جنوری ١٢،-٢٠٢٤

سٹاف رپورٹ


لاہور

صرف دو ہی دن کے اندر سپریم کورٹ کے دو ججز کے مستعفی ہونے پر بہت سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں- ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا مستعفی ہونے کے بعد بھی ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی جاری رہیگی یا نہیں-

اس سے قبل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ٢٠٢٣ میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ مستعفی یا ریٹائر ججز کے خلاف آرٹیکل ٢٠٩ کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کاروائی نہیں کر سکتا-

تاہم آج اٹارنی جنرل منصور اعوان نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وفاقی حکومت اس فیصلے کے خلاف جلد انٹرا کورٹ اپیل دائر کرے گی-

اس حوالے سے پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے والے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی متاثر نہیں ہوتی- ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل دو سو نو کی ذیلی شق چھ کے تحت ریفرنس دائر ہونے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کو صدر کو اپنی رائے بھجوانی ہوتی ہے کہ کیا جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں. اس لئے جج کے استفعی دینے کونسل کی کاروائی پر کوئی فرق نہیں پڑتا

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں بدعنوانی اور مس کنڈکٹ کے حوالے سے ریفرنس زیر سماعت تھا لیکن انہوں نے حتمی کاروائی سے قبل سے انے عہدے سے استعفی دے دیا تھا-

تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کے خلاف کاروائی جاری رکھتے ہوئے سماعت پندرہ فروری تک ملتوی کر دی تھی

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا موقف تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سابق ججز سے ان کی مدت ملازمت کے دوران کے گے غلط فیصلوں اور مس کنڈکٹ پر کاروائی کرنے کا اختیار رکھتی ہے.

اس حوالے سے ان کا موقف تھا کہ سابق ججز’کے خلاف کاروائی سے پینڈورا باکس نہیں کھلے گا اور اس سے صرف وہ ہی جج متاثر ہوں گے جنہوں نے ماضی میں وزراے اعظموں کو غیر آئینی طور پر گھر بھیجا اور ایسے ججز کی تعداد بہت کم ہے

جسٹس نقوی کے استعفی کے ایک دن کے بعد ہی سپریم کورٹ کے تیسرے سینئر جج جسٹس اعجاز الحسن نے بھی عہدے سے استفعی دے دیا تھا.

واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الحسن کے خلاف کوئی ریفرنس بھی دائر نہیں ہوا تھا تاہم کچھ وکلاء کے مطابق ان کے خلاف مس کنڈکٹ کا ریفرنس جلد ہی دائر ہونے والا تھا اس لئے انہوں نے مستفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا-

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ جسٹس اعجاز الحسن کے ماضی کے غلط فیصلے بھی ان کے مستعفی ہونے کی وجہ ہو سکتی ہیں

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ریٹائرمنٹ یا استفعی کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی جاری رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ملک کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوگا

ان کا مزید کہنا تھا کہ جج کا اپنے عہدے سے مستفی ہو جانا بھی اس کے احتساب کی ایک شکل ہی ہوتی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here