١٧ اکتوبر ٢٠٢٣

تحریر: مریم مثال


لاہور

پنجاب بھر میں اساتذہ کا اسکولوں کی نجکاری اور پینشن کے قوانین میں ترامیم کے خلاف احتجاج تعلیمی بائیکاٹ کی صورت میں جاری ہے۔ پنجاب بھر میں اسکولوں کی کئی دن کی بندش کے باوجود نگران حکومت کا اپنے فیصلے پر نظرثانی کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

پنجاب بھر میں اساتذہ 1000 اسکولوں کو غیر سرکاری تنظیم (این جی او) مسلم ہینڈز پاکستان کو دینے کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

12 اکتوبر کو پولیس نے لاہور میں احتجاج کرنے والے 200 سے زائد اساتذہ و سرکاری ملازمین کو گرفتار کرلیا تھا۔ اساتذہ کے خلاف درج ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی شک نمبر 324 یعنی قتلِ عمد بھی شامل کی گئی تھی۔

13 اکتوبر کو پنجاب پولیس کی جانب سے گرفتار اساتذہ کی دس روزہ جوڈیشیل ریمانڈ کی استدعا لاہور میں مقامی کچہری میں کی گئی جس کے جواب میں جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے اپنے مطالبات کیلئے احتجاج کرنیوالے گرفتار اساتذہ کو مقدمے سے ڈسچارج کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

جوڈیشیل مجیسٹریٹ کے فیصلے کے باوجود لاہور کی ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر کی جانب سے 13 اکتوبر کو مظاہرین کے خلاف پبلک آرڈر آرڈینینس کے تحت نظر بندی کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد مظاہرین کو پنجاب پولیس نے کوٹ لکھ پت جیل منتقل کیا۔

16 اکتوبر کو پنجاب پولیس کو مجیسٹریٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر لاہور ہائی کورٹ میں جواب دہ بھی ہونا پڑا مگر تا حال اپنے اساتذہ کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔

اساتذہ کے مطالبات

پنجاب ٹیچرز یونین کے ممبران نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا منصوبہ صرف 1000 نہیں بلکہ 10,000 اداروں پر محیط ہے۔ اساتذہ کے مطابق حکومت بنیادی طور پر ان اسکولوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جن کے اعلیٰ انفراسٹرکچر ہیں۔ ان تمام تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ حکومت بہتری کے لیے ذیلی انفراسٹرکچر والے اسکولوں کو این جی اوز کو منتقل کرنے پر غور کیوں نہیں کر رہی ہے۔

وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے ایک دیہی علاقے میں پڑھانے والی ایک خاتون ٹیچر کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ اسکول میں والدین بچوں کی بیس روپے فیس دینے سے گھبراتے ہیں اور اگر یہ فیس بڑھا کر دو ہزار کر دی گئی تو بچوں کی تعلیم پر ایک سوالیہ نشان ہو گا۔

پنجاب ٹیچرز یونین کے صدر، غلام محی الدین، کے مطابق اساتذہ کے مطالبات اسکولوں کی نجکاری تک محدود نہیں ہیں بلکہ اساتذہ کی پینشن میں کمی بھی احتجاج کی بڑی وجہ ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملازمین کو پینشن بیسک پے کے مطابق نہیں ملے بلکہ ملازمت کے آخری تین مہینوں کی جامع تنخواہ کی ایوریج کی ایک خاص شرح موصول ہو گی۔

پینشن میں کمی کے ساتھ ساتھ لیو ان کیشمینٹ میں کمی اساتذہ کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

لیو ان کیشمینٹ سے مراد ایک سال کے برابر کی وہ چھٹیاں ہیں جو ایک ملازم نے اپنی ملازمت کے دوران استعمال نہیں کیں۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ان غیر استعمال شدہ چھٹیوں کے برابر ملازم کو پیسے دیے جاتے ہیں جو کہ انکی رننگ یعنی حالیہ تنخواہ سے مختص کیے جاتے ہیں۔ مگر پنجاب حکومت کے نئے اقدامات کے مطابق لیو ان کیشمینٹ حالیہ تنخواہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس تنخواہ کی بنیاد پر دی جائے گی جو ملازم کی بھرتی کے وقت مختص کی گئی تھی چاہے وہ کئی سال پہلے ہی کیوں نہ ہو۔

وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں ایک ٹیچر کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے ملازمت کا ایک لمبا عرصہ اس امید میں گزارا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم دے ضروریات پوری کر سکوں گی مگر اب وہ امید باقی نہیں ہے۔

“میں نے اپنی زندگی کے 40 سال شعبہ تعلیم کو دیے اور میری تنخواہ میں سے ہر مہینے تقریبا 30 سے 35 ہزار تک کٹوتی ہوتی رہی گریجویٹی، پینشن کے نام پہ یا جی پی فنڈ کے نام پہ۔ اس وقت جب میری ریٹائرمینٹ میں دو ماہ باقی ہیں اب حکومت کی جانب سے ہمارا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔ ہماری پینشن اور گریجویٹی سے لاکھوں روپیہ کاٹا جا رہا ہے اور جو ہمارا حق تھا وہ ہم سے چھینا جا رہا ہے۔”

سوشل میڈیا پر اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباہ کا احتجاج بھی جاری ہے۔ طلباہ کی اپیل ہے کہ ہمارے اسکولوں کو نجی نہ کیا جائے کیونکہ وہ ان اسکولوں کی فیسز نہیں دے سکتے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here