١٢ اکتوبر ٢٠٢٣

سٹاف رپورٹ


لاہور

صداقت عباسی اور عثمان ڈار (جو مبینہ طور پر گمشدہ تھے) کے انٹرویوز نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا میڈیا کو یہ انٹرویوز کرنے چاہیے تھے یا نہیں؟ عوام میں یہ تاثر ہے کہ ان انٹرویوز سے قبل صداقت عباسی اور عثمان ڈار دونوں فوج کی حراست میں تھے اور یہ انٹرویو کسی دباوْ کے نتیجے میں دیے گئے ہیں۔ ان تاثرات کو تقویت تب ملی جب عثمان ڈار کے خاندان کی جانب سے عدالت میں ان کے اغوا کا قصہ سنایا گیا اور صداقت عباسی کی بازیابی کی درخواست پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درج کروائی گئی تھی۔ 

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق ممبر عثمان ڈار کے بعد صداقت عباسی نے بھی پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ صداقت عباسی نے یہ اعلان نجی نیوز چینل ڈان کو انٹرویو کے دوران کیا تھا۔ مزید براں، انٹرویو کے اگلے روز راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے کیسسز کے سلسلے میں صداقت علی عباسی کی ضمانت میں توسیع بھی کر دی۔

پیر (۹ اکتوبر، ۲۰۲۳) کے روز، ‘لائیو ود عادل شاہ زیب’ شو میں، سابق رکن قومی اسمبلی صداقت عباسی ایک ماہ تک مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کے بعد پہلی بار میڈیا پر نظرآئے۔

 انٹرویو کے دوران، صداقت عباسی نے عمران خان کو 9 مئی کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو بیانیہ بنایا تھا وہ بعد میں مشتعل ہجوم کے ذریعے فوجی تنصیبات پر حملوں کا باعث بنا۔

صداقت عباسی کی روپوشی

، صداقت عباسی پہلی بار یکم ستمبر کو ’لاپتہ‘ ہوئے، پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق کہ انہیں کوہسار تھانے اسلام آباد کی حدود میں نامعلوم سادہ لباس افراد نے ’اغوا‘ کیا تھا۔ اس وقت یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس ’اغوا‘ کے پیچھے اسلام آباد پولیس کا ہاتھ ہے، لیکن اس کی نہ تو تردید کی گئی اور نہ ہی تصدیق۔

درخواست دائر ہونے کے چند روز بعد 14 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے صداقت عباسی کی تلاش میں پیش رفت نہ ہونے پر کیپٹل پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پولیس سے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ریڈ زون سے غائب ہو جائے۔ 

جواب میں، کیپٹل پولیس نے عدالت میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

اس سب کے باوجود 5 اکتوبر تک صداقت عباسی کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ 

غیر معمولی’ واقعات کا ایک سلسلہ’

چند روز قبل پی ٹی آئی کے سابق رہنما عثمان ڈار کا بھی اسی نوعیت کا انٹرویو ناظرین کی توجہ کا مرکز رہا. عثمان ڈار مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے مطابق 6 ستمبرسے لاپتہ تھے۔

عثمان ڈار کے بہنوئی کی جانب سے ان کی گمشدگی کے حوالے سے ایک درخواست بھی جمع کرائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ڈار کو 9 ستمبر کو بھاری حفاظتی حصار والے ملیر چھاؤنی، کراچی، کے قریب سے سادہ لباس میں ملبوس نامعلوم افراد نے گرفتار کیا تھا۔

 ایک ماہ کی روپوشی یا مبینہ جبری گمشدگی کے بعد  دنیا نیوز کے صحافی کامران شاہد کے ساتھ ان کے گھر پر ایک انٹرویو میں نظرآئے۔ گزشتہ ایک ماہ میں عثمان ڈار کی والدہ کی جانب سے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے بارہا اپیل کی گئی تھی۔ 

 کامران شاہد سے گفتگو کے دوران عثمان ڈار نے کہا کہ 9 مئی سے کچھ روز قبل عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں احتجاج کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اسی اجلاس میں کارکنوں کو عمران خان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کا حکم دیا گیا تھا۔

 عثمان ڈار نے یہ بات بھرپور یقین کے ساتھ کی کہ عمران خان کو اسٹیبلشمینٹ کے ذرائع سے بھی معلومات موصول ہوتی رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لانگ مارچ ممکنہ طور پر جنرل عاصم منیر کی تقرری یا برطرفی پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا گیا تھا۔

اسی انٹرویو میں عثمان ڈار نے پی ٹی آئی اور سیاست سے مکمل طور پر استعفیٰ کا اعلان بھی کیا اور مزید یہ کہ انہوں نے عمران کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور اور اب یہ سفر اختتام پذیر ہو رہا ہے ۔

اپنی غیر موجودگی کے بارے میں عثمان ڈار نے وضاحت کی کہ یہ ان کی جانب سے ایک اسٹریٹجک قدم تھا اور وہ آزادانہ طور پر روپوش ہوئے تھے۔ 

اس بیانیے کے بر عکس عثمان ڈار کی والدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں اور انٹرویو کے بعد بھی مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کوعثمان ڈار پر دباو٘ کی وجہ قرار دیتی نظر آئی ہیں۔ 

عثمان ڈار کی والدہ کا کہنا تھا کہ، ” خواجہ آصف، تم جو چاہتے تھے وہ تم نے عثمان ڈار کو گن پائنٹ پہ رکھ کر اپنے مقاصد کو پورا کیا ہے۔” 

‘صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے’

 اکتوبر کی پانچ تاریخ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم (سابقہ ٹویٹر) پر انکشاف ہوا کہ صحافی عادل شاہ زیب نے ڈان کے لیے صداقت عباسی کا انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔ یہ انکشاف صحافی علی مصطفیٰ کی جانب سے کیا گیا کہ عباسی کو ایک ملٹری اہلکار کی سربراہی میں ڈان نیوز کے دفتر لایا گیا تھا اور وہاں صداقت عباسی کا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا تھا جو کہ بعد میں میڈیا آؤٹ لیٹ کی انتظامیہ نے نشر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بعد میں، ایک تفصیلی بلاگ میں، اسلام آباد میں مقیم صحافی اسد علی طور نے صداقت عباسی کے انٹرویو سے متعلقہ حالات کے بارے میں تفصیلات فراہم کی۔

اسد علی طور کے مطابق، صداقت عباسی کو رات گئے دو ویگو گاڑیوں میں ڈان نیوز کے دفتر لایا گیا، مبینہ طور پر سادہ لباس میں ملبوس افراد بھی ان کے ساتھ تھے۔ طور کی رپورٹ کے مطابق عادل شاہزیب کی ٹیم وہاں پہلےہی صداقت عبا سی کے منتظر تھے لیکن اسد علی طور کے ذرائع نے اشارہ کیا کہ ڈان کی اعلیٰ انتظامیہ کو اس انٹرویو سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

 اسد علی طور کے مطابق صداقت عباسی حواس باختہ دکھائی دے تھے اور اسٹوڈیو میں پہلے بھی بارہا آنے کے باوجود وہ جگہ کہ پہچان نہیں پا رہے تھے۔  

اس انٹرویو کی خبر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی۔ ڈان کے انٹرویو کو مبینہ طور پر ’ڈیلیٹ‘ کرنے کے فیصلے کو مختلف لوگوں کی جانب سے سراہا گیا۔ تاہم، انٹرویو میں کیا بات چیت کی گئی اس کے بارے میں تفصیلات سوشل میڈیا پر موجود تھیں۔ 

طور کے بلاگ کے ایک دن بعد، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں صداقت عباسی کو اپنی والدہ سے ملتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ وہ بظاہر جذباتی دکھائی دے رہے تھے، جب کہ صداقت کی والدہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر رو رہی تھی۔

کچھ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات 3 اکتوبر کو اس وقت ہوئی جب راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں 10 اکتوبر تک ایک مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری دی۔

تین دن بعد، ڈان سے وابستہ ایک ممتاز صحافی عارفہ نور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا کہ “صحافت کا جنازہ ہے، زرا جھوم سے نکلے”۔ اس پوسٹ کے فوراً بعد صداقت عباسی کا شاہزیب عادل کے ساتھ انٹرویو نشر ہوا۔

اس کے بعد، انٹرویو کی ساکھ اور مادہ کے بارے میں بات چیت کا آغاز ہوا۔ پروگرام کا آغاز عادل نے اسرائیل-فلسطین تنازعہ پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اور وقفے کے بعد، صداقت عباسی کے انٹرویو کا آغاز کیا گیا جو کہ عادل شاہزیب کے مطابق کچھ دن پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 

انٹرویو کے دوران عباسی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے روپوش ہونے کا انتخاب آزادانہ طور پر کیا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ گلگت بلتستان میں تھے۔ انہوں نے اپنے خلاف درج متعدد ایف آئی آرز کا حوالہ دیتے ہوئے قانونی نتائج کا خدشہ ظاہر کیا۔

  بات کرتے ہو ئے صداقت عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ مروجہ بیانیے کی وجہ سے وہ مزید پی ٹی آئی کے رکن کے طور پر اپنی خدمات سر انجام نہیں دے سکتے اور سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ 

اور اس اعلان کے ساتھ صداقت عباسی، ڈار، فواد چوہدری، شیریں مزاری اور پرویز خٹک سمیت سیاستدانوں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئے، جنہوں نے 9 مئی کے فسادات کے بعد عمران خان اور ان کی پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

انٹرویو کا ماحول کچھ مختلف تھا کیونکہ صداقت عباسی بظاہر بے چین دکھائی دے رہے تھے۔ انہیں اکثر اپنی نظریں بدلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اور ان کی ذبان میں بہت معمولی ہکلاہٹ موجود تھی۔  

انٹرویو کے دوران ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب اینکر پرسن کے فون کی گھنٹی بجی، جو کہ قائم شدہ نیوز رومز میں غیر معمولی عمل ہے۔ 

یاد رہے کہ اسد علی طور اور علی مصطفیٰ کے مطابق صداقت عباسی ڈان نیوز کے دفتر اکیلے نہیں آئے تھے۔ 

صحافی منصور علی خان نے انٹرویو کے مواد کا جائزہ لیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صداقت عباسی کو اس سے پہلے کبھی اس قدر میک ایپ میں نہیں دیکھا تھا۔ 

سوشل میڈیا صارفین نے انٹرویو کے دوران عباسی پر ہونے والے دباؤ کے بارے میں اپنے نظریات بیان کرتے ہوئے کہا کہ، ان کے چہرے پرلال نشانات بھی تھے۔

انٹرویو کے مجموعی تناظرکے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لیتی رہی ہیں۔ صحافی حسن علی نقوی نے شاہ زیب کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “صحافی عادل شاہزیب سے آج  رابطہ ہوا انکے مطابق وہ فی الحال کمپنی کی پالیسیز کی وجہ سے مجبور ہیں لیکن جس دن انکو ادارے کی طرف سے اجازت مل گئی تو اس دن وہ منفی پراپگینڈا کرنے والوں کی طبیعت صاف کر دینگے”۔

صحافیوں کا میڈیا کی موجودہ حالت پر افسوس کا اظہار

وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکرٹری جنرل، نا صر زیدی نے کہا کہ میڈیا ورکرز پر ایک ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص اگر کو ئی بیان دے رہا ہے تو اس بات کو بھی منظرِعام پر لایا جا ئے کہ وہ کن حالات میں یہ بیان دے رہا ہے۔  

 نا صر زیدی کے مطابق میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں پہلوؤں کو پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ “صحافت کی اخلاقیات کے تحت، اینکر پرسنز کو یہ انٹرویو کرتے ہوئے عثمان ڈار اور صداقت عباسی کی نفسیاتی حالت کے بارے میں بھی رپورٹنگ کرنی چاہیے تھی۔”

‘میڈیا ایسی سنسر شپ کا شکار ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔’

جنرل ضیاء الحق کے دور میں آزادی اظہار کی جدوجہد کرنے والے  ناصر زیدی نے یہ محسوس کیا کہ صداقت عباسی کے انٹرویو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اس وقت پاکستان کا پریس اور میڈیا ایسی سنسر شپ کا شکار ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔

ناصر زیدی کے مطابق، “یہ پریس پر بدترین قسم کا حملہ ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پریس پر اس طرح کی سنسر شپ کبھی نہیں ہوئی جتنی اب ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔ سنسرشپ کی ایک شکل لائیو سنسرشپ ہے، اس کی دوسری شکل وہ ہے جو پالیسیوں کے ذریعے ان دیکھی طاقتوں کی طرف سے مسلط کی جاتی ہے، اور تیسری وہ ہے جہاں میڈیا مالکان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کیا شائع کرنا ہے اور کیا نہیں شائع کرنا ہے۔ اس وقت، سنسرشپ کی یہ تینوں شکلیں موجود ہیں”۔

 ناصر زیدی کا مزید کہنا تھا کہ، ”پاکستان کا پریس ایک خطرناک  بحران میں ہے۔ صحافیوں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، پرنٹ میڈیا ختم ہو رہا ہے، اور کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ میڈیا مالکان، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا اتحاد پریس کا گلا گھونٹ رہا ہے”۔

کامران نے یہ انٹرویو کر کے اپنے پورے کیریئر کو داغدار کر دیا ہے

‘کامران شاہد نے یہ انٹرویو کر کے اپنے پورے کیریئر کو داغدار کر دیا ہے۔’ 

تجربہ کار صحافی خاور نعیم ہاشمی، جنہیں ناصر زیدی کے ساتھ ہی ضیاء دور میں آزادی صحافت کی وکالت کرنے پر سرعام کوڑے مارے گئے تھے، بولے کہ صحافیوں کے ہاتھ سے یہ اختیار چھینا جا چکا ہے کہ کیا نشر اور چھپایا جا سکتا ہے اور اب اس کا تمام تر اختیار نجی میڈیا مالکان کے ہاتھ میں ہے۔ 

 مگریہ بھی ضروری ہے کہ جب کوئی صحافی اپنے الفاظ تحریری طور پر یا تقریر میں استعمال کرتا ہے، تو اسے اپنے ذاتی نظریات کو ترجیح نہیں دینی چاہیے، خاور نعیم نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

عثمان ڈار کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا کہ کامران شاہد نے سابق پی ٹی آئی رہنما کی گمشدگی اور بیانیہ میں اچانک تبدیلی کو قطع نظر کر کے انٹرویو کیا۔ 

نعیم خاور نے کہا کہ، ’’میں کامران شاہد کے ساتھ ساتھ ان کے والد کا بھی بڑا مداح تھا۔ میری رائے میں [کامران شاہد] پاکستان کے بے باک اینکرز میں سے ایک ہیں۔ لیکن جب میں نے [عثمان ڈار] کا انٹرویو دیکھا تو [یہ ظاہر تھا] کہ یہ انٹرویو زبردستی کیا گیا تھا۔ کامران شاہد کو یہ ’سپانسرڈ‘ انٹرویو لینے سے انکار کر دینا چاہیے تھا۔ کامران نے یہ انٹرویو کر کے اپنے پورے کیریئر کو داغدار کر دیا ہے۔”

‘یہ انٹرویوز جرم  کی حوصلہ افزائی کرنے کے ذمرے میں شامل ہوتے ہیں’ 

صحافی منیزے جہانگیر نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، “یہ واضح نہیں ہے کہ ایٹرویوز کے دوران انٹرویو دینے والے افراد [عثمان ڈار اور صداقت عباسی] سیکیورٹی ایجنسیوں کی ‘غیر قانونی’ حراست میں تھے یا نہیں اور اگر انہیں سیکیورٹی ایجنسیوں کی غیر قانونی حراست میں لایا گیا تھا تو ان کا انٹرویوواضح طور پر دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔ اور میڈیا کو کسی ایسے شخص کا بیان ریکارڈ نہیں کرنا چاہیے تھا جن پر کوئی واضح دباوْ تھا”۔ 

منیزے جہانگیر نے مزید کہا، “مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف غیر اخلاقی نہیں ہے، یہ انٹرویوز جرم کی حوصلہ افزائی کرنے کے ذمرے میں شامل ہو”۔

پاکستان کا میڈیا ایک غیر اعلانیہ سنسر شپ کی زد میں ہے’

ایوارڈ یافتہ صحافی اور کالم نگار حامد میر نے کہا کہ جس فیشن کے ساتھ ڈار اور عباسی کے انٹرویوز کیے گئے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ کہ ’پاور پلئیرز اور اسٹیک ہولڈرز‘ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان انٹرویوز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا میڈیا ایک غیر اعلانیہ سنسر شپ کی زد میں ہے۔

سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ میڈیا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب عمران خان وزیر اعظم تھے تب بھی یہی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے تھے اور اب نگران حکومت میں عمران خان کے خلاف وہی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ جو لوگ پہلے یہ کام کر رہے تھے وہی اب کر رہے ہیں، انہوں نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا،” حامد میر نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ کو بتایا، “عثمان ڈار اور صداقت عباسی کے انٹرویوز پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی بھی سراسر خلاف ورزی ہیں”۔

حامد میر کے مطابق ان انٹرویوزسے ایک بات یہ واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں صحافتی تنظیمیں ان عناصر کی مدگار ہیں کیوں کہ اب تک وہ خاموشی کا سہارا لیے بیٹھے ہیں۔

“ان دو انٹرویوز کے بدولت صرف دو میڈیا چینلز کو ہی نہیں بلکہ پورے میڈیا کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ بحیثیت صحافی اور ٹی وی اینکر، مجھے اس گندے میڈیا سے وابستہ ہونے پر شرم آتی ہے۔‘‘

حامد میر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ 

کیا میڈیا کسی جرم میں شریک ہے؟ 

سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ عابد ساقی نے وضاحت کی کہ کامران شاہد اور عادل شاہ زیب جیسے صحافی بھی ایک دباوْ میں یہ انٹرویوز کر رہے ہیں ان کو شریکِ جرم کہنا ایک زیادتی ہے۔ 

آزادی کے بعد آزادی اظہار کی جدوجہد

پاکستان کی 76 سالہ تاریخ پریس پر جبر کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ صدر جنرل محمد ایوب خان کے دور میں پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں حکومت کو پریس پر وسیع کنٹرول دیا گیا۔ اس آرڈینینس کے مطابق  حکومت کے پاس ایسی کسی بھی اشاعت پر پابندی لگانے کا اختیار شامل ہے جو “پاکستان میں قانون کے ذریعے قائم کی گئی حکومت سے نفرت یا توہین کا باعث بنے۔”

جب کہ اس دور میں صحافیوں کی گرفتاریاں بھی دیکھنے میں آئیں، جنرل محمد ضیاء الحق (1978-1988) کے دور میں آزادی اظہار پر ریاستی جبر اور تنقید کے خلاف انتقامی کارروائیاں عروج پر تھیں۔ ہر خبر کے ٹکڑے کو حکومتی منظوری لینا ضروری تھا – اس مقصد کے لیے پرنٹنگ کے لیے تیار اخبا رات کو محکمہ اطلاعات میں لے جایا جاتا تھا جہاں تعینات افسران ہر خط اور تصویر کی جانچ پڑتال کرتے تھے۔ اگر کوئی قابل اعتراض مواد (خاص طور پر حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تنقید) نظرآتی تو افسر اسے حتمی پرنٹ سے ہٹانے کی ہدایت کرتے۔

سنسر شپ کے اس دور کے ابتدائی دنوں میں اخبارات قارئین کو یہ بتانے کے لیے خالی جگہ چھوڑ دیتے تھے کہ جان بوجھ کر معلومات کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے حکام نے پریس کو نئے احکامات جاری کیے کہ خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لیے اضافی خبریں شامل کریں۔

اکتوبر 1979 کو کراچی سے شائع ہونے والے روزنامہ مصوّت اور روزنامہ صداقت ضیاء کے دور میں صحافت کی پہلی ہلاکتیں تھیں، فوج کی ہدایت پر سندھ حکومت نے ان کی اشاعت پر پابندی عائد کی تھی۔

مئی 1978 میں فوجی عدالتوں نے مارشل لاء کے ضوابط 5 اور 33 کے تحت 11 صحافیوں کو کھلی جگہ پر جلسے کرنے، بینرز آویزاں کرنے، ریاست مخالف نعرے لگانے اور بھوک ہڑتال کرنے پر سزا سنائی۔ سزا یافتہ لوگوں میں  مسعود اللہ خان، اقبال جعفری، خاور نعیم ہاشمی اور ناصر زیدی پہلے چار صحافی تھے جنہیں پاکستان اور برصغیر کی تاریخ میں سرعام کوڑے مارے گئے تھے۔ 

جنرل ضیاء الحق کی بے وقت اور المناک موت پریس اور صحافی برادری کے لیے نویدِ صبح تھی۔  

مارشل لاء کے چوتھے دور میں، جب جنرل پرویز مشرف 1999 سے 2008 تک انچارج تھے تو پاکستان میں میڈیا کی ملکیت رکھنے والی کمپنیاں بڑی ہو گئیں۔ لیکن پھر بھی ان پر سنسرشپ کا ایک بوجھ مسلسل تھا کہ وہ کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ 2002 میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) آرڈیننس کے نام سے ایک قانون بنایا گیا۔ اس سے حکومت کو الیکٹرانک میڈیا پر اور زیادہ طاقت مل گئی۔ اس سے ان کے لیے صحافیوں کو پریشان کرنا، ڈرانا، اور یہاں تک کہ تکلیف دینا آسان ہو گیا۔ وہ کچھ چینلز اوراینکر پرسنز کو بات کرنے سے بھی مکمل طور پر روک سکتے تھے۔

پریس اور میڈیا سنسرشپ کے تازہ ترین دور کا ایک قصہ  9 مئی 2023 کے واقعات ہیں، جب عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہوا، جن میں سے اکثر میں فوجی عمارتوں اور یادگاروں پر حملے کیے گئے۔ بعد ازاں پرنٹ اور براڈکاسٹ میڈیا کو  عمران خان کی فوٹیج/تصاویر کا ذکر کرنے یا شیئر کرنے سے روک دیا گیا، جب کہ سیاسی صحافیوں اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے یا اس کے ساتھ وابستہ یوٹیوبرز کو حراست میں لے لیا گیا۔

گیارہ مئی کی صبح کو، پولیس نے عمران ریاض خان کو سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ اسی دن لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی رہائی کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے تھے۔مگر تقریباً رات 10:30 بجے جیل کے احاطے سے باہر نکلنے کے بعد، وہ مبینہ طور پر لاپتہ ہو ئے اور چار مہینے بعد خاموشی سے اپنے گھر آ پہنچے۔

عمران ریاض خان کی گمشدگی اور واپسی صحافت کی آزادی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here