۲۸ نومبر ۲۰۲۳
تحریر : اعتزاز ابرہیم


لاہور

تربت میں سی ٹی ڈی کی مبینہ کارروائی میں چار بلوچ نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا چھٹے روز میں داخل ۔تربت کے سیشن جج کے آرڈر کے باوجود کارروائی میں شامل اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر تاحال درج نہ ہو سکی

دھرنا سی ٹی ڈی کی مبینہ کارروائی میں مارے جانے والے بلوچ نوجوان بالاچ مولا بخش کے گھر والوں کی طرف سے دیا جارہا ہے جس میں سول سوسائٹی کے ساتھ عوام کی بڑی تعداد شریک ہے ۔
گزشتہ روز بالاچ کی بہن نجمہ بلوچ کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے لے جایا گیا اور مذ١کرات ناکام رہے ۔شرکاء کا مطالبہ ہے کہ کارروائی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر کے کارروائی کا آغاز کیا جائے ۔

آج نیوز کے پروگرام اسپاٹ لائٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق جج بلوچستان ہائی کورٹ ظہور شہوانی کا کہنا تھا کہ

“بالاچ کے وکیل مطابق جب سی ٹی ڈی والوں نے بالاچ کا ریمانڈ لیا تو اس کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا اور سی ٹی ڈی کی کارروائی میں جن کو دہشت گرد کہا جارہا ہے وہ تو مارے گئے لیکن فائرنگ کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے کسی بھی بندے کو خراش تک نہیں آئی۔

شہوانی کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔

“عدالت اپنے اختیارات استعمال کریں تو بہت کچھ کر سکتی ہیں مگر بلوچستان کی عدالتیں مفلوج ہیں،
توہین عدالت میں تفتیشی اور ایس ایچ او کو بلایا جاسکتا ہے مگر یہاں ادارے معذور ہیں کوئی ایسا کام نہیں کر سکتی جس سے لوگوں کی داد رسی ہو سکے “

انسانی حقوق کے رہنما غنی پرواز کا کہنا تھا کہ

” بالاچ کے خاندان کی طرف سے مسلسل احتجاج اور عدالت کے احکامات کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کر رہی”

تربت میں جاری دھرنے کی حمایت میں لاہور اور اسلام آباد میں بھی یکجہتی مظاہرے کیا جا رہیں ہیں ۔

بالاچ کی فیملی کے مطابق ان کو 29 اکتوبر کو گھر سے اٹھایا کیا گیا جبکہ سی ٹی ڈی کے مطابق ان کو 20 نومبر کو پانچ کلو بارودی مواد کے ساتھ گرفتار کر کے عدالت سے انکا ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ اور بعد ازاں بالاچ کی نشان دہی پر ان کے دوسرے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے لا جایا گیا جہاں وہ ساتھیوں کی ہی فائرنگ میں مارے جاں بحق ہو گئے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here