٨ دسمبر ٢٠٢٣

تحریر : اعتزاز ابرہیم


لاہور

عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل اور جرمن ایمبسی کے اشتراک سے پولیس افسران کے لیے جنسی تشدد کی روک تھام کے قانون ” اینٹی ریپ انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ ۲۰۲۱ “ کی آگاہی کے لئے لاہور کے نجی ہوٹل میں ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔

ورکشاپ میں پولیس افسران جن میں لیڈیز پولیس بھی شامل تھیں کافی تعداد میں شریک ہوئیں ۔

ورکشاپ میں شریک پولیس افسران لاہور کے مختلف تھانوں میں ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں ۔

ٹرینرز نے پولیس آفسران کو جسمانی تشدد اور ریپ جیسے سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے موجودہ قوانین میں ہونے والی نئی ترامیم کے بارے میں آگاہ کیا۔

ورکشاپ میں شریک ایس ایچ او مناواں تھانہ لاہور رانا قادر نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ

کہ پولیس کو فیلڈ میں اس آگاہی سے بہت مدد ملے گی، جو جنسی تشدد کے خلاف قوانین میں ہونے والی نئی ترامیم کے بارے میں ہے ۔

جینڈر سیل میں تعینات تفتیشی افسر نرگس کوثر نے ورکشاپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا

کہ ریپ جیسے کیسز انتہائی سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں جن کی تفتیش میں ہر پہلو کو ملخوض خاطر لا کر تفتیش ہوتی ہے ۔ ورکشاپ کے ذریعے سے ریپ جیسے کیسز میں تفتیش کے لیے نئی گائیڈ لائنز کا پتہ چلا۔

ورکشاپ کے ٹرینر فہد ملک نے ورکشاپ کے مقاصد کے بارے بتاتے ہوئے کہا

کہ ہمارے پولیس ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کو جنسی تشدد کی روک تھام کے نئے بنائے جانے والے قانونین کی آگاہی نہیں ہے تو اس ورکشاپ کے ذریعے پولیس افسران کو نئے قانونین کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔

ورکشاپ میں شریک پولیس آفسران نے انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے قوانین پر عملدرآمد کرنے کا اعادہ کیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here