۳۰ جنوری ۲۰۲۴

ویڈیو: اسد بلوچ

تحریر: اعتزاز ابراہیم ، اسد بلوچ


لاہور

بلوچ یکجہتی کیمٹی کے جبری گمشدگیوں کے لانگ مارچ کے باوجود بھی بلوچستان میں گمشدگیوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ۲۷ جنوری ہفتے کی شب مبینہ طورپرسیکیورٹی فورسز نے تجابان اور ہوشاب سے بہادر چاکر ، حمل ولد قادر ، اسلم ولد کریم نامی تین  طالب علموں کو حراست  میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ان میں سے حمل آٹھویں اور اسلم دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔اور ۲۹ جنوری پیر کی شب تربت سے 30 کلومیٹر مغربی جانب واقع نواحی گاؤں سامی  سے واحد بخش ولد پیر محمد کے گھر سے گرفتارکر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

لاپتہ افراد کے خاندانوں کی طرف سے سی پیک شاہراہ ایم ایٹ پر گزشتہ تین دنوں سے دھرنا دیا جارہا ہے جس کے باعث ٹریفک معطل ہے اور درجنوں مسافر شاہراہ کے اطراف پھنس کر رہ گئے ہیں۔احتجاج کے باعث درجنوں مال بردار گاڑیاں بھی پھنسی ہوئی ہیں جس سے تاجر برادری کو لاکھوں روپے مالیت کے خسارے کا سامنا ہے۔

مقامی صحافی اسد بلوچ نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ

گذشتہ شپ انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر تربت حسیب شجاع کی سربراہی میں مظاہرین کے ساتھ مزاکرات کے بعد ایک طالب علم کو رہا کر دیا گیا اور باقی دو کو جلد رہا کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ۔ جس پر مظایرین نے سی پیک شاہراہ سے دھرنا ختم کر دیا تاہم اسی  رات سامی کے علاقے سے ایک اور نوجوان کے گھر پر چھایہ مار کر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جس کے بعد آج دوبارہ سے سی پیک کے مقام پر دھرنا دے دیا گیا ہے ۔

دھرنے میں موجود لاپتہ نوجوان واحد بخش ولد پیر محمد  کے بھائی نذیر احمد کا کہنا تھا کہ

میرا بھائی ہے وہ اپنے اونٹ چرانے گیا تھا اسے دو گاڑیوں پر سوار مسلح افراد نے جبری گمشدہ کیا۔ ایک سفید کلر کی ویگو گاڑی تھی دوسری گاڑی میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اسے رات آٹھ بجے کے قریب اغوا کر لیا۔ ہمیں معلوم نہیں ایسا کیوں کیا۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ایل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں میں لوٹ مار کی، ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے گرفتاری کے وارنٹ بھی نہیں دکھائے اور نہ  کسی جرائم کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کا سی پیک شاہراہ سے دھرنا ختم کروانے کی بھی کوشش کی گئی جس کو مظاہرین نے ناکام بنا دیا۔مظاہرین کا کہنا کہ جب تک نوجوان کو بازیاب نہیں کیا جاتا سی پیک شاہراہ ایم ایٹ پر دھرنا جاری رکھا جائے گا اور ٹریفک معطل رہے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here