٥ فروری ٢٠٢٤

ویڈیو: میتن علی، اعتزاز ابراہیم

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

الیکشن ۲۰۲۴ سر پر ہیں ملک بھر میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ امیدوار ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کارنر میٹنگز اور ڈور ٹو ڈور کیمپین میں مصروف ہیں۔عام انتخابات میں اس برس لگ بھگ چھ کروڑ خواتین ووٹ دے سکتی ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مجموعی طور پر1027 خواتین جنرل نشتوں پر انتخابات لڑرہی ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے لیے 355 خواتین اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 672 خواتین کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے گئے۔سب سے زیادہ 305 خواتین پنجاب اور سب سے کم بلوچستان سے 40 خواتین الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔لاہور کے حلقے  پی پی ۱۵۵ سے منیبہ انیس پیپلزپارٹی کے ٹکٹ سے  پہلی بار الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لے رہی ہیں۔ وہ 27 مرد امیدواروں کے خلاف میدان میں ہیں اور اپنی جیت کے لیے پر امید  ہیں۔ وائس پی کے سے گفتگو میں منیبہ کا کہنا تھا کہ

کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ  وہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔جب ہم برابری اور خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں تو پھر الیکشن میں بھی برابری ہونی چاہیے، اگر مرد الیکشن لڑ سکتے ہیں تو خواتین کیوں نہیں الیکشن لڑ سکتیں؟ اگر کسی خاتون نے ڈاکٹر یا ٹیچر بننا ہو تو اس کے لئے گھر والے بھی جلدی راضی ہو جاتے ہیں کیونکہ اس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ مخفوظ کام ہے۔
پارٹیز کی طرف سے خواتین کو کم ٹکٹیں اور اہم عہدے نہ دینے کے سوال پر منیبہ کا کہنا تھا
ہماری سوسائٹی میل ڈومینیٹ ہیں، عورتوں کا تناسب تو زیادہ ہی ہے لیکن ایسے شعبوں میں خواتین کم آتیں ہیں۔ جب آپ کور کیمٹی کی طرف دیکھیں تو اس میں خواتین بہت کم ہوتیں ہیں، کیوںکہ جب نیچے سےخواتین کو شامل ہی نہیں کی جاتیں تو پھر وہ ٹاپ
لیول پر کیسے پہنچ سکتی ہیں؟
اپنی الیکشن مہم کے حوالے سے منیبہ کافی پر امید ہیں اور کہتی ہے کہ ان کو اہل علاقہ سے کافی سپورٹ مل رہی ہے۔
الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات میں کم سے کم پانچ فیصد خواتین امیدوار نامزد کرنے کی پابند ہیں۔
جنرل نشتوں پر الیکشن لڑنے والی خواتین کے اعداد وشمار:
قومی اسمبلی کی 266 نشستوں پر 93 خواتین سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر اور باقی آزاد حیثیت سے انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔
 پنجاب سے 305 خواتین جنرل نشستوں پر میدان میں موجود ہیں۔ ان میں سے 62 سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ جبکہ    243 آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا سے 69 خواتین جنرل نشستوں پر امیدوار ہیں، ان میں 41 سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ اور 28 آزاد حیثیت
سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
سندھ سے 156 خواتین انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جن میں 61 سیاسی وابستگی اور 95 آزاد حیثیت سے حصہ لے رہی ہیں۔
بلوچستان سے 40 خواتین الیکشن میں سامنے آئی ہیں، ان میں سے 18 سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ 22 آزاد حیثیت سے میدان میں اُتری ہیں۔
اس کے برعکس 2018 کے انتخابات میں قومی اسمبلی لیے 171 خواتین امیدواروں نے حصہ لیا تھا جبکہ 2013 میں یہ تعداد 209 تھی۔  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here