٩ جنوری ٢٠٢٤

تحریر: فرزانہ علی


باجوڑ دھماکے میں جان بحق پولیس اہلکاروں کی تعداد ٧ ہوگئی جبکہ دھماکہ کا مقدمہ پشاور کے تھانہ سی ٹی ڈی باجوڑ ریجن میں درج کر لیا گیا۔ متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ پولیو ڈیوٹی کے لئے مختلف مقامات پر نفری تعینات کی جارہی تھی کہ دھماکا پہلے سے نصب شدہ بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔

دہشت گردی کے واقعات میں عموماً دہشت گرد تنطیموں کی طرف سے زمہ داری کا قبول کرنا بھی ایک خبر ہوتی ہے۔ اس دھماکے کے بعد بھی میڈیا کی نظریں اس پر تھیں لیکن ایک دھماکے کی دو طرف سے زمہ داری قبول کرنے کے میسج نے معاملے کو ایک بار پھر کنفیوز کر دیا۔ داعش کی طرف سے کچھ یوں پیغام منظر عام پر آیا۔۔۔

صوبہ خراسان کی جنگ کے اندر ‘اور جہاں بھی پاؤ انہیں مار ڈالو’۔ باجوڑ کی سرحد پر خلافت کے سپاہیوں کی بمباری میں مرتد پاکستانی پولیس کے ٥ اہلکار ہلاک اور ٢٥ کے قریب زخمی ہو گئے۔

جبکہ اعماق ایجنسی کے مطابق۔۔۔

ملک کے شمال مغرب میں واقع ‘خیبر پختونخوا’ صوبے میں پاکستانی پولیس کے تقریباً ٣٠ ارکان ان کی گاڑی پر بم حملے میں ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ ایک سیکورٹی ذریعے نے عماق ایجنسی کو بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں نے پیر کو خیبر پختونخواہ کے ضلع باجوڑ کے علاقے ماموند میں پاکستانی پولیس کی گاڑی پر دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا۔

ملک کے شمال مغرب میں واقع "خیبر پختونخوا" صوبے میں پاکستانی پولیس کے تقریباً 30 ارکان ان کی گاڑی پر بم حملے میں ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ ایک سیکورٹی ذریعے نے عماق ایجنسی کو بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں نے پیر کو خیبر پختونخواہ کے ضلع باجوڑ کے علاقے ماموند میں پاکستانی پولیس کی گاڑی پر دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا۔

لیکن اس سے قبل ٹی ٹی پی کی پریس ریلز میں دعوی کیا گیا کہ یہ حملہ انھوں نے کیا۔ جس کا عکس زیر لائن میں موجود ہے۔۔۔

آج صبح ولایت ملاکنڈ، باجوڑ ایجنسی کی ولسوالی ماموند کے علاقے بیلوٹ میں تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین نے ایک پولیس موبائل پر مائن بلاسٹ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم چھ پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دس شدید زخمی ہوئےـ آج صبح ولایت ملاکنڈ، باجوڑ ایجنسی کی ولسوالی ماموند کے علاقے بیلوٹ میں تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین نے ایک پولیس موبائل پر مائن بلاسٹ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم چھ پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دس شدید زخمی ہوئے ـ الحمدللہ یاد رہے کہ میڈیا پر اس حملے کو الگ رنگ دے کر پولیو کے ساتھ جوڑا جارہا ہے جوکہ سراسر جھوٹ ہے ـ ـالحمدللہ یاد رہے کہ میڈیا پر اس حملے کو الگ رنگ دے کر پولیو کے ساتھ جوڑا جارہا ہے جوکہ سراسر جھوٹ ہےـ

اب اس ساری صورتحال میں سوال یہ اٹھا کہ ایک دھماکہ، قبولیت دوـ یہی سوال ہم نے رکھا پاکستانی سیکورٹی تجزیہ کار، محقق، اور مصنف محمد عامر رانا کے سامنے تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہ دو مختلف تنظیموں نے ایک واقعے کی زمہ داری قبول کی ہو۔

ماضی میں بھی کئی ایسے واقعات ہوئے جنکی زمہ داری ایک سے زیادہ تنظیموں نے قبول کی۔ اب تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ذمہ داری کا قبول کرنا بھی اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ اس تنظیم کے اندر ذیلی تنظیمی اپنے طور پر کاروائیاں کرتی رہتی ہیں اور سنٹرل تنظیم اور ان ذیلی تنظیموں کے درمیان انٹرنل کوآرڈینیشن کے مسائل کی وجہ سے اس طرح کی چیزیں سامنے آ جاتی ہیں۔

لیکن محمد عامر رانا کا ماننا یہ ہے کہ یہ داعش کی ہے کاروائی لگتی ہے کیونکہ وہ اس علاقے میں مسلسل کاروائیاں کر رہی ہے اور ماضی میں بھی وہ سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور یہ انہی کی طرف سے جاری جنگ کا حصہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here