٢٩ جنوری ٢٠٢٤

تحریر : اعتزاز ابرہیم


لاہور

اتوار، جنوری ٢٨، کے روز پشتون تخفظ موومنٹ لاہور کے کارکنان اپنی پارٹی کے سربراہ، منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف لبرٹی چوک پر احتجاج کر رہے تھے- کچھ ہی دوراس ہی جگہ پہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بھی الیکشن مہم کے لئے آکھٹے ہوئے تھے جب پولیس نے کریک ڈاون کر کے پی ٹی ایم کے چھ اور پی ٹی آئی کےتقریبآ ۵٠ کارکنان کو گرفتارکر لیا ۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان کی ہدایت پر اتوار کے روز دوپہر دو بجے پی ٹی آئی کے امیدواورں کو ملک گیرریلیاں نکالنے کی کال دی گئی تھی جس پر پی ٹی آئی کارکنان جن میں خواتین بھی شامل تھی، لبرٹی چوک پر پہنچے۔

دوسری طرف پشتون تخفظ موومنٹ لاہور کی طرف سے بھی اتوار ہی کے روز لبرٹی پرمنظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی۔

ان ریلی اور احتجاج سے قبل ہی پولیس اور ڈلفن فورس کی بڑی تعداد لبرٹی کے چاروں اطراف تعینات کر دی گئی تھی ۔ دوںوں جماعتوں کے کارکنان جب لبرٹی پر پہنچے تو پولیس نے ان پر کریک ڈاون کر دیا اورکارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ صوبہ پنجاب میں امن امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے دفعہ 144 نفاذ ہے اور کسی بھی ریلی یا احتجاج سے قبل انتظامیہ اور پولیس کی اجازت ضروری ہے- دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ان کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

حلقہ ۱۲۸ سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ایڈوکیٹ سلمان اکرم راجہ نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ

’’ پی ٹی آئی کو الیکشن مہم چلانے نہیں دی جارہی۔ ہمارے بینرز، فلیکس روز اتارے جاتے ہیں، پولیس ہمارے لوگوں کو گرفتار کر رہی ہے روزہمیں قانونی جنگ لڑنی پڑتی ہے کل لبرٹی پر ہمارے کارکنان آکھٹے ہوئے تو پولیس نے ہمارے ۵۳ لوگوں کو گرفتار کر کہ گلبرگ تھانے میں بند کیا جس کو میں نے رات کے وقت جا کر رہا کروایا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ یہ سلوک بند ہونا چاہیا الیکشن میں سب کو کیمپین کا حق ہے۔‘‘

پشتون تخفظ موومنٹ لاہور کے رکن معین وزیر نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ

’’ ۴ دسمبر کو منظور پشتین چمن میں دھرنے سے خطاب کے بعد تربت میں بلوچوں کے احتجاج میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے تو راستے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی اور انہیں نامعلوم افراد کی طرف سے اغوا کر لیا گیا اور تین بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ انہیں اسلام آباد کی کسی ایف آئی آر میں اڈیالہ جیل رکھا گیا ہے ایف آئی آر سے ضمانت کے بعد انہیں چکوال کی جیل میں ۳ ایم پی او کے تخت نظر بند کر دیا گیا ۔ اس کے خلاف ہم جب احتجاج کے لئے لبرٹی آئے تو پولیس نے ہمارے چھ ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ۔‘‘

کارکنان کی رہائی کے سوال پر معین وزیر کا کہنا تھا ’’پولیس نے ہمارے ساتھیوں کو رات گئے تک حولات میں بند رکھا اور ہماری وکلا کی ٹیم کی مدد سے رات کے تین بجے کے قریب سب کو رہا کیا گیا۔‘‘

ملک میں الیکشن کا ماحول ہے انتخابات میں صرف نو دن باقی ہیں ایسے میں پنجاب بھر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کر کہ چار یا چار سے زیادہ لوگوں کے آکٹھ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اور کسی قسم کی بھی انتجابی ریلیوں اور جلسے جلسوں کو انتظامیہ اور پولیس کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here