فروری ١-٢٠٢٤

تحریر : سلمان  یوسفزئی


بونیر 

میں گزشتہ دو گھنٹوں سے بونیر کنگرگلی بس اسٹاپ  پر گاڑی کا انتظار کررہا تھا۔ مجھے آج پشاور پہنچنا تھا تاکہ کل وقت پر آفس جا سکوں۔ آج بس اسٹاپ  پر گاڑیوں کا رش معمول سےقدر  کم تھا اور چند ہی لوگ میرے ارد گرد بیٹھے تھے ان میں میرے دائیں جانب دو بزرگ بھی شامل تھے ( جن کی عمریں شائد 70 سال کے قریب تھیں ) وہ دونوں روزمرہ کے حالات پر بات کررہے تھے ۔ اس دوران ان کی گفتگو میں حالیہ الیکشن کی بحث چھڑ گئی۔

بس  اسٹاپ  کے ارد گرد مختلف سیاسی جماعتوں کے پوسٹر لگے ہوئے تھے جن میں ایک پوسٹر سب سے مختلف تھا جس پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ ہولڈر سویرا پرکاش کی تصویر چھپی تھی۔ ایک بزرگ نے اس پوسٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دوسرے بزرگ سے پوچھا کہ

” کیا ہم مسلمان کسی غیرمسلم  سے تعلق رکھنے والے شخص یا خاتون کو ووٹ دے سکتے ہیں، کیا اس طرح کرنے سے ہمارا ووٹ جائز ہوگا؟”

یہ سوال میرے لئے بھی نیا تھا اس لئے میں نے اپنی پوری توجہ ان بزرگوں کی گفتگو  کی طرف مبذول کرلی۔ دوسرے بزرگ نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا 

” ہمیں مسلمانوں نے کونسی سہولیات دی ہیں کہ اب ہم ایک غیرمسلم سے توقعات رکھیں؟”

دونوں بزرگ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے اور ہلکی سی خاموشی کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا کہ

” سویرا کے والد اوم پرکاش واقعی میں نہایت اچھے انسان ہیں، انہوں نے اپنے پیشے میں بونیر کے غریب عوام کی بہت مدد کی ہے ۔ اس لئے ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کو اور ان کی بیٹی کو ایمان عطا فرمائے کیونکہ ساری نیکیاں یہ لوگ کرچکے ہیں بس صرف ایمان لانا باقی ہے۔”

بزرگوں کی بات سن کر میرے ذہن میں بھی کچھ سوالات پیدا ہوئے کہ کیا واقعی ہمارا دین ہمیں غیر مسلم کو ووٹ دینے، ان کو سپورٹ کرنے سے منع کرتا ہے، کیا آئین پاکستان میں اس بات کا ذکر ہے کہ کوئی مسلمان کسی غیر مذہب کے امیدوار کو ووٹ نہیں دے سکتا؟ کیا اسلامی جمہوری پاکستان میں اقلیت الیکشن اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے؟ ہر سوال کا جواب تھا نہیں

کیونکہ آئین پاکستان ہر پاکستانی کو رائے دہی اور حقِ نمائندگی کو محفوظ بناتا ہے

لیکن روایتی معاشرے میں پروان چڑھنے والے افراد کا ہر بات کو مذہب سے جوڑنا ایک معمول کا عمل بن گیا ہے۔ اس لئے یہاں بھی ایسی ہی بحث ہورہی ہے ۔ پشاور سے 132 کلو میٹر دور 8 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ضلع بونیر کے علاقے ڈگر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سویرا پرکاش پہلی ہندو خاتون ہیں جو 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی جنرل نشست پر الیکشن میں حصہ لینے جارہی ہیں۔ وہ گزشتہ ایک مہینے سے بونیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرچکی ہیں ۔ وہ اپنی منشور میں بونیر کی خواتین کے لئے تعلیم ، صحت اور بنیادی سہولیات دینے کا وعدہ کر رہی ہیں ۔

سویرا پرکاش بونیر میں گھر گھر جا کر خواتین سے ووٹ مانگتی رہی ہیں اور خواتین پہلی بار کھل ایک خاتون نمائندہ سامنے پا کر سویرا پرکاش کو اپنی مشکلات کے بارے میں آگاہ کرتی نظر آتی ہیں کیونکہ اس قبل نہ تو کسی خاتون امیدوار نے جنرل الیکشن میں جنرل نشست پر انتخابات میں حصہ لیا ہے اور نہ ہی روایتی اقدار کی وجہ سے ماضی میں کامیاب ہونے والے مرد امیدواروں نے خواتین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی مثبت قدم اٹھا یا ہے۔

سویرا پرکاش کا الیکشن میں حصہ لینے کا اقدام نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا میں کافی مقبول ہوا جس کے بعد سویرا پرکاش متعدد انٹرویوز میں دعویٰ کرچکی ہے کہ بونیر کے عوام کی جانب سے انہیں توقعات سے زیادہ پازیٹیو رسپانش ملا جبکہ بونیر کے عوام نے انہیں دختر بونیر کا بھی لقب دیا ہے ۔ سویرا پرکاش کے ان بیانات کو کافی مثبت لیا گا اور عوام کی جانب سے اسے مذہبی ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا گیا تاہم کچھ روز قبل سویرا نے اپنی فیس بک اکاونٹ سے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ سوشل میڈیا پر اُن پر کی گئی تنقید پر شکوہ کناں نظر آئیں ۔ سویرا نے ان لوگوں سے التجا کرتے ہوئے کہا ان کے انتخابات میں حصہ لینے کی وجہ سے بونیر کا نام نہ صرف ملکی بلکہ غیرملکی سطح پر ایک مثبت طریقے سے متعارف ہوا اس لئے وہ عوام سے توقع رکھتی ہیں کہ اُس مثبت چہرے کو مسخ مت کریں اور اُنکی آنکھوں میں سجے خواب کی تعبیر کے حصول میں انکی مدد کریں جسکا مقصد بونیر کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ یہاں کی خواتین کے لئے کچھ کرنا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here