٢٠ دسمبر ٢٠٢٣

تحریر اعتزاز ابراہیم


لاہور

متحدہ طلباء محاذ نے یونیورسٹی آف صوابی کے فیسوں میں ہونے والے 300 فیصد تک کے اضافے پر احتجاج کرتے ہوئے صوابی امن چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ احتجاج میں صوابی یونیورسٹی کے طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

طلباء نے وی سی صوابی یونیورسٹی اور انتظامیہ کی طرف سے فیسوں کے حالیہ اضافہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور یونیورسٹٰی سے اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔

طلبہ کے درج ذیل مطالبات تھے

فیسوں میں ۳۰۰ فیصد اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

ڈی ایم سی کی فیس چھ سو روپے سے لے کر پندرہ سو روپے تک کی گئی ہے اس میں کمی کی جائے۔

فیل ہونے کی صورت میں دوبارہ داخلہ فیس ۲۵۰۰ ہے اس میں کمی کی جائے۔

دستاویزات میں غلطی ہونے کی صورت میں لی جانے والی ۱۵۰۰ فیس ختم کی جائے۔

یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالجز کا پیپر ایک جگہ لیا جائے۔

متحدہ طلباء محاذ کے چیئرمین مبصر اقبال نے صوابی یونیورسٹی طلبہ کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے وائس پی کے کو بتایا کہ صوابی یونیورسٹی کے وسی کی طرف سے گزشتہ دونوں فیسوں میں ۳۰۰ فیصد تک کے اضافے کا نوٹفیکشن جاری کیا گیا جس کے باعث سٹوڈنٹس پریشان تھے اور فیسوں میں اضافہ واپس لینے کے لیے پرامن احتجاج کیا گیا۔
طلبا کی طرف سے یونیورسٹی کو ۵ جنوری تک فیسوں میں اضافہ کا فیصلہ واپس لینے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے اور کمی نہ کرنے کی صورت میں دوبارہ احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف صوابی کے کنٹرولر ڈاکٹر بصیر نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے مذکرات کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ یونیورسٹی کے اگلے سنڈکیٹ اجلاس میں فیسوں میں اضافے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here