١١ دسمبر ٢٠٢٣

تحریر اعتزاز ابرہیم


لاہور

جبری گمشدگیوں کے خلاف تربت سے کوئٹہ جاری لانگ مارچ پر مبینہ طور سیکورٹی فورسز کا لاٹھی چارج ، مارچ کو جگہ جگہ روکنے کی کوششوں کے باوجود شرکاء نے مارچ جاری رکھا ہوا ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور بلوچ نوجوان بالاچ مولا بخش کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف سینکڑوں بلوچ خاندانوں کا تربت سے کوٹٹہ تک لانگ مارچ جاری ہے ۔

مارچ میں لاپتہ افراد کے خاندانوں، سول سوسائٹی سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔

اطلاعات کے مطابق مبینہ طور گزشتہ رات لانگ مارچ کو روکنے کی کوششوں میں شرکاء پر سوارب چیک پوسٹ پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت دو افراد زخمی ہوئے ۔

مارچ کو جگہ جگہ روکنے کی کوششوں کے باوجود شرکا نے مارچ کو جاری رکھا ہوا ہے۔

لانگ مارچ کے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، جعلی مقابلوں کا خاتمہ اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ تمام ماورائے عدالت قتل افراد کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

لانگ مارچ اس وقت بلوچستان کے علاقے مستونگ کے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے مارچ اپنی منزل کوٹٹہ  کی جانب روانہ ہوگا۔

یاد رہے یہ احتجاجی تحریک 22 نومبر کو سی ٹی ڈی کی تحویل میں مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے بلوچ نوجوان بالاچ مولا بخش کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی ۔لانگ مارچ سے قبل تربت میں دو ہفتے تک احتجاجی دھرنا دیا گیا اس کے بعد دھرنے کو لانگ مارچ کی صورت میں تبدیل کردیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here