٢٠ فروری ٢٠٢٤

تحریر : ندیم خان


چمن

حکومت پاکستان کی طرف سے پاسپورٹ کی نئ شرائط عائد کئے جانے کے خلاف گزشتہ 135 روز سے چمن میں پر امن دھرنا جاری ہے۔ تاہم گزشتہ شب ایف سی نے پاسپورٹ دفتر کے سامنے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور 10 افراد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا اور بعدازں رہا کردیا گیا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ ایف سی اہلکاروں نے ان کے کیمپس کو بھی جلا دیا ہے اور وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جارہی ہے۔اس وقت چمن میں تمام کاروباری مراکز بند ہیں اور کوئٹہ جانے والی شاہراہ کو کوژک کے مقام پر مظاہرین نے بند کردیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ تین ماہ ان کے مطالبات کے حوالے سے کسی قسم کا کوئ رابطہ نہیں کیا گیا۔

ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ  ہمیں تشدد کی طرف نہ دھکیلا جائے اور پرانے قوانین کے مطابق آمدورفت اور کاروبار کی اجازت دی جائے۔

نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ چمن میں مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور پاسپورٹ آفس بلاک کردیا۔ پولیس نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ملزمان کو گرفتار کیا۔

حکومت نے پہلی بار پاک افغان چمن سرحد پر گزشتہ سال یکم نومبر سے آمدروفت کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی شرط لازمی قرار دی تھی۔اس سے قبل چمن اور سپین بولدک سمیت سرحد پر دونوں طرف رہنے والے پاکستانی اور افغان شناختی کارڈ پر آمدروفت کرتے تھے اور روزانہ 20 ہزار کے قریب لوگ بغیر کسی روک ٹوک کے افغانستان اور پاکستان آتے جاتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here