یہ رپورٹ کینیڈا فنڈ براے مقامی منصوبہ جات کے تعاون سے ہے

٣  نومبر ٢٠٢٣

تحریر: فرزانہ علی


لنڈی کوتل

لنڈی کوتل ہولڈنگ کیمپ میں داخل ہوتے ہی میری نظرحمزہ بابا کے مزار کی دیوار کے ساتھ بیٹھی کچھ خواتین پر پڑی ۔بچوں کے ساتھ زمین پر بیٹھی ان خواتین نے مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تو میں ان کی طرف بڑھ گئی ۔کالی چادر میں لپٹی 60 -65 سال کی صبہیہ بی بی کو میں نے پہلی نظر میں افغان سمجھا لیکن بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ لنڈی کوتل کی رہائشی ہیں اور وہ انکی پڑوسن کے ساتھ افغان مہمان خواتین کو خداحافظ کہنے اور انکا غم غلط کرنے آئی ہیں

غم غلط کرنے کا کیا مطلب ۔۔۔میں نے حیرت سے پوچھا

ہاں غم ہی تو ہے ۔پوچھو زرا اس سے کہ یہاں کی پیدائش ہے ۔والدین بھائی سب یہاں ہیں لیکن اب اس کو اور اس کے شوہر کو کہا جا رہا ہے کہ آپ غیر قانونی ہو ۔

صبیہیہ نے پاس ہی بیٹھی مٹیالے رنگ کی چادر میں لپٹی نوجوان عورت کی طر ف اشارہ کیا ۔
میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا پڑی

صبیہیہ بی بی آپ انکا غم غلط کرنے آئی ہیں اور وہ مسکرا رہی ہیں ۔۔میں نے شرارتا صبیہیہ کو چھیڑا تو وہ بولی تمھیں کیا پتہ کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کیا ہے

میں باتیں کرتے کرتے انکے درمیان بیٹھ گئی ۔
کیا میں آپ سے بات کر سکتی ہوں ۔۔میں نے مٹیالے رنگ کی چادر میں لپٹی نوجوان عورت کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

ہاں کیوں نہیں

آپ کا نام کیا ہے

زرغونہ

عمر کیا ہے آپ کی

30 سال

شادی شدہ ہو

ہاں چار بچے بھی ہیں ۔دو بیٹے اور دو بیٹیاں

زرغونہ نے بتایا کہ وہ اور اس کا شوہر افغانستان کے صوبہ نگرہار سے ہیں لیکن ان دونوں کی پیدائش پاکستان میں ہوئی کیونکہ ان کے والدین 40 سال قبل پاکستان آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔زرغونہ کے والدین اور بھائیوں نے کچھ سال قبل اپنے افغان کارڈز بنا لئے لیکن زرغونہ کا شوہر اس وقت ایران میں مزدوری کے لئے گیا تھا اس لئے انکے کارڈز نہیں بن سکے ۔اور یہی غلطی آج اُنکی واپسی کا سبب بن رہی تھی ۔
زرغونہ نے بتایا کہ وہ حسن ابدال میں رہتے تھے اور اسکا شوہر کباڑی کا کام کرتا تھا لیکن کچھ روز قبل ہی اسے پولیس نے گرفتار کر لیا اور پھر پولیس کو رشوت دے کر اُسے چھڑانا پڑا ۔جسکے بعد انھوں نے واپس افغانستان جانے کا فیصلہ کر لیا ۔

جانے کے فیصلے سے افسردہ ہو ۔۔میرے منہ سے اچانک ایسا سوال نکل گیا جسکا جواب مجھے پتہ تھا لیکن نجانے کیوں پوچھ لیا ۔

ہاں بہت زیادہ ۔۔میری پڑوسنیں بھی رو رہی تھیں لیکن کیا کریں یہاں رہے تو ہر روز شوہر کو چھڑوانے کے لئے پیسے بھرنا پڑیں گے اسلئے جانے میں ہی بہتری ہے

وہاں کوئی رہائش یا روز گار کا کوئی انتظام ہے ۔میں نے ایک اور سوال داغ دیا

میرے سوال پر وہ ہنس پڑی ۔تم بھی عجیب ہو ۔میں اور میرا شوہر پہلے بار وہاں جا رہے ہیں ۔ہمارے والدین کے گھر تو 40 سال میں گھنڈر بن گئے ۔ہاں ایک بہن وہاں بیاہی ہوئی ہے اس کے کچے گھر میں دو کمرے ہیں ۔اُس سے منت کی ہے کہ ایک کمرہ کچھ عرصے کے لئے ہمیں دے دو اور وہ راضی ہے تو اسی کے پاس جائیں گے لیکن دعا ہے کہ ہماراملک آباد ہو جائے تاکہ ہمیں واپس یہاں نہ آنا پڑے کیونکہ کل کی رات بہت بھاری تھی ۔اس کھلے آسمان تلے ایک چٹائی بچھائے اپنے بچوں کو ساری رات خنکی سے بچاتی رہی ۔

زرغونہ بہت ہی ہنس مکھ خاتون تھی بعد میں گپ شپ کے دوران جب میں نے اس پوچھا کہ اتنی غربت میں اتنے بچے ۔۔۔مشکل نہیں ہوتی

تو وہ ہنس پڑی اور کہا کہ میرے تو صرف چار ہیں ہمارے ہاں تو کم از کم 10 کا رواج ہے ۔۔اور فکر مت کرو باقی میں افغانستان جا کر برابر کروں گی ۔

تمام عورتیں ہنس پڑیں اور میں حیران ہو کر زرغونہ کو دیکھنے لگی ۔رات بھر بچوں کو خنکی سے بچانے کے لئے جاگنے اور اب چار بچوں میں کسی کی طرف سے دئیے گئے دو بُٹھے اور چاول کا ایک بکس بانٹے والی 30 سالہ یہ خاتون تکالیف اور مشکلات کو کس خنداں پیشانی سے برداشت کر ہی تھی ۔وہ یقینا اپنی مثال آپ تھا

صبیہیہ نے زرغونہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا کہ

“فکر نہ کرو اللہ خیر کرے گا ۔ہمارے تجارت والے کہتے ہیں کہ تمھارا ملک میرے لنڈی کوتل سے کم از کم اچھا ہے جہاں پانی ۔کھیت اور باغات ہیں ۔ یہاں تو کیکر ہیں جنھیں صرف جلایا جا سکتا ہے ”
اسی میدان کے کونے میں بیٹھا ایک خاندان گل زمان کا بھی تھا چار دہائیوں سے کراچی میں رہائش پذیر اس خاندان کی بیٹیاں سکول کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔جن میں ایک نازیہ بھی تھی جو کراچی کے ایک سکول میں پڑھتی تھی 15 سالہ نازیہ کو افغانستان جانا پڑ رہا تھا ۔ اُن گلی کوچوں کو چھوڑنا جہاں آپکا بچپن گزرا ہو یقینا مشکل ہے اور پھر سکھیوں کی جدائی ۔۔۔نازیہ دہری مشکل کا شکار تھی

“یہاں تو کچھ نہ کچھ تعلیم حاصل کر لی لیکن وہاں جا کر کیا کروں گی “

نازیہ کی ننھی کزنیں بھی سہیلوں کے بچھڑنے کی شکایت لے کر میرے گرد جمع ہو گئیں ۔

پہلی ،دوسری اور پر تسیری میں پڑنے والی سائرہ ،صفیہ اور گل کے لبوں پر دو ہی باتیں تھیں ۔۔۔سکول اور سہیلی چھوٹ گئی۔

اور میں سوچ رہی تھی کہ بچییوں کو سہیلی تو افغانستان میں بھی مل جائے گی لیکن کیا سکول مل پائے گا ؟

یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم تھا جسکا جواب پوری دنیا گذشتہ دو سال سے زائد عرصے سے تلاش رہی ہے لیکن جواب دینے والوں کے پاس بھی فی الحال جواب نہیں ہے ۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here