٢ جنوری ٢٠٢٤

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

جبری گمشدگیوں کے خلاف لانگ مارچ کی منتظم ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے بعد بھی بلوچستان سے ۱۲ کے قریب لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

دوسری طرف آج سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے
لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ سنجیدہ ہے اور مل کراسکا حل نکالنا ہوگا۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم بس اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔سیرپم کورٹ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان کو طلب کر کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

گزشتہ روز ہیومین رائٹس کیمشن کے وفد نے اسلام آباد پریس کلب میں پاکستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف وزیوں پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سخت تشویس کا اظہار کیا ۔ اور پریس کانفرنس کے بعد وفد نے جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے پریس کلب کے باہر جاری کیمپ کا وزٹ کیا ۔
اس موقع پر ہیومن رائٹس کیمشن آف پاکستان کی کو چیر پرسن منیزے جہانگیر کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف بنائی گئی کیمشن ناکام ہوچکی ہے اس کو تحیل کر کہ ایک نئی کیمٹی تشکیل دی جائے جس پر سب متفق ہو۔

دوسری طرف نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچ مظاہرین کو دہشت گردوں سے تشبہ دیتے ہوئے سخت الفاظ کا استعمال کیا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو علیحدگی پسند تنظیموں دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت کا مشورہ دیا۔
نگران وزیر اعظم بلوچ مظاہرین کے خلاف سخت زبان استمعال کرنے پر اس وقت سماجی حلقوں کی طرف سے تنقید کی زد میں ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here