٩ فروری ٢٠٢٤

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

پاکستان میں عام انتخابات کے موقع پر بلوچستان اور خیبرپختنوانخواہ کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے، جس کے باعث پولنگ کا عمل شدید متاثر رہا اور شہری مکمل طور پر ووٹنگ کے عمل میں شریک نہ ہوسکے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الیکشن کے روز پر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں 51 دہشتگردی کے واقعات ہوئے، جس میں 10 سکیورٹی اہلکار سمیت 12 افراد شہید اور 39 زخمی ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی آئی خان میں انتخابات کے دوران سکیورٹی پر تعینات ایلیٹ فورس کی موبائل وین پر بم حملے میں 5 اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں کی جانب سے دھماکے کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔

انتخابات سے قبل بلوچستان کے اضلاع پشین میں آزاد امیدوار اسفندیار کاکڑ اور قلعہ سیف اللہ میں جے یو آئی ایف کے امیدوار مولانا عبدالواسع کے انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے جن میں 27 افراد جاں بحق اور 42 زخمی ہوئے۔

پہلا دھماکا پشین کے علاقے خانوزئی میں ہوا، جس میں 17 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کیا اور ریسکیو ٹیموں نے جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی نوعیت خودکش بتائی گئی تھی۔

سابق چیر کمیشن براۓ انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) افراسیاب خٹک نے وائس پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں پولنگ کے دوران بھی بلوچستان اور خیبر پختنوانخواہ میں حملے ہوئے۔

’’اس سے ایک دن پہلے بلوچستان میں خون ریزہ واقعات ہوئے تھے، قلعہ سیف اللہ اور پشین حملوں میں درجنوں افراد کی جانیں گئیں۔ پولنگ کے دن وزیرستان کی صورتحال اچھی نہیں تھی۔ وہاں سے پولنگ اسٹیشنز پر ٹی ٹی پی کے قبضے کی خبر سامنے آئی اور وہ گنتی پر بھی اثر انداز ہو رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں بھی لوگ حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم رہے۔‘‘

پروفیسر ڈٓاکٹر اعجاز خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختنواہ اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کےواقعات نے الیکشن کے عمل کو بہت نقصان پہنچایا۔

’’طالبان اور آئی ایس نے انتخابات کو غیر اسلامی قرار دیا ہوا تھا اور طالبان این ڈی ایم کی جماعت کو ٹارگٹ کر رہے تھے۔ اس وجہ سے خواتین نے پولنگ کے عمل میں کم حصہ لیا۔ اور کہیں جگہوں میں تو ان کی پولنگ مکمل بند کر دی گئی جس سے ووٹ نہیں کاسٹ ہوۓ۔‘‘

دوسری طرف الیکشن سے قبل اور الیکشن کے دن ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر وزارت داخلہ کے جاری بیان میں کہا کہ سنگیین ترین حالات میں الیکشن کراوانا ایک چیلنچ تھا۔ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر ملک بھر میں فون سروس کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ دہشتگردوں کے روابط اور کارروائیوں کو انجام دینے کے ذرائع سے روکا جا سکے۔ موبائل ڈیوائسز انسانی ہلاکتوں کے لیے جدید دھماکہ خیز آلات کو چلانے میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here