١٥ جنوری ٢٠٢٤

سٹاف رپورٹ


لاہور

شمالی وزیرستان میں حکومتی رٹ ناکام جرگے کے حکم پر سابق صوبائی وزیر کو جرگہ کی روایات نہ ماننے پربیس لاکھ روپے کا جرمانہ گاڑی کو نذر آتش کر دیا گیا۔

اعلاطات کے مطابق گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں اتمانزئی جرگےنے سابق صوبائی وزیر اور حلقہ پی کے 103 سے تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کے امیدوارمحمد اقبال وزیر کو جرگے کے مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج میں شرکت نہ کرنے پر جرگے کی روایات کی خلاف وزی پر بیس لاکھ جرمانہ وصول کیا گیا اور گاڑی کو بھی جلا دیا گیا۔

اتمانزئی جرگے نے اقبال وزیر کے گاڑی جلانے کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بھی اپلوڈ کیا ۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈھول کی تھاپ پر عوام کی بڑی تعداد کی موجودگی میں گاڑی کو جلایا جا رہا ہے۔

تیس رکنی جرگے کے رکن ملک شیر خان سرحدی نے اپنے فسیبک اکاونٹ پر جرگے کی کاروائی کی تفصیلاتی رپورٹ میں لکھا کہ

,,,

اتمانزائی قوم کے لشکر نے تحصیل شیواہ کابل خیل میں اتمانزائی قوم نے کل13 جنوری 2024 کو سابق منسٹر محمد اقبال وزیر کو اتمانزائی جرگہ کی خلاف ورزی پر جو 50 لاکھ جرمانہ ایک عدد فیلڈر گاڑی اور دو سزا یافتہ بندے کو حاضر کرنے کا جو سزا سنایا گیا تھا آج ٹھیک 11بجے صبح 4 ہزار قوم کابل خیل ۔سابقہ ایم این اے محمد نظیر اور فقیر صاحب آف شیواہ اخونزادہ محمد سلطان کی ذاتی کوششوں سے اور اللہ تعالی کی فضل وکرم اور قوم اتمانزائی کی اتفاق و اتحاد کی وجہ سے وہ جرمانہ فقیر صاحب چوک شیواہ میں آج اتمانزائی قوم کے لشکر کے سامنے نقد پیش کر کے جمع کیا صرف کابل خیل قوم فقیر صاحب اور سابق ایم این اے اور موجودہ کنڈیڈٹ این اے 40 شمالی وزیرستان محمد نظیرخان نے اتمانزائی مشرانوں کو جرمانہ کم کر نے کیلئے درخواست کے طور پر عرض کیا جس پر اتمانزائی کے 30 رکنی جرگہ مشران نے مشورا کر کے متفقہ طورپر کابل خیل قوم ۔فقیر صاحب شیواہ ۔محمد نظیر اور ملک قادرخان سیفلی کیلئے 30 لاکھ روپے اور دو سزایا فتہ بندے کو معاف کر کے چھوڑ دئیے گیئے اوران سے 20 لاکھ نقدی جرمانہ اور ایک عدد گاڑی بطور جرمانہ وصول کیا گیا جو کہ بعد میں گاڑی کو موقعہ پر فقیر صاحب آف شیواہ چوک میں اتمانزائی لشکر نے آگ لگا کر جلا دیا گیا جوکہ ویڈیو میں موجود ہے۔

 

جرگہ کی کاروائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجود بھی اقبال وزیر نے واقع کے ہونے سے انکاری رہے اور اپنے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جرگے نے میری کوئی گاڑی نہیں جلائی اور نہ ہی میری طرف سے جرگے کو کوئی جرمانہ ادا کیا گیا ہے۔

دوسری طرف وائس پی کے کی ٹیم نے جب واقع کی تصدیق کے لئے ڈی پی او رو خان زیب سے رابطہ کیا تو ڈی پی او نے بھی واقع سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے سے واقع کا علم ہوا ہے اور انہوں نے روپورٹ درج کر کہ تحقیات شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقبال پروپز نے واقع کی تردید کی ہے اور ان کی طرف سے انہیں کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

اگر جرگے نے کاروائی کی ہے تو اسے چھپایا کیوں جا رہا ہے ؟

وفاق کے زیر انتظام سابقہ قبائلی علاقہ جات یا فاٹا کو صوبےخیبر پختوانخواہ کا حصہ بنے پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہاں آج بھی اہم معاملات ملکی آئین و مروجہ قوانین کے بجائے روایتی جرگوں کے ذریعے حل کیے جا رہے ہیں۔

مئی 2018ء میں 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا اور یہاں ملک کے دیگر حصوں کی طرح ملکی قوانین لاگو کیے گئے لیکن اس کے باوجود قبائلی اضلاع کے عوام جہاں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں وہاں ان کے فیصلے پاکستان کےآئین و قانون کی بجائے مقامی جرگوں میں کیے جاتے ہیں۔

مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے ۲۰۱۸ کے انضمام کے بعد سے اصولا خیبر پختنون کی حکومت کے زیر انتظام ہیں لیکن یہاں حکومت کی رٹ موجود نہیں ہے اور یہاں قبائلی جرگہ سسٹم قائم ہے جن کا اپنا الگ قانونی سسٹم موجود ہے۔ جرگہ کے لوگ یہاں کے امور کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی جرگے یہاں پولیو کی ٹیم پر پابندی ،جرگے کے فیصلے نہ ماننے پر لوگوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے اور لاکھوں کے جرمانے ٖوصول کر چکے ہیں ۔اور ریاستی ادارے ان کے سامنے بے بس ہیں۔ اور اس پر پرداہ ڈالنے کے لیے ان خبروں کی تردید کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اتمانزئی قبائل گزشتہ سات ماہ سے حکومت کو امن کی بحالی، ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ اور سیکیورٹی فورسز سے مدرسے خالی کرنے کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here