١٧ جنوری ٢٠٢٤

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور 

پاکستان کی   نگران  وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف ’سوشل میڈیا مہم‘ کی روک تھام اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق چھ رکنی ٹیم کے کینوینر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ہوں گے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق دیگر ارکان میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے دو نمائدے جن کا بیسویں گریڈ سے کم نہیں ہو گا، اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی، پی ٹی اے کا ایک نمائندہ اور ایک منتخب کردہ رکن شامل ہوں گے۔وزارت داخلہ کے مطابق جے آئی ٹی ’ججز کے خلاف مہم کے پیچھے مذموم مقاصد تلاش کرنے کے علاوہ اس میں ملوث ذمہ اداروں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسی مہمات کی روک تھام کے لیے تجاویز دے گی۔نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی اپنا کام 15 دنوں میں مکمل کر کے رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کروائے گی۔

نوٹیفکیشن

جنرل سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار صباحت رضوی نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو آزادی اظہار پر قدغن قرار دیتے ہوئے کہا کہ

’’جے آئی ٹی آزدی اظہار پر قدغن اس میں ریاست پہلے بھی ملوث تھی اس طرح کے نوٹیفیکشن جاری کر کہ لوگوں سے فیر تنقید کا حق چھینا جا رہا ہے جو کہ بنیادی انسانی حق ہے۔کردار کشی صحافیوں کی جارہی وکیلوں کی جارہی تو صرف ججز کی کردار کشی کو روکنے کے لئے ہی جے آئی ٹی کیوں بنائی جا رہی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار اس کی مذمت کرتی ہے ۔‘‘

جب کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت کا آج نیوز کے پروگرام سپاٹ لائٹ میں بننے والی جے آئی ٹی پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

ججز کے فیصلے پر تنقید کرے اس میں کوئی غلطی ہے تو اس کی نشاندہی کرے لیکن ججز کی ذاتی زندگی اور کردار کو ٹارگٹ نہ کرے۔سوشل میڈیا پر خوفناک قسم کی ٹرولنگ کی جارہی ہے جس کو بند ہونا چاہیا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سمیت دیگر عہدیداران نے پریس کانفرنس میں اداروں اور ججوں پر تنقید کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد نگران حکومت کی طرف سے جے آئی ٹی بنائی گئی۔

سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے بھی سپاٹ لائٹ کے پروگرام میں جے آئی ٹی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ

ججز کا کوئی ترجمان نہیں ہوتا اور نہ وہ کوئی پریس کانفرنس کرسکتے ہیں نہ وہ کورٹ میں جاسکتے ہیں کوڈ آف کنڈکٹ کہتا ہے کہ جب تک آپ جج ہیں آپ اپنی ذات کے لیے کوئی قانونی کاروائی نہیں کریں گے یہ آئینی پابندی ہے۔ جج اپنا دفاع کہی بھی نہیں کرسکتا۔جس بھونڈے انداز سے ججز کی کردار کشی کی جارہی ہے مجھے بہت افسوس ہے اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر عابد زیبری نے بارز کی طرف سے جے آئی ٹی کی حمایت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ

’’جے آئی ٹی کے بعد پکڑ دھکڑ کا دوبار ماحول بنا دے گی ۔ کسی کو پکڑ لے گے آپ نے یہ بات کی ہے۔الیکشن والے کیس میں جسٹس بندیال کی تصاویر لگا کر جلسوں میں ان کے خلاف تقاریر کی گئی تب کیوں ںہیں جے آئی ٹی بنائی گئی۔پچھلی حکومت میں ججز کو پارلیمنٹ میں گالیاں دی گی تب جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی گئی۔موجودہ بار ایسوسی ایشنز کو اس جے آئی ٹی کی مذمت کرنی چاہیے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here