١٨ ددسمبر ٢٠٢٣

تحریہ : اعتزاز ابراہیم


لاہور 

بلوچستان کے شہر تربت میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں بالاچ مولا بخش کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشد گیوں کے خلاف جاری لانگ مارچ گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان پہنچا۔ ڈیرہ غازی خان پہنچے پر پولیس نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کر کہ 20 کے قریب شرکا کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق اس وقت ضلع میں دفعہ 144 نافذ ہے اور پر قسم کے جلوس یا ریلی پر پابندی ہے۔مارچ کے شرکا کی طرف سے خلاف ورزی پر کاروائی کی گئی۔

مارچ کے منتظمین اور شر کا پر اس وقت تک نال ، خضدار اور کوہلو کے علاقوں میں دہشت گردی کی دفعات کے تخت تین مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ اور مارچ کو جگہ جگہ رکاوٹوں اور مزاحمت کا سامنا ہے جب کہ مارچ دشورایوں کے باوجود اپنی منزل اسلام آباد کی طرف گامزن ہے۔

لانگ مارچ میں شریک انسانی حقوق کی سرگرم کارکن  ماہ بلوچ کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوے کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والوں شرکا میں سے ابھی صرف کچھ کو رہا کیا گیا ہے اور دو لوگوں پر ایف آئی ار درج کی گئی ہے انکا کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف ائی ارختم کی جائے اور مارچ میں شریک ہو لوگوں کو تخفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہمارے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا ڈیرغازی میں ہی دھرنا دے گے۔

اس سے قبل لانگ مارچ کے شرکا نے بارکھان میں ایک ریلی نکالی جس میں بالاچ مولا بخش کے خاندان سے اظہار یکجہتی کے لیے مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بلوچستان چیپٹر کی طرف سے ایک قرار داد میں سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے میں بالاچ مولا بخش کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے لانگ مارچ کی حمایت کی گئی۔ اور بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے بھی لانگ مارچ کے ساتھ اظہار یکجہتی کی گئی۔
یاد رہے یہ احتجاجی تحریک 22 نومبر کو بلوچستان کے علاقے تربت میں سی ٹی ڈی کی تحویل میں مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے بلوچ نوجوان بالاچ مولا بخش کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی ۔لانگ مارچ سے قبل تربت میں احتجاجی دھرنا دیا گیا ۔ اور مطالبات نہ منظور ہونے پر دھرنے کو لانگ مارچ کی صورت میں تبدیل کیا گیا۔
لانگ مارچ کے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، جعلی مقابلوں کا خاتمہ اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ تمام ماورائے عدالت قتل افراد کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here