٢١ جنوری- ٢٠٢٤

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

 

پاکستان کا آئین ہر شخص کو یونین سازی کا حق دیتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں نگران وفاقی حکومت کی طرف سے محکمہ بحلی کے ملازمین پر یونین سازی پر پابندی عائد کرنے کی خبر سامنے آئی۔خورشید احمد جنرل سیکرٹری آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرزیونین سی بی اے نے حکومت کے حالیہ اخباری بیان، جس کے مطابق محکمہ بجلی کے ملازمین پر نگران حکومت نے  ” Pakistan Essential Services (Maintenance) Act 1952″ کے تحت ٹریڈیونین سازی پر پابندی عائد کرنے پر وائس پی کے سے بات میں رد عمل دیتے ہوئے کہا: 

”یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے جنہوں نے ٓئی ایل او کے کنونشن ۸۷ کی توثیق کی ہے کہ وہ مزدوروں کے حق خودارادیت کا اخترام کرے گی۔یہ جو نیا قانون آیا ہے یہ پاکسان کے آئین اور آئی ایل او کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان کے آئین کی آرٹیکل نمبر17 میں ملازمین کو تنظیم سازی کے بنیادی حق کی ضمانت دی گئی ہے۔“

 

Source : Dawn News

 

خورشید احمد کے مطابق یہ پہلی دفعہ نہیں   کہ جب حکومت نے یونین سازی پر پابندی عائد کی ہو بلکہ سابقہ حکومتیں بھی اس طرح کے اقدام کرچکی ہیں جن کو مزدور جدوجہد سے واپس کروایا گیا۔

”ماضی میں بھی حکومت نے واپڈا کے ملازمین کے بنیادی حققوں کو معطل کیا تھا۔اور ہم نے نہ صرف حکومت بلکہ تمام دینا کے مزدوروں کو بتایا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔اور پھر آئی ایل او نے حکومت کو باور کرایا  کہ آپ نے جو ذمہ داری لی ہے اس کی نفی کر رہے ہیں۔اور پھر دو سال کے بعد یونین بحال ہوگئی۔“

اسامہ طارق ایڈیشنل سیکرٹری آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز نے وائس پی کے کو انٹرویو دیتے ہوے  یونین پر پابندی لگنے کی صورت میں قانونی چار جوئی کا عندیہ دیا۔

”الیکٹریکل ورکرز پر اس طرح کی اگر کوئی قدغن لگتا ہے تو جس طرح ماضی میں کارکنوں نے اس طرح کی سختی دیکھی ہوئی ہیتب بھی ہم نے عدالتوں کا رخ کیا انٹرنیشل سطح پر بھی آواز اٹھائی اس دفعہ بھی عدالتوں سے رجوں کر سکتے ہیں اور عالمی سطح پر بھی آواز اٹھا سکتے ہیں۔“

خورشید احمد کے بقول حکومت کی واپڈا کو پرائیویٹائزیشن کرنے کی کوششوں میں واپڈا ملازمین یونین کی طرف سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اس طرح کے فیصلے کیے جارہے ہیں۔ کیونکہ پہلے بھی احتجاج سے ان کوششوں کو ناکام کیا گیا ہے۔

”یہ عوام کے مفاد کے لیے ادارہ بنایا گیا ہے اور جب اس کی پرائیویٹائزیشن کی جاتی ہے تو اس کی کارکردگی میں کمی آتی ہے تو حکومت کو چاہیے اس کی نج کاری کے بجائے اس کی کارکردگی اور بہتر کریں۔“

اسامہ طارق واپڈا کی حکومت کی طرف سے نجکاریوں کی کوشش پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں ہ

”واپڈ اکسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے- قائداعظم نے کہا تھا کہ مفاد عامہ کے ادارے قومی ملکیت میں ہوگے۔ہماری  کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے ہم پاکستان کی بہتری کے لیے چاہتے ہیں کہ یہ قومی ملکیت میں رہے اور اگر کسی کا اس کی نجکاری کرنے کا ارادہ ہے تو ہم پہلے کی طرح اس کی مخالفت کریں گے۔“

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here