٢٩ دسمبر ٢٠٢٣

سٹاف رپورٹ


لاہور

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آئی نائن میں واقع سینٹ جونز عوامی چرچ پر مبینہ طور پر ۲۶ دسمبر کی رات کرسمس کے دوسرے روز کی دعائیہ تقریب کے دوران چھ مسلح افراد نے چرچ پر حملہ کیا ۔اور چرچ کے پاسٹر پر تشتدد کرتے ہوئے گن پوائنٹ پر انتظامیہ کے دو افراد کو اغوا کر کے لے گئے۔

واقع کی ایف آئی آر چرچ کے پاسٹر عمران مسیح کی مدعیت آئی نائن میں درج کی گئی ۔ ایف آئی آر کے مطابق ۲۶ دسمبر کی رات کرسمس کی دعائیہ تقریب کے دوران سہیل اٹھوال ، آصف چھٹہ ، مٹھو نامی اور دیگر تین نامعلوم افراد کے ساتھ مسلح ہو کر چرچ پر حملہ اوار ہوئے اور پاسٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور گن پوائنٹ پر چرچ انتظامیہ کے دو بندے بابر مسیح ، اور عارف گلزار کو گن پوائنٹ پر اغواء کر کہ لے گئے اور چرچ کو تالہ لگا دیا۔

چرچ کے پاسٹر عمران مسیح نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ
ملزمان ریکارڈ یافتہ لوگوں ہیں ان پر پہلے بھی منشیات فروشی کے مقدمات درج ہیں ۔ کرسمس کے دوسرے روز دعائیہ تقریب کے دوران ملزمان اسحلہ سمیت چرچ پر حملے آور ہوئے اور میرے سے چرچ کی چابی مانگی۔اور میرے انکار کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا ۔چرچ کی ملکیت میں تین کینال کی اراضی ہے جس میں ایک کینال پر چرچ کی بلڈنگ موجود ہے ملزمان چرچ کی باقی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے پہلے پر بھی یہ چرچ کی زمین پر قبضے کی کوشش کر چکے ہیں۔

 

سینٹ جونز عوامی چرچ

چرچ پر حملے کے واقع پرانڈسٹریل زون کے ایس پی خان زیب نے نوٹس لیا اورملزمان کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے جس پر آئی نائن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سہیل اٹھوال کو گرفتارکیا اور ملزم کی تحویل سے چرچ انتظامیہ کے دنوں افراد کو بازیاب کرایا پولیس کے مطابق باقی ملزمان کی تلاش اور واقع کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں ۔

پاکستان میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے کا یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے اس سے قبل ۱۶ اگست کو صوبہ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں مسیحی آبادی میں مشتعل ہجوم نے 19 گرجا گھروں اور مسیحی عبادت گاہوں کے علاوہ 86 مکانات کو آگ لگائی اور ان میں توڑ پھوڑ کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here