٥ جنوری ٢٠٢٤

  تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

پاکستان میں انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد سے ملک بھر میں سیاسی جماعتیں اپنی مہم چلا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 12 کروڑ 86 لاکھ سے زائد ووٹرز الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جس میں خواتین، مرد، بزرگ اور نوجوان شامل ہیں۔

لیکن خواجہ سرا طبقہ اس بات سے پریشان ہے کہ ان کی تعداد تو کافی ہے، مگر نادرا میں انکو شناختی کارڈ بنوانے میں بے حد مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث وہ ملکی سیاست اور الیکشن کے جمہوری عمل میں موثر کردار ادا نہیں کرسکتے ۔

اس دفعہ کے انتخابات میں صرف اسلام آباد اور پشاور کے حلقوں سے دو خواجہ سرا انتخابات آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔

اسلام آباد

  اسلام آباد کی رہائشی نایاب علی ایک ٹرانس جینڈر ہیں اورایک بار پھر انھوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا عزم کیا اور قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے  کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں ۔نایاب علی این اے 146 ،اور این اے 47 اسلام آباد سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔اسلام آباد کے دو حلقوں سے جنرل نشستوں پر حصہ لینے والی نایاب علی ایک سوشل ورکر بھی ہیں۔ انھوں نے اس سے قبل 2018 کے انتخابات اور مقامی حکومتوں کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔

پشاور

  پشاور سے ثوبیہ خان  پی کے 84 سے الیکشن لڑرہی ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالخلافہ پشاور سے تعلق رکھنے والی  ثوبیہ خان نے8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات میں حصّہ لینے کے لیے اپنے حلقے پی کے 84 سےسے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں- وہ صوبائی اسمبلی کی جنرل نشست کے لیے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گی۔

تعلیم کے اعتبار سے صوبیہ خان بی اے پاس اور خیبرپختونخوا کے خبر رساں ادارے ٹرائبل نیوز نیٹ کیلئے بطور میزبان اپنے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہے۔

 

ثوبیہ خان نے اپنے انتخابی منشور کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگروہ الیکشن جیتی گی تووہ ان خواتین کے لیے فنڈز اکھٹے کریں گی جو روزی روٹی کمانے کے لیے گھریلو کام کرتی ہیں تاکہ وہ بغیر کسی فکر کے گھر بیٹھ کر اپنے بچوں کی پرورش کر سکیں۔

اُنہوں نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختون خوا میں کسی ایک ٹرانس جینڈر کے پاس بھی ملازمت نہیں ہے- اگر ان کے پاس نوکری نہیں ہو گی تو وہ کیسے زندہ رہیں گے؟ اُنہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ اپنی برادری کی مسلسل حمایت کی وجہ سے عام انتخابات میں حصّہ لینےکی طاقت اور اعتماد حاصل کیا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم جنرل سیٹوں پر الیکشن لڑتے ہیں تو دوسرے امیدواروں کے خلاف الیکشن جیتنا ہمارے لیے مشکل ہو گا اور الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کو ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے مخصوص نشستیں فراہم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔

اس حوالے سے ثوبیہ خان نے عام انتخابات میں اپنی کمیونٹی کی بہتر نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا ہے جس میں پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ٹرانس جینڈر کمیونیٹی کے لیے مخصوص نشستوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے شوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الیکشن2024 میں حصہ لینے کے خواہش مند افراد کی مجموعی تعداد کے اعداد و شمار جاری کیے تو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے مرد اور خواتین امیدواروں کی تفصیلات تو بتائی لیکن اس میں کہیں ٹرانس جینڈرز امیدواروں کا ذکرتک نہ تھا۔

نایاب علی نے یہی معاملہ اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ الیکشن کمیشن کے (اس اعلامیے کے ) مطابق انتخابات میں حصہ لینے کے لیے صرف مرد اور خواتین امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے تاہم قانونی طور پر تسلیم شدہ تیسری جنس ’X‘ کے طور پر انھوں نے بھی نامزدگی فارم جمع کروائے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ وہ ’اس بارے میں الجھن میں ہے کہ ہماری صنفی شناخت کی بنیاد پر کیا ہمارے کاغذات مسترد کیے جا سکتے ہیں۔ قانون خواجہ سراؤں کو تسلیم کرتا ہے اس معاملے میں وضاحت کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here