائنٹ بھی ہیں جن سے وہ اسکو ملا دے گا۔ اور یوں اپنی اور اپنے بچے کی جان بچاتے بچاتے رافعیہ ایک ایسے راستے پر چل پڑی جو معاشرے کے لئے کسی طور قابل قبول نہیں۔

رافعیہ کے مطابق عورتوں سے باعزت روز گار، چھت اور پرامن ذندگی چھیننے کے فیصلے انہیں معاشرتی طور پر ایسی جگہ لا کھڑا کرتے ہیں جسے پھر دیکھنا تو کیا کوئی سننا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ رافعیہ کو معلوم نہیں کہ اسکا شوہر ذندہ ہے یا نہیں لیکن اب وہ خودد کو ایک ذندہ لاش تصور کرتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here