٤ دسمبر ٢٠٢٣

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

ہر سال دنیا بھر میں ٢٥ نومبر خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے لے کر ١٠ دسمبر یعنی انسانی حقوق کے عالمی دن تک صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمےکے لیے ١٦ روزہ سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔

ان ١٦ دنوں کے دوران دنیا بھر کے لوگ صنفی بنیاد پر تشدد کے بارے میں شعور بیدار کرنے، امتیازی رویوں کو چیلنج کرنے اور خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے بہتر قوانین اور خدمات کا مطالبہ کرنے کے لیے متحد ہوتے ہیں۔

پس منظر

خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کی جدوجہد کا پس منظر ١٩٦٠ میں ڈومنیکن رپبلک میں تین بہنوں کو دی جانے والی سزائے موت نے اس جدوجہد کو آغاز فراہم کیا۔

ہوا یوں کہ ٢٥ نومبر ١٩٦٠ کو تین بہنیں جن میں پیٹریا میرابل، منروا میرابل اور ماریا میرابل شامل تھیں، وہ ڈومنیکن رپبلک میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے لئے خاصی شہرت رکھتی تھی انہوں نے اپنے ملک میں فوجی آمر رافائیل ٹراجیلو کی آمریت کے ظلم اور تشدد کی بھرپور مخالفت آور مذمت کی۔

The Mirabal sisters, also known as "Las Mariposas" or "The Butterflies".
میرابل بہنیں جنہیں “لاس ماریپوساس” یا “تتلیاں” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بائیں سے دائیں: پیٹریا، منروا اور ماریا ٹریسا۔

ان کی جدوجہد کی پاداش میں تینوں بہنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد ایک چٹان سے نیچے پھینک دیا گیا۔لہٰذا ان کی جان کی قربانی پیش کئے جانے کی یاد میں ١٩٨٠ میں لاطینی امریکہ میں ٢٥ نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن قرار دیا گیا۔

بعدازاں جون ١٩٩١ میں سنٹر فار ویمنز گلوبل لیڈرشپ نے خواتین کے حقوق، تشدد کے خاتمے اور انسانی حقوق کے فروغ پر زور دیتے ہوئے صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف ١٦ دن کی سرگرمی کی عالمی مہم کا مطالبہ کیا۔لہٰذا اسی پس منظر میں اقوام متحدہ نے ١٩٩٩ میں اس دن کو باضابطہ طور پر خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے طور پر تسلیم کر لیا۔ یوں جدوجہد اور مہم کے ان ١٦ دنوں کا آغاز خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن ٢٥ نومبر سے ہوتا ہے اور ١٠ دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے ٢٠٢٣ کے اس ١٦ روزہ دورانیہ کے لئے ‘خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لئے سرمایہ کاری کرنا’ کو بطور موضوع مقرر کیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ملک اور ثقافت میں خواتین کے خلاف تشدد اور جبر کی روک تھام کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں۔

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

پاکستان میں خواتین کی مجموعی صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسی سرگرمیاں اور مذکورہ جدوجہد کی اہمیت مذید بڑھ جاتی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ کی ٢٠٢٢ رپورٹ کے مطابق جسمانی اور جنسی تشدد، غیرت کے نام پر قتل اور جبری یا کم سنی کی شادیاں پاکستان کو صنفی امتیاز کی بنیاد پر بدترین ممالک میں سے ایک بنا دیتی ہیں۔ ١٤٦ ممالک کی فہرست میں پاکستان ١٤٥ ویں نمبر پر ہے۔ ٢٠٢٢ میں پاکستان میں ٣٢ فیصد خواتین کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں زبردستی شادی کر کے، کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی، گھریلو تشدداورغیرت کے نام پر قتل کے ذریعے تشدد نمایاں رہا۔

:خواتین کے تخفظ کے لیے پاکستان میں موجود قوانین

اینٹی ریپ ایکٹ٢٠٢١

کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسیت سے تحفظ دینے کا ایکٹ، ٢٠١٠

گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ، ٢٠٢٠

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here