٨ جنوری ٢٠٢٤

تحریر: فرزانہ علی


سر دست عارضی قسم کی جنگ بندی یا پھر کچھ معاملات کو آنے والی حکومت کی تشکیل تک موخر کرنا حالات کو مثبت طرف لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔ مبصرین کی آرا

جمعیت علماء اسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات سے متعلق سامنے آنے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے انھوں نے کہا کہ جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔

ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں اس لئے ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے جبکہ خبر میں بتایا گیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن نے اس موقع پر مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم قرار دیا تاہم یہ بھی کہا کہ پاکستانی حکام کو افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا ظالمانہ رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

موجودہ حالات میں جبکہ مولانا فضل الرحمان اور انکی جماعت دہشت گردی کا شکار ہے ایسے میں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اس دورے کو مبصرین اور تجزیہ نگار کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا واقعی یہ مولانا کا نجی دورہ ہے؟ کیا یہ مسائل کے حل کی طرف مثبت قدم ثابت ہو گا؟ اور کیا اس سے ٹی ٹی پی کے حالیہ حملوں پر پاکستان کے موقف کے تناظر میں افغان حکومت کو قائل کیا جا سکے گا؟

اس پر وائس پی کے ڈاٹ نیٹ نے خیبرپختونخوا کے سینئر صحافیوں اور دانشوروں سے بات کی ہے۔

ڈیلی ڈان کے ایڈیٹر اسماعیل خان نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ افغان طالبان چاہ رہے تھے کہ بگڑے ہوئے تعلقات کو دوبارہ سے ری سٹ کیا جائے اس لئے اس سے قبل افغان طالبان کے سپریم کمانڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے قریبی ساتھی ملا شیریں اخوند کے دورۂ پاکستان کے دوران نگراں وزیر خارجہ سمیت دیگر حکام سے ملاقاتوں کی مثبت خبریں سامنے آئی ہیں اور کہا جا رہا تھا کہ برف تھوڑی بہت برف پگھلی ہے اور انہی ملاقاتوں کے دوران انھوں نے مولانا صاحب کو بھی افغانستان دورے کی دعوت دی اور آگے کا منظر نامہ دیکھ کریقیننا سوچ سمجھ کر ہی یہ دعوت دی گئی۔

اسماعیل خان کے مطابق ایسا نہیں کہ انکے اس دورے میں کہیں ریاست نہیں ہے بلکہ ریاست کی طرف سے کافی چیزیں بھی مولانا صاحب کو بریف کی گئی ہو نگی اور وہ پوری تیاری کے ساتھ افغانستان گئے ہیں ہاں اب یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ لے کر کیا آتے ہیں کیونکہ اسماعیل خان کو لگتا ہے کہ اس دورے میں افغان طالبان یا امارات اسلامی کی طرف سے تحریک طالبان کے معاملات بھی یقیننا انتہائی اہم ہیں اگرچہ مولانا فضل الرحمان کے پاس اس معاملے میں کسی فائنل چیزکا اختیار تو نہیں لیکن سر دست عارضی قسم کی جنگ بندی یا پھر کچھ معاملات کو کم ازکم انے والی حکومت کی تشکیل تک موخر کرنے کی بات ہو سکتی ہے تاکہ معاملات زرا سنبھل جائیں۔ اسی طرح ٹی ٹی پی کی ری سٹلمنٹ یا ری لوکیشن والا معاملہ بھی زیر بحث آسکتا ہے تو کئی معاملات جنکو ایک مثبت طرف لے جانے کی کوشش ہو گی۔

اسی موضوع پر جب سینئر صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی سے بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمان نا صرف افغان طالبان سے تعلق رہا ہے بلکہ ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈر انکی جماعت کا حصہ رہے ہیں اس لئے انکا دونوں فریقین کے ساتھ تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا کے دورے کےبارے میں کہا گیا کہ نجی دورہ ہے لیکن اسکے بعد جب ملا شیریں اخوند یہاں پاکستان آئے تو انکی خواہش کے مطابق کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی ختم کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمان کے دورے کو ریاستی اونر شپ دی جائے تو اسکے بعد یہ شیڈول کیا گیا اور یوں اس دورے کو حکومت پاکستان کا مینڈیٹ حاصل ہے۔

جہاں تک اُنکی طرف سے امارت اسلامی کو مبارک باد دینا یا انکی غیر قانونی قبضے کو فتح قرار دینے کا بیان کی بات ہے تو یہ مناسب نہیں کیونکہ افغانستان کی اکثریت اس قبضے کو ناجائز سمجھتے ہیں اور پاکستان نے بھی افغان حکومت کو ابھی تک اوون نہیں کیا۔ دوسرا وہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان باشندوں کی واپسی کو وہ ظلم قرار دے رہے ہیں تو یہ انکی ذاتی رائے ہو سکتی ہے یہ انھوں نے انکو خوش کرنے کے لئے کوئی بات کی ہو گی۔ تیسری بات کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان چلنے والی کشیدگی کی ایک اہم وجہ ٹی ٹی پی کی وہ افغانستان کے اندر سرکاری سرپرستی میں چلنےوالی سرگرمیاں ہیں ایک ہفتہ قبل بھی ٹی ٹی پی نے افغانستان کے اندرایک تین روزہ اجلاس کیا ہے جسمیں نئی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستان کا ایک مستقل بیانیہ رہا ہے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات اور بات چیت کو جار رکھا جائے تاکہ وہ ٹی ٹی پی کو قائل کرے تو اس لئے ریاست پاکستان اور امارات اسلامی کا رابطہ ہے لیکن ٹی ٹی پی کے معاملے میں زیرو ٹالرینس ہے۔

اس دورے میں جو اہم نقطہ ہے وہ شاید یہ ہو کہ الیکشن کے دوران ٹی ٹی پی کو قائل کیا جائے کہ وہ حملوں کی روک تھام کو ممکن بنائے۔ عقیل یوسفزئی نے سی آئی اے کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا ہے اور ٹی ٹی پی سے پاکستان کو بھی بہت خطرہ ہے۔ افغان طالبان دہشت گردوں کو لگام دینے میں ناکام رہے ہیں اور پاکستان اور ایران میں دہشت گردی کے جو حالیہ واقعات ہوئے ہیں اس میں داعش ملوث تھی۔ تو اس تمام پس منظر میں اگرمولانا فضل الرحمان کسی نہ کسی حد تک الیکشن کے دوران افغان حکومت کے دباو کے تحت ٹی ٹی پی کو یہ جو مسلسل حملے ہو رہے ہیں اس سے باز رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں یہ نتیجہ خیز عارضی عمل ہو سکتا ہے لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان خود بھی اگر پاکستان یا دوسری سیاسی جماعتوں کے لئے کوئی ضمانت نہیں لیتے تو اپنے لئے ضرور لیں گے کیونکہ مولانا فضل الرحمان کو واقعتا دہشت گرد حملوں کا سامنا بھی ہے اگرچہ جو حملے ان پر ہو رہے ہیں وہ اطلاعات کے مطابق داعش کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس دورے سے تو کچھ زیادہ توقعات تو نہیں رکھنی چاہیں لیکن ایک پل کے طور پر اس دورے کو دیکھا جاسکتا ہے۔

ان دو تجزیہ نگاروں کے برعکس سینئر تجزیہ کار، سیاست دان اور دانشور افراسیاب خٹک نے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان کے افغانستان کے دورے کو ایک مختلف اینگل سے دیکھا انکا کہنا تھا کہ مولانا پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے اتحادی ہیں گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے پختونخوا میں انکی حکومت ہے انکو اقتدار دیا ہے تو پھر مطلوبہ کردار بھی ادا کرنا ہو گا۔ لیکن اس سوال پر کہ مولانا فضل الرحمان تو خود دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں باجوڑ کے حملے، مولانا کی گاڑی کو نشانہ بنانا جبکہ داعش کی طرف سے جمعیت کو تھرڈ کے پفلٹس کا جاری ہونا جبکہ مولانا اسد محمود کے لئے سیکورٹی ایڈوائزری کا آنا تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خود مولانا اور انکے لوگ انڈر تھرڈ ہیں کے جواب میں افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ اس سرزمین پر عالمی کھیل جاری ہے جس کے لئے عالمی طاقتوں کے ہاتھ میں طالبان سمیت کئی کارڈز ہیں انہی میں سے ایک کارڈ داعش بھی ہے جہاں اسکی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کارڈ استعمال کیا جاتا ہے۔

اور پھر جان بوجھ کر اس کھیل کو اتنا پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے کہ لوگ کنفیوز رہیں اور اس کھیل کی اصلیت سمجھ نہ پائیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں کچھ علاقوں کو فالٹ لائنز کی طرح رکھا گیا ہے جہاں بوقت ضرورت خون ریزی کا کھیل کھیلا جاتا ہے اور ہمارے قبائلی علاقے اور جنوبی اضلاع بھی یہی فالٹ لائنز ہیں جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا مغربی روٹ بھی ہیں جنھیں ایک بار پھر فعال کر دیا گیا ہے جسکا مقصد اس عالمی کھیل کو سرانجام دینا ہے جو سپر پاورز کے درمیان جاری ہے اور سامراجی سلطنتیں چلانے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کہاں کیا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ یہ انکے لئے کولیٹرل ڈیمج کی حیثیت رکھتا ہے جو جنگ میں ہوتا ہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here