٧ فروری ٢٠٢٤

سٹاف رپورٹ


لاہور

گجرات سے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر پرویز الہی کے نجی سیکرٹری چوہدری مسعود احمد جب کہ منڈی بہاولدین میں پی ٹی آئی سے منسلک احمد خان نامی بزرگ شہری پیر کی رات پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگئے ۔

تفصیلات کے مطابق 70 سالہ چوہدری مسعود احمد،جو سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہی کے سیکرٹری رہ چکے ہیں، انہیں سروکی گاؤں کے قریب کنجہ میں اپنے گھر سے کچھ دن قبل تھانہ انڈسٹریل پولیس نے گرفتار کیا۔اور ان کو کھاڑیاں کینٹ پولیس اسٹیشن کی لاک اپ میں رکھا گیا ۔پیر کی رات انکی طبعیت بگڑنے پر انہیں سی ایم ایچ ہسپتال لے جایا گیا جہاں انکی ہلاکت ہوئی ۔

ڈی پی او گجرات اسد مفظر نے واقع کا نوٹس لیا جس کے بعد پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی ۔اور مقدمے میں تھانہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیر 2 کے اے ایس آئی کامران اختر سمیت چاراہلکاروں کو نامزد کیاگیا۔
ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا کہ اے ایس آئی کی غفلت کے باعث وزیر اعلی کا سیکرٹری دوران حراست جاں بحق ہوا۔ محمد مسعود کی موت دوران پولیس حراست دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

ایف آئی آر کاپی

دوسری طرف میڈیا رپورٹس کے مطابق منڈی بہاولدین میں احمد خان نامی بزرگ شہری کو ان کے بیٹے کی طرف سے پی پی اکتالیس سے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ امیدوار بسمہ ریاض اصغر کے حق میں کارنر میٹنگ کروانا پر گھر سے حراست میں لیا گیا۔ فیملی کے مطابق ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا جس کے باعث پیر کے روز ان کی ہلاکت ہوئی۔
گجرات کے صوبائی حلقے پی پی 34 سے تحریک انصاف کی امیدوار سمیرا الہی نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ

’’ یہ دونوں تحریک انصاف کے لوگ تھے جنہیں پولیس نے گھروں سے اٹھایا اور دوران پولیس حراست انکی ہلاکت ہوئی ‘‘

اس سے قبل بھی سمیرا الہی وائس پی کو دیئے گئے حالیہ انٹرویو میں گجرات م پولیس کی طرف سے پی ٹی آئی کے لوگوں پر پولیس کے کریک ڈاون اور گرفتاریوں کے بارے میں آگاہ کر چکی ہیں جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح سے پولیس تحریک انصاف کے کارکنان کو الیکشن مہم سے رکنے کے لیے گرفتاریاں کر رہی ہیں۔

منڈی بہاولدین واقع کے بعد احمد خان کے بیٹے مدثر کی طرف سے مقدمہ درج کروایا گیا جس میں تھانے کے ایس ایچ او سیمت ،25 پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here