٢٣ جنوری ٢٠٢٤

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے بار بار حراساں کیے جانے پر دھرنا ختم کردیا اور کوئٹہ میں دوبار سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا.بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے ،بالاچ مولا بخش کے ماورائے عدالت قتل کا انصاف لینے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تحریک کا آغاز کیا اور لانگ مارچ کی صورت بلوچستان سے اسلام آباد پہنچے اور نشیل پریس کلب کے باہر دھرنا دیا ۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ۶۰ روز سے جاری اس تحریک کو اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے بار بار حراساں کیا جاتا رہا اور دھرنا ختم کروانے کی کوششیں کی جاتی رہی ۔

حال ہی میں پولیس کے بعد اسلام آباد پریس کلب انتظامیہ نے بھی گزشتہ روز سیکورٹی کا جواز بنا کر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرے کو نیشنل پریس کلب کے باہر سے ختم کروا کر کسی اور جگہ منتقل کرنے کے لیے تھانہ کوہسار میں درخواست جمع کروائی ۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچ مظاہرین کے دھرنے کے باعث نہ صرف پریس کلب ممبران کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ سیکورٹی ایشوز بھی درپیش ہیں درخواست میں اسلام آباد پولیس سے مظاہرین کو نیشنل پریس کلب کے باہر سے دھرنا ختم کروا کر کسی متبادل جگہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔

جب کہ ہمارے ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد پریس کلب کی انتظامیہ کی درخواست سامنے آنے کے بعد پریس کلب کے کئی سنئیر ممبران اور صحافیوں نے اس کو غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل قرار دیتے ہوئے نیشنل پریس کلب کو درخواست واپس لینے کا مطالبہ کیا وگرنہ پریس کلب کی ممبر شپ  احتجاجی طور پر واپس کرنے کا کہا۔

سینئر صحافی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی کو چئیر پرسن منیزے جہانگیر نے نیشنل پریس کلب کی طرف سے دی جانے والی درخواست کی مذمت اور اسے آزادی اظہار کو دبانے کی کوشش قرار دیا اور پریس کلب انتظامیہ سے درخواست واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔

جس پر آج اسلام آباد پریس کلب انتظامیہ نے اپنی درخواست واپس لے لی اور پریس ریلیز کی صورت میں ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پولیس کو دی جانے والی درخواست نشیل پریس کلب کے منیجر نے ذاتی حیثیت میں جمع کروائی اور نیشنل پریس کلب تمام افراد خصوصاً پسے ہوئے طبقات کو اظہار رائے کا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے ۔

نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پریس کلب کے منیجر نے ذاتی حیثیت میں درخواست جمع کروائی اور انتظامیہ کے علم کے آنے کے فوراً بعد انکوئری کی گئی اور درخواست واپس کروائی گئی پریس کلب کے دروازے ہر وقت بلوچ مظاہرین کے لیے کھولے ہیں ۔

سینئر صحافی شہزاد ذولفقار نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو غیر جانبدار ہونا چاہیے پریس کلب کی طرف سے اس کی درخواست جمع کروانا افسوس ناک ہے۔ پریس کلب کے سنئیر صحافیوں نے اس درخواست پر بھی احتجاج کیا ہے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے بلوچ مظاہرین کو بلا کسی روک ٹوک دھرنا جاری رکھنے کے فیصلے کے باوجود بھی ریاستی اداروں کی طرف سے مختلف طریقوں سے دھرنا ختم کروانے کی کوششوں کے بعد آخر بلوچ مظاہرین نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here