١٩ دسمبر ٢٠٢٣

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

بلوچستان کے شہر تربت میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں بالاچ مولا بخش کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشد گیوں کے خلاف تربت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ تمام تر تررکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اسلام کی طرف گامزن ہے۔لانگ مارچ اس وقت ڈیرہ غازی خان سے تونسہ کی طرف جاری ہے۔

ڈیرہ غاری خان میں مارچ کے شرکا کو پولیس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور پولیس نے معتدد شرکا کو دفعہ 144 کی خلاف وزی پرگرفتار کیا ۔ اور انتظامیہ نے ٹرانسپورٹرز کو مارچ کے لیے ٹرانسپورٹ مہیا کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ جو بعد میں شرکا کے شدید احتجاج پر ٖختم کرنی پڑی۔

مارچ کے منتظمین اور شر کا پر اس وقت تک نال ، خضدار اور کوہلو کے علاقوں میں دہشت گردی کی دفعات کے تخت تین مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

مارچ میں لاپتہ خاندانوں کے افراد کے ساتھ سول سوسائٹی اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔جو ااپنے پیاروں کی واپسی کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہیں۔

لانگ مارچ سے قبل بالاچ مولا بخش کے سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے میں ہلاکت کے بعد تربت میں دو ہفتے سے زائد کا دھرنا دیا گیا اور مطالبات منظور نہ ہونے پر دھرنے کو لانگ مارچ کی شکل دی گئی اور اسلام ٓباد کا رخ کیا گیا۔

لانگ مارچ کے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، جعلی مقابلوں کا خاتمہ اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ تمام ماورائے عدالت قتل افراد کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

لانگ مارچ میں شریک انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ماہ رنگ بلوچ نے لانگ مارچ کو درپیش مشکلات کے حوالے سے وائس پی کے کو بتایا کہ مارچ کو اسلام آباد پہچننے سے روکا جارہا ہے شرکا کو گرفتار کیا جارہا ہے اور جہاں جہاں سے مارچ گزرتا ہے وہاں پر ہمارے اوپر ایف ائی آر درج کی جاتی یے۔ اور مارچ میں مدد فراہم کرنے والوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

مارچ کے اسلام آباد کے پہنچنے کے ٹائم فریم پر بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ اگر انہیں روکاٹوں کا سامنا نہ ہوتا تو لانگ مارچ اسلام آباد پہیچ چکا ہوتا تاہم آج مارچ تونسہ جایا گیا اور رات ٹھرنے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر اسلام آباد کی طرف روانہ ہو گا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے لانگ مارچ کے شرکا پر ہونے والے کریک ڈاون اور گرفتاریوں  پر جاری مذمتی بیان میں گرفتار کئے گئے مظاہرین کو رہا کرنے اور لانگ مارچ کو اسلام آباد تک پر امن طور پر اور بلا روک ٹوک آنے دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here