١٢ جنوری ٢٠٢٤
تحریر: اعتزاز  ابراہیم 

لاہور: 
پنجاب  حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق پچھلے دس دنوں میں  تقریباً٣٦ بچے وفات پا چکے ہیں ۔ پنجاب کے نگران  وزیراعلی  محسن نقوی  کاکہنا ہے کہ نمونیا کا مرض تشویشناک حد تک پھیل رہا ہے اور خاص طور پر بچے بڑی تیزی سے  مرض کا شکار بن رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کے مطابق  یکم جنوری سے دس جنوری تک ٣٦ بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئی  ہے جبکہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ تعداد ابھی کم ہے۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے  پنجاب میں بچوں میں نمونیہ کے کیسوں میں اضافے پرگہری تشویش کا اظہار کیا، اور بدھ کے  روز چلڈرن اسپتال کا  ہنگامی دورہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں یکم جنوری سے اب تک ۳۶ بچے نمونیہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں اور چلڈرن اسپتال میں دس میں سے آٹھ بچے نمونیہ کے مرض میں مبتلا ہیں۔
لیکن چلڈرن ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وائس پی کے کو بتایا ہے کہ نگران وزیراعلی کے دیے گئے اعداد و شمار کے  مقابلےمیں  حالات زیادہ سنگین ہیں  روزانہ کی بنیاد کم از کم ١٠٠ بچے نمونیہ کی علامات کے ساتھ چلڈرن ہسپتال میں داخل ہورہے ہیں جن  میں سے آٹھ سے ١٠ بچوں کی روزانہ اموات ہو رہی ہیں- اتنے برےحالت ہونے کےباہ وجود  بھی حکومت کی طرف سے اعداو شمار کو چھپایا جارہا ہے۔
نمونیہ کے بڑھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوۓ انہوں نے بتایا کہ
 نمونیہ ایک چھاتی کا انفکیشن ہے، یہ وائرل یا بیکڑیال دونوں ہوسکتا ہے- بلکہ کورونا اور نمونیہ کی علامات ایک ہی طرح کی ہوتی ہیں- کورونا اور نمونیہ دنوں پھپھڑوں کو تباہ کرتے ہیں- ہوسکتا ہے کہ یہ کورنا کی نئی قسم ہو جس کے بارے میں ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا نمونیا ٹھنڈ کی وجہ سے ہو رہا ہے،یا پھر ماحول میں آلودگی ایک وجہ ہے ؟ 
 اس بیماری کا پنجاب میں تیزی سے  پھیلاو ایک پریشانی کی ایک بڑی وجہ ہے- اس  پر بات کرتے ہوئے ماہر ماحولیات سیدہ زہرہ گیلانی نے بتایا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے بحران کی لپیٹ میں ہے اور اس کا نتیجہ ہم کافی جگہوں پر دیکھ سکتے ہیں. لیکن حکومت اور عوام اس کو لے کر سنجیدہ نہیں ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے سموگ ہر سال بڑھ رہا ہے اور پچھلے سالوں کی نسبت گرمی اور سردی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا  ہے- اسی ٹھنڈ میں اضافہ کی وجہ سے نمونیا بڑھ رہا ہے۔ اور ا س کا شکار بچے یا بزرگ ہیں، کیونکہ ان کی قوت معدافت کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ  ماحولیاتی تبدیلی کی  سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ، پلاسٹک کا استعمال  ، بجلی کی پیدا وار کے لیے پٹرول اور ڈیزل کے روایتی طریقے اور فصلوں کو جلالنا شامل ہے- حکومت کو بجلی کی پیدا وار کے لیے سولر انرجی اور ماحول دوست طریقے اختیار کرنے چاہیے ۔ اور ایسی پالیساں بنانی چاہیے جو ماحول کے لیے ساز گار ہو۔ 
 سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اسلام آباد ڈاکٹر حسن عروج نے  وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نمونیا کی بنیادی وجہ سردی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گرمی اور سردی دونوں کی شدت میں کافی  اضافہ ہوا ہے۔پاکستان ان پہلے دس ممالک میں شامل ہیں جن کو موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر ہوا ہے۔ایشائی ممالک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں نمونیہ اور ڈائریا اموات کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔ سردی کے موسم میں نمونیہ کے پھیلاو کے زیادہ چانسز ہوتے ہیں۔ خصوصا بچوں میں کیونکہ بچوں کی چھاتی نازک ہوتی ہے اور جب چھاتی میں ٹھنڈی ہوا جاتی ہے تو مختلف قسم کے جراثیم اور وائرس اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ جس سے بچے نمونیہ کا جلدی شکار ہوتے ہیں۔
لیکن ڈاور بٹ جو ماحولیاتی تبدیلی پر ماہر ہیں کا کہنا ہے کہ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ ٹھنڈ سے نمونیا ہوتا ہے اور اس بات نے یورپ سے جنم لیا ہے۔انہوں نے سمجھایا کہ  پاکستان میں بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ سرد موسم نمونیا کا باعث بنتا ہے۔ اس کا کوئی ربط نہیں ہے۔ یہ بات یورپ میں اس وقت شروع ہوئی جب سردی کا موسم سموگ کے ساتھ موافق ہوتا ہے، جس کے بعد نمونیا سے اموات ہوتی ہیں۔
“اگر ٹھنڈ سے ہوتا، تو لاہور سے بھی زیادہ ٹھنڈی جگہیں ہیں”
ایک اور ماحولیاتی ایکسپرٹ نے کہا
اگر خارجی عوامل جیسے آلودگی، زہریلے ذرات اور ایروسول اس ہوا میں ہیں جس کو ہم اپنے اندر کھینچ رہے ہیں تو یہ ہمارے نظام تنفس کو کمزور کر رہا ہے، جس سے ہمیں بیکٹیریل/وائرل/فنگل انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا ٹھنڈ سے صرف اتنا تعلق ہے کہ سرد موسم کی زد میں آنے سے ہمارے پھیپھڑے کمزور ہو سکتے ہیں خاص طور سے اگر وہ پہلے سے ہی کمزور ہیں- اس لیے نمونیا سمیت پھیپھڑوں کی بیماریاں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
حکومت کی پالیسی   
دوسری طرف پنجاب حکومت نے بچوں میں نمونیہ کے تیزی سے پھیلاو کو روکنے کے لیے پریپ اور نرسری کی کلاسز 19 جنوری تک بند کر دی ہیں اور  31 جنوری تک اسکولوں میں اسمبلی پر پابندی لگا  دی  ہے۔
اپنے جاری ایک بیان میں نگران وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ نمونیہ ہر سال آتا ہے پہلے کی طرح اس سال بھی اسے روک سکتے ہیں، محکمہ صحت اور اسکول ڈیپارٹمنٹ اپنا اپنا کام کررہے ہیں، نمونیہ کے حوالے سے کمیٹی بھی بنا دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر فیڈ بیک دے گی ۔پانچ رکنی ایڈوائزری کمیٹی کی سربراہ پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر عائشہ عارف کو بنایا گیا ہے۔کمیٹی میں چلڈرن کمپلیکس ملتان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروڈیوسر ڈاکٹر کاشف چشتی بھی شامل ہیں۔یہ کمیٹی نمونیہ ایکسپرٹ ایڈوزیری کمیٹی کے طور پر کام کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here