تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

چار دہائیوں پر مبنی  شاندار صحافتی کرئیر رکھنے والے سینئر صحافی ، دانشور اور انسانی حقوق کے علمبردار بابر ایاز طویل علالت کے بعد آج صبح درفانی سے کوچ کر گئے ۔ وہ کافی عرصے سے پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے۔ پاکستان کے مایہ ناز اخبار اور جرائد کے علاوہ انہوں نے عالمی خبرراساں اداروں میں اپنی صلاحیتوں سے لوہا منوایا۔ ایاز بابر کی پاکستان کی سیاسی ، معاشی اور سماجی موضوعات پر ان کی تحاریر عوام میں کافی مقبول ہوئی ۔ وہ صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اسانی حقوق کی جدوجہد کے لیے بھی کوشاں تھے اور ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کونسل ممبر بھی رہے چکے ہیں۔

:کیرئیر پر ایک نظر

پاکستان کو درپیش مسائل کا متوازن انداز میں تجزیہ کرنے والے بابر ایاز نے صحافتی اور سیاسی میدان میں ایک بھرپور زندگی گزاری۔اوائل میں طلبا سیاست میں نام پیدا کیا۔ سکھر کے جمہوریت پسند طلبا کو ایک پلیٹ فورم پر اکٹھا کیا۔ کمیونسٹ پارٹی کے رکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ انگریزی صحافت کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد کئی بڑے اخبارات کے نیوز رومز میں نظر آئے۔ جہاں بزنس رپورٹنگ کی، وہیں سیاسی اور سماجی موضوعات پر بھی لکھا۔ بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں مضامین لکھتے رہے۔ عملی صحافت کے ساتھ ایک پبلک ریلیشنز کی کنسلٹنگ فرم بھی قائم کی۔

اُن کے والد، شہزادہ ایاز بمبئی میں شعبۂ صحافت سے وابستہ رہے۔تقسیم کے بعد لاہوراور پھر سکھر منتقل ہوگئے۔ والدہ سیاست میں خاصی متحرک رہیں۔ ایوب دور میں مسلم لیگ کی میونسپل کمیٹی کی رکن رہیں۔ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ہونے والی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتیں تھی۔ دو بہنوں، تین بھائیوں میں اُن کا نمبر چوتھا ہے۔ 71ء میں سندھ یونیورسٹی کے سکھر کیمپس سے پولیٹیکل سائنس میں، فرسٹ ڈویژن میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔
طالب علمی کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان نے رکن بھی رہے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی آکر صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور مختلف اخبار اور جرائد میں انویسٹی گیٹنگ رپورٹنگ کا سلسلہ شروع کیا، جسے بہت سراہا گیا۔ ساتھ ہی ادبی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر کالمز بھی لکھتے رہے۔ین الاقوامی اخبارات وجرائد کے لیے بھی اُسی زمانے میں لکھنا شروع کیا۔
صحافت کے ساتھ انہوں نے ایک پی آر فرم بھی قائم کی۔

:ادبی خدمات

کالم نگاری کے ساتھ انہوں نے پاکستان کے سیاسی ، سماجی اور معاشی موضوعات پردرج دیل کتب بھی تحرریں کی ۔ جن کوعوام ،کی طرف سے کافی پزیرائی ملی۔

  1. پاکستان خرابی اور اس کے اثرات
  2. What’s Wrong with Pakistan
  3. پاکستان کے مسائل
  4. پاکستان مونجھارا ان جا سبب (سندھی)

 :سماجی حلقوں کی طرف سے اظہار افسوس

بابر ایاز کے درفانی سے کوچ کرنے پر سماجی حلقوں نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور اسے قوم کے لیے نقصان قرار دیا ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان اپنے جاری ایک تعزیت بیان میں کہا
,,
ایچ آر سی پی یہ جان کر غمگین ہے کہ تجربہ کار صحافی، مصنف اور دانشور بابر ایاز انتقال کر گئے ہیں، ایچ آر سی پی کے سابق کونسل ممبر مسٹر ایاز نہ صرف صحافت کے میدان میں پاکستان کے معاشی امور پر رپورٹنگ کے لیے ماہر تھے بلکہ جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے لیے ان کی ثابت قدمی کے لیے بھی مشہور تھے۔ ان کی ایچ آر سی پی لئے اکانومی واچ رپورٹس اور قابل قدر خدمات کو سراہتے ہیں۔ایچ آر سی پی ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے”۔

 

نگران وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے بھئ سینئر صحافی بابر ایاز کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“پر اپنے ایک تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ممتاز صحافی، مصنف، مفکر، دانشور، امن پسند، انسانی حقوق کے کارکن اور دائمی جمہوریت پسند بابر ایاز کے انتقال کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here