٦ فروری ٢٠٢٤

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور 

خیبرپختونخواہ کے ضلع ہزارہ میں کوہستان  کے چار مختلف حلقوں میں تہمینہ فہیم، شکیلہ ربانی، ثنایا سبیل اور مومنہ باسط انتخابی میدان میں اترنے والی پہلی خواتین امیدوارہیں۔یہ چاروں خواتین آزاد حیثیت میں انتخابات لڑ رہی ہیں جن میں سے ثنایا سبیل کے سوا دیگر تین کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت حاصل ہے۔ یہ چاروں خواتین اس جگہ سے پہلا الیکشن لڑ رہی ہیں جہاں کچھ عرصہ قبل ہی  ایک لڑکی کی اپنے کلاس  کے دو لڑکوں کے  ساتھ  ویڈیو بنانے پر جرگے کے حکم پر  بہیمانہ قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔
ان خواتین کے الیکشن کے  میدان میں سامنے آنے کے بعد جمعیت علما اسلام اپر کوہستان کے علما کے ایک گروپ نے خواتین کی  انتخابی مہم چلانے کے خلاف فتویٰ جاری کیا اور اِس عمل کو غیر اسلامی قرار دیا۔ مقامی زرائع نے بتایا کہ  کوہستان کے علاقے کمیلا میں لگ بھگ تقریباً 400 علماء کا ایک اجلاس ہوا جس کے بعد مدرسے کے سربراہ مفتی گل شہزادہ نے 6 نقاطی اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ “ووٹرز کو مجبور کرنے کے لئے عورتوں کو لے کر انکے گھر جانا  شریعت کے خلاف ہے” ۔
قومی اور صوبائی سیٹ میں تفریق کرنا جمعیت کے نظریے کے خلاف ہے جبکہ قومی ،علاقائی اور لسانی بنیادوں پر ووٹ دینا قران اور سنت کے خلاف قرار دے دیا گیا ۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ووٹ کے لئے قران پاک لے کر ووٹر کو مجبور کرنا بھی خلاف شرع ہے۔  زرائع کے مطابق خواتین کی انتخابی مہم کے خلاف فتویٰ 30 مجاز مذہبی اسکالرز
نے جاری کیا ۔
سابق ناظم کمیلا کوہستان بخت بلند نے فتوی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتائے کہ فتوی اس  تناظر میی ہے  کہ ہمارے یہاں روایت ہے کہ  جب کسی مخالف پارٹی کے امیدوار کو منانے یا اپنے حق میں دستبراد کروانے کے لئے خواتین کو ان کے گھر بھیجا جاتا ہے جسمیں بعض اوقات وہ قران پاک بھی  لے کر جاتی ہیں تو مخالف فریق ،پارٹی یا امیدوار یا ووٹر کوئی بھی ہو تو ان کے پاس سوائے صلح یا بات ماننے کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا اور یہ روایت برسوں سے یہاں ہے تو فتوی میں اس کو غیر شرعی قرار دیا گیا ہے ۔  انکا مزید کہنا تھا فتوی جاری کرنے والے علما متعبر نہیں اور اس کی کو کوئی اہمیت دی جارہی یہاں خواتین امیداور بھر انداز میں اپنی مہم چلا رہی ہیں۔
دوسری طرف فتوی سامنے آنے کے بعد الیکشن کیمشن نے نوٹس لیا اور اعلامیہ جاری کیا ۔ اعلامیہ میں کہا گیا الیکشن کمیشن یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اگر آئندہ انتخابات کے دوران کسی خاتون کو متعلقہ انتخابی حلقے میں انتخابی مہم چلانے سے یا ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تو الیکشن کمیشن الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت کاروائی کرے گا اور اس حلقے میں انتخابات کے عمل کو کالعدم بھی قرار دیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here