٣١ جنوری ٢٠٢٤

 تحریر :اسد بلوچ


کیچ

ضلع کیچ کی سب تحصیل ہوشاپ سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ صوالی، ان کی زوجہ اور ان کے بیٹے مشتاق نے منگل کو تربت میں پریس کلب آکر پریس کانفرنس کی اور کہا کہ 23 جنوری کو کوئٹہ سے ان کے 27 سالہ بیٹے امام جان کو مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز نے لاپتہ کیا وہ بولان میڈیکل سینٹر میں نرسنگ کی سرکاری پوسٹ پر رات کی ڈیوٹی دے رہے تھے۔

صوالی نے بتایا کہ ڈیوٹی کے سبب ان کے بیٹے کی عارضی رہائش کوئٹہ کے عیسی نگری کے علاقہ میں تھی۔ وہ 23 جنوری کی شام کوئٹہ شہر میں اپنے ایک کام کے لیے گئے مگر واپس نہیں لوٹے ہمیں جب ان کے گمشدگی کی اطلاع ملی تو ہم ہوشاپ سے کوئٹہ چلے گئے وہاں بولان میڈیکل کالج کی نرسنگ کمیٹی سے ملاقات کی اور ان کے ہمراہ ہم نے پولیس تھانہ بروری جاکر امام جان کے گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے کی درخواست دی، بروری پولیس نے ہمیں ان کے موبائل فون کی آخری لوکیشن فاروق پلازہ کوئٹہ بتائی لیکن مقدمہ درج کرنے کے بجائے یہ کہہ کر ہمیں سٹی تھانہ بھیج دیا کہ فاروق پلازہ ان کے تھانہ کی حدود میں نہیں آتا مگر سٹی تھانہ کوئٹہ میں بھی اسی بنیاد پر ہماری درخواست رد کردی گئی اور دوبارہ بروری تھانہ رجوع کرنے کا کہا گیا۔

صوالی اور ان کی زوجہ نے کہا

فاروق ایک سال سے بی اہم سی میں ڈیوٹی دے رہا تھا وہ ایک معصوم اور بے ضرر انسان تھے ان کی گمشدگی سے ہمارا خاندان سخت پریشانی میں ہے، ھم بے بس اور غریب لوگ ہیں بڑی مشکل سے اپنے بیٹے کو پڑھایا اور وہ اس عمر میں ہمارا سہارا بنا، اگر اس کا ایسا کوئی جرم تھا جو قانون کی نظر میں اسے مجرم ثابت کرتا ہے تو خدارا اسے عدالت پیش کیا جائے یا پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ ہمیں ان کی سلامتی کے بارے میں آگاہی ہو اور اگر وہ مجرم ثابت ہوں تو عدالت قانون کے دائرے میں انہیں سزا دے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یکم فروری تک امام جان کو بازیاب نہیں کیا گیا تو فیملی مجبور ہوکر ہوشاپ میں سی پیک شاہراہ M8 پر دھرنا دیں گے جب تک امام جان بازیاب نہیں کیے جائیں گے ہم سی پیک ہائی وے بند کردیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here