١٩ فروری ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور 

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران ہونے والی مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں اس کی پارلیمانی بورڈ کے تخت تحقیات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آرسی پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس کے انتخابی مبصرین کی ٹیم نے پاکستان کے 51 حلقوں میں انتخابی عمل کا جائزہ لیا اور رپورٹس میں انہوں نے نشاندہی کی کہ پولنگ کے دن ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند ہونے کی وجہ سے ووٹروں، خاص طور پر معذوری کے شکار افراد، بزرگوں، اور خواتین کی پولنگ اسٹیشنوں تک رسائی متاثر ہوئی اور ان کی نقل و حرکت محدود رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے انتخابی نتائج کے اعلان میں طویل تاخیر باعث تشویش ہے ۔پولنگ کا عمل مجموعی طور پر شفاف اور پرامن رہا تاہم پولنگ کے بعد کا عمل واضح طور پر غیر اطمینان بخش تھا۔

رپورٹ میں نتائج کی تیاری کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بہت سے واقعات میں یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ ریٹرننگ افسر کا اعلان پریزائیڈنگ افسر کے فارم 45 سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

ڈائریکٹر ایچ آر سی پی فرح ضیا نے وائس پی کو انٹرویو دیتے ہوئے الیکشن 2024 کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے متنازعہ قرار دیا۔

’’امید واروں کو لیول پلینگ فلیڈ نہیں دیا جارہا تھا ،اور پھر جب ایسے ماحول میں الیکشن ہوا اور اس کے بعد بہت ساری سیاسی جماعتوں نے اس الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہیں اس سے پہلے جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں ان سب سے زیادہ متنازعہ نظر آرہے ہیں۔‘‘

فرح ضیا نے مزید بتایا کہ ایچ آر سی پی نے الیکشن میں ہونے والی بد انتظامیوں اور بے ضابطگیوں کی آزادنہ کا مطالبہ کیا ہے۔

’’ایچ آر سی پی نے اپنے مبصرین کی رپورٹس کے پیش نظر سفارش کی ہے کہ ایک پارلیمانی باڈی کی نگرانی میں 2024 کے انتخابات کی آزادانہ تحقیقات کی جائے اور تجویز دی ہے کہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا انتخابی عمل یا اس کے نتائج کے انتظام میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

رپورٹ میں تجویز کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان الیکشنز ایکٹ 2017 کے مطابق فارم 45، 46، 48 اور 49 شائع کردینے چاہیے اور ناراض سیاسی جماعتوں یا امیدواروں کی جانب سے درخواستیں موصول ہونے پر کمیشن کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دینا چاہیے ۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اب  تمام فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستقل، بامعنی اور جامع سیاسی بات چیت کے ذریعے اجتماعی طور پر سویلین بالادستی برقرار رکھیں اور اس کی حفاظت کریں، درحقیقت ان انتخابات کا سب سے بڑا نقصان کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور عام لوگوں کی امنگوں کا ہوا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here