٢٨ جنوری ۲۰۲۴

ویڈیو: میتن علی ، اعتزاز ابرہیم

تحریر : اعتزاز ابراہیم


 

لاہور کے شاکر علی میوزم میں گزشتہ روز پینٹگز کی منفرد آرٹ نمائش کا انقعاد کیا گیا ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا آرٹ شو تھا جو ان تمام فنکاروں کی طرف سےپیش کیا گیا ہے جو کینسر کی بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ فنکاروں کی ان فن پاروں کی نمائش کی گئی جو انہوں نے دوران کینسر بنائی۔تقریب میں کینسر کے مرض سے دنیا سے رخصت ہونے والے فنکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے لیے ان کے کام پر مبنی ویڈیو ٹربیوٹ پیش کیا گیا۔

نمائش میں اریم اشرف ، فرہاد ہمایوں، فاطمہ سلمان ، لالا رخ، ساحر انصاری ، سونیا ، گل ناز ایاز کی پینٹگز کی نمائش کی گئی ۔نمائش میں ان فنکاروں کی جو کینسر سے لڑتے اس دنیا سے چلے گئے کی فیملز کی طرف سے ان پینٹگز کو بھی نمائش کے لئے پیش کیا گیا ۔نمائش لگانے کا مقصد کینسر کے مرض میں مبتلا فنکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا۔نمائش میں فنکاروں ، اور آرٹ سے دلچسپی لینے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔نمائش کی آرگنائزر معروف آرٹسٹ فاطمہ سلمان جو خود بھی کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں نے وائس پی کے سے آرٹ شو کا مقصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ

’’آج کے ایونٹ کا مقصد ان فنکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جو کینسر کے مرض سے لڑ رہے ہیں یا جو اس مرض سے لڑتے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔گیلری میں پاکستان کے علاوہ برازیل ، سری لنکا کے فنکاروں کا کام بھی نمائش میں پیش کیا گیا ہے ۔۲۰۱۹ میں خود میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئی ، میں نے سوچا کہ میرے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ، میں نے پینٹنگ سے بریک لیے تھا تو میں بیماری سے لڑنے کے لیے دوبار سے پینٹ کرنا شروع کیا، ۲۰۲۳ میں پہلا شو کروایا ، میرا مقصد ان تمام فنکاروں کو آکٹھا کرنا جو اس بیماری سے لڑ رہے ہیں ۔‘‘

کینسر کی بیماری کو شکشت دینے والی فنکار گل ناز ایاز نے بیماری سے مکمل صحت یاب ہونے کے سفر کو بھی آرٹ کی شکل میں منفرد انداز میں پیش کیا ۔ گل ناز ایاز نے اپنے فن پاروں پر اظہار کرتے ہوئے بتایا

’’یہ میرا کینسر کو شکشت دینے تک کا سفر ہے ۔جو بات ہم لفظوں میں نہیں بیان کر سکتے ان کا اظہار ہم تصویری شکل میں کرسکتے ہیں۔۲۰۱۱ سے ۲۰۲۴ تک کیسز کی لڑی کے سفر کو میں نے یہاں پیش کیا ہے ۔ میری بچی ڈھائی سال کی تھی جب مجھے کینسر ہوا تھا میری بیٹی میری سب سے بڑی سپورٹ تھی کینسر کے حوالے سے لوگوں میں بہت سے غلط فہمیاں پائی جاتیں ہیں کہ جو بھی کینسر کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے وہ مر جاتا ہے یا یہ اس کے گناہوں کی سزاہے ۔کینسر کے وقت مجھے اپنے سسرال سے بھی کسی قسم کی کوئی سپورٹ نہیں تھی اور اس مرض کے دوران میری طلاق بھی ہوئی ۔ ان سب میں آڑت ہی واحد ذریعہ تھا جس سے مجھے ہمت ملی۔‘‘

پاکستان کی مایہ ناز مصور سلیمہ ہاشمی نے بھی تقریب میں شرکت کی اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ

’’یہ نمائش ان لوگوں کی یاد میں ہے جنہوں نے اس مہلک مرض سے جہاد کیا کچھ بازی ہار گئے اور کچھ ہمارے ساتھ ہیں ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ایسے لوگوں کی زندگی ہماری زندگی کا حصہ ہے ۔جو کہ بہت بہادر تھے انہوں نے زندگی کا بھی مقابلہ کیا اور ہماری زندگی کو رنگوں سے بھر دیا۔ہمیں انکو یاد رکھنا چاہیا۔‘‘

نمائش میں شریک شہریوں نے اس منفرد آرٹ شو کو کافی سراہاں ۔ اور حکومت کو کینسر جیسے سنجیدہ مرض کے حوالے سے آگاہی پھیلانے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدام کرنا پر زور دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here