١٣ دسمبر ٢٠٢٣

سٹاف رپورٹ


لاہور

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر بالاچ مولا بخش کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف دھرنا جاری ہے، لیکن تربت سے کوئٹہ آنے والے لانگ مارچ کے رہنماؤں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

بالاچ مولا بخش کے اہل خانہ سمیت سیکڑوں مظاہرین گزشتہ 21 دنوں سے بالاچ کے سی ٹی ڈی کی تحویل میں قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔بالاچ کے والد مولا بخش بلوچ نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے سی ٹی ڈی کے بالاچ کے دہشت گرد ہونے کی تردید کی ہے ۔

 میرے بیٹے کو سی ٹی ڈی اور ایف سی اہلکاروں نے 29 اکتوبر کی رات ایک بجے گھر میں گھس کر اٹھایا ۔ایک ماہ کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی ۔ اس کے دو دن بعد ہمیں فون کر کے بتایا گیا تمہارے بیٹا مقابلے میں مار گیا ہے ۔

مارچ میں شریک گلزار دوست بلوچ نے لانگ مارچ میں پیش آنے والی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مارچ کو روکنے کی کوششوں میں ان سمیت ایک خاتون اور ایک مرد زخمی ہوئے ہیں ۔

انسانی حقوق کے لیے کوشاں ماہ رنگ بلوچ نے مذاکرات میں صوبائی حکومت کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا

 حکومت مظاہرین کے مطالبات کی منظوری میں مکمل طور پر غیر سنجیدہ ہے بلکہ دھرنے کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔ مطالبات منظور نہ ہوئے تو دائرکار وسیع کیا جاسکتا ہے۔

سنئیر قانون دان طاہر حسین نے وائس پی کے کو بتایا

اگر کسی نے کوئی جرائم کیا ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔ اس طرح کی کارروائیاں قابل مذمت اور تشویشناک ہے ۔

مظاہرین شدید سردی کے موسم میں بھی مطالبات کی منظوری کے لیے تاحال دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here