٢٧ جنوری ٢٠٢٤

تحریر: اسد بلوچ


تربت

ضلع کیچ کی سب تحصیل ہوشاپ کے دو مختلف دیہاتوں سے جمعہ کی رات گئے تین طالب علموں کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے خلاف علاقہ مکینوں نے ہفتے کی صبح سے سی پیک شاہراہ ایم ایٹ کو تجابان کے قریب بلاک کردیا ہے۔

جنوری کے مہینے میں ضلع کیچ سے جبری گمشدہ کیے گئے افراد میں سے آٹھ کی شناخت ان کے اہل خانہ کی جانب سے کی گئی ہے، جبکہ چار لاپتہ افراد کو تاحال شناخت نہیں کیا جاسکا۔

احتجاجی مظاہرین کے مطابق اسلم ولد کریم بخش آٹھویں جماعت اور حمل ولد قادر بحش جماعت دہم کے طالب علم ہیں اور وہ مقامی ہائی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلم کے سالانہ امتحانات بھی چل رہے ہیں جن میں سے دو پیپر وہ دے چکے ہیں۔ اسی طرح بہادر ولد چاکر بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور وہ سردیوں کی چھٹیوں کے باعث کوئٹہ سے اپنے گھر آئے ہوئے تھے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے جمعہ کی رات سب تحصیل ہوشاپ کے دیہات تجابان اور اس کے بعد ہوشاپ میں چھاپہ مار کر گھروں سے تینوں طالب علموں کو جبری طور پر لاپتہ کیا۔ مظاہرین نے یہ الزام عائد کیا کہ کاروائی کے دوران فورسز کے اہلکاروں نے عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

علاقائی ذرائع کی جانب سے ملی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جمعہ ٢٦ جنوری کی رات شیہک ولد چاکر نامی شخص کو ان کے گھر سے حراست میں لیا، جس کا تعلق ضلع کیچ کے گاؤں سنگ آباد تجابان سے ہے۔

جمعرات ٢٥ جنوری کی شب تحصیل بلیدہ کے گاؤں بٹ سے گھروں میں کارروائی کے دوران حفیظ اللہ ولد عبدالحمید اور اسماعیل ولد شاہی داد  نامی دو نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

٢٤ جنوری کو کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت شہر میں مین روڈ پر واقع افتخار میڈیکل اسٹور سے قاسم ملار سکنہ باھوٹ چات کو لاپتہ کیا گیا۔ قاسم بلوچی زبان میں شاعری کرتے ہیں اور مذکورہ میڈیکل اسٹور میں مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔

١٣ جنوری کو شھاب الدین نامی ایک نوجوان کو تربت شھر میں سنگانی سر سے رات کو گھر میں چھاپہ مار کر لاپتہ کیا گیا۔ اس کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ نے ١٧ جنوری کو تربت میں ایک ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی احتجاج کے ساتھ یکجہتی کے لیے جمعہ ٢٦ جنوری کو ضلع پنجگور کے علاقہ پروم میں ایک ریلی نکالی گئی جس میں خواتین اور بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مبصرین کے مطابق پروم میں پچھلے کئی سالوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی طرف سے کی جانے والی متعدد کارروائیوں اور غیر سرکاری مسلح جھتوں کی جانب سے عوام پر بٹھائی گئی دھاک کے کافی عرصے بعد اتنی بڑی تعداد میں خواتین اور بچے مظالم کے خلاف گھروں سے نکلے تھے۔ یہ ریلی دس سالوں میں عوام کی طرف سے طاقت کا بھرپور مظاہرہ تھی۔

ایم ایٹ شاہراہ پر دھرنا دینے والے مظاہرین کے مطابق وہ تینوں لاپتہ کیے گئے طالب علموں کی بازیابی تک احتجاجاً شاہراہ بلاک رکھیں گے۔ شاہراہ پر دھرنے کے باعث تربت اور کوئٹہ کے درمیان ٹریفک معطل ہے، جبکہ سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here