٢٨ فروری ٢٠٢٤

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

اتوار کے روز لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں خاتون کا عربی خطاطی کے ڈیزائن کا لباس پہننے پر خاتون پر توہین کا الزام لگانے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے والے ندیم نامی شخص آج بھی آزاد ہے اور ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی۔واقعہ کے عینی شاہد اچھرہ بازار یونین کے جنرل سیکرٹری خالد شنشہاہ کا وائس پی سے واقع کی تفصلات بیان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

اچھرہ کے ندیم نامی دکاندار نے خاتون کو روکا ہوا تھا اور وہ لڑکی حاملہ بھی تھی ۔ندیم نے خاتون سے کہا آپ نے قرانی آیات کا لباس پہنا اور توہین کر رہی ہیں جس پر ان کی خاتون سے تلخ کلامی ہوئی اور ندیم نے خاتون پر پستول بھی تانی ۔

انکا مزید کا کہنا تھا کہ معاملہ بڑھنے پر مقامی مسجد کے مولوی نے موقع پر پہنچ کر اس بات کی تصدیق کی کہ لباس پر قرانی آیات درج ہیں جس کے بعد معاملہ خطرناک صورتحال اختیار کر گیا۔

تاہم’جب وائس پی کے کی ٹیم نے جب قاری علیم شاکر سبات کی تو انہوں نے کے دعوی کی تردید کر دی

میں جب اس عورت کے پاس پہنچے تو میں نے ایک نظر دیکھا ضرور لیکن یہ نہیں کہا کہ اس پر قرانی آیات ہیں۔ میں نے  خاتون کو تھانے میں لے جاکر لباس کی تحریر کو تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا ۔

اچھرہ کے واقعے کے بعد ایک طرف جہاں لوگ اے ایس پی شہر بانو نقوی کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے پولیس کے کردار کو سراہا رہے ہیں وہاں پر سول سوسائٹی نے حکوت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ خاتون پر غلط الزام لگا کر اس کو ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی بھی کی جاے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here