١٤ دسمبر- ٢٠٢٣

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

سویلین کے ملٹری کورٹس کے ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کے مشروط فیصلہ پر قانونی اور آئینی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے-

سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر مشروط فیصلے میں کہا گیا کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل جاری رہے گا لیکن فوجی عدالتیں اپیلوں کے فیصلے تک ٹرائل پرحتمی فیصلہ نہیں دیں گی۔

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی۔ چھ رکنی بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس محمد علی، جسٹس حسن اظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان شامل تھے۔

عدالتی فیصلہ پانچ -ایک کی نسبت سے دیا گیا جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

سماعت کے آغاز میں ہی جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراضات اٹھائے گئے ۔ اور ان کے بینچ سے الگ ہونے استدعا کی گئی جو انہوں نے مسترد کر دی ۔

سپریم کورٹ کے اس مشروط فیصلہ پر آئینی اور قانونی ماہرین بھی عدالتی فیصلے پر منقسم آرا نظر آتیں ہیں۔

نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن رابیعہ باجوہ نے سپریم کورٹ کے مشروط فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے بینچ پر اعترضات اٹھاتے ہوئے کہا:

“بینچ کی تشکیل قانون کے مطابق نہیں ہے اور فریقین نے بھی بینچ پر اعترضات اٹھائیں ہیں -“

انکا مزید کہنا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف بطور احتجاج عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا گیا ۔

آج نیوز کے پروگرام سپاٹ لائٹ میں ملٹری کورٹس کے حق میں بات کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ یہ عام لوگوں کی بات نہیں یہ ان لوگوں کی بات ہے جنہوں نے آرمی کی تنصیبات پر حملہ کیا، وہاں پر جو قانون لاگو ہوتا ہے اسی قانون کے تحت اس پر عمل ہورہا ہے۔

جبکہ سابق ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس  کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سویلین کا ایک دن بھی آرمی کورٹس میں ٹرائل غیر آئینی ہے ۔آرمی ایکٹ کے مطابق ملٹری کورٹس میں صرف آرمی کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ لوگوں کا ٹرائل ہوسکتا ہے ۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے نو مئی ٢٠٢٣کے پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر گرفتار عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ رواں برس 23 اکتوبر کو سنایا تھا، جس میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن 59(4) بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔

سپریم کورٹ کے ایک ۔ چار کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ فوجی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو گا جبکہ جسٹس یحیٰی آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here