١٢ فروری ٢٠٢٤

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور نتائج بدلنے کے الزامات پر گزشتہ زور آر اوز کے دفاتر کے باہر احتجاج کی کال دی گئی۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی باغبانپورہ کے قریب آر او این اے 119 کے آفس کے باہراحتجاج کرنے پر پولیس نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار میاں شہزاد فاروق کو 10 افراد سمیت گرفتار کر کے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں درج کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ میاں عباد فاروق ساتھیوں سمیت مسلح ہو کر آر او آفس پر حملہ آور ہوئے اور پولیس کی طرف سے روکنے پر سیدھی فائرنگ کی گئی۔پولیس نے کاروائی کر کے میاں عباد فاروق سمیت میاں عامر، شہزاد بٹ، احمد بٹ، شاہ زمان، میاں روحیل، مدثر علی، ابو سفیان، ندیم جان اور محسن عباس کو گرفتار کیا، اور ان سے اسلحہ اور گولیاں برآمد کیں۔

دوسری طرف لاہور کے لبرٹی چوک پر بھی احتجاج کی کال دی گئی جسے بعد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کی طرف سے واپس لے لیا گیا۔ احتجاج کی کال کے پیش نظر لبرٹی چوک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ تحریک انصاف کے چند کارکنان لبرٹی پر پہچنے تو پولیس نے کاروائی کر کے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا۔

پولیس کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے دفعہ 144 نفاذ ہے اور خلاف وزری پر گررفتاریاں کی گئیں۔

لبرٹی کے علاوہ زمان پارک لاہور کے اطراف میں بھی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس کی بھاری تعینات کی گئی۔ البتہ زمان پارک کے باہر کارکنان کی طرف سے کوئی احتجاج نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی گرفتاریاں ہوئیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here