١٣ مارچ ٢٠٢۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

فیصل آباد کے نواحی گاؤں مکوانہ چک 229 کے رہائشی مرتضیٰ نامی شہری جن کی 11 سالہ کمسن بیٹی عائشہ کو  23 فروری کے دن مالکن نے مبینہ طور پر بیہمانہ تشدد کر کے موت کی ابدی نیند سلا دیا۔عائشہ فیصل آباد کی نعمت کالونی نمبر 2 میں سنیلہ نامی سکول ٹیچر کے گھر چار ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔مرتضیٰ کے بقول سنیلہ انکی بیٹی کو گھریلو کام کاج کے ساتھ پڑھانے لکھانے کا کہہ کر اپنے ساتھ لے کر گئی اور چار ماہ میں صرف ایک دفعہ اپنی ماں سے ملنے کی اجازت دی اور اس کے بعد بیٹی کی لاش ہی ملی۔

بچی کے والد مرتضی نے وائس پی کے کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ

’’میری بچی چار مہینے سے ٹیچر کے حوالے تھی ۔ وہ یہاں آئے تھے تو انہوں نے کہا تمہاری بیٹی کو قرآن پاک پڑھیں اور تعلیم دیں گے اپنی بیٹی کو ہمارے حوالے کر دو۔ہم نے اس اعتماد میں بچی ان کے حوالے کر دی وہ کار پر بٹھا کر بچی کو لے گئے ۔بچی ہنستی کھیلتی ان کے ساتھ چلی گئی ۔پھر وہاں جا کر چار ماہ انہوں نے ہمیں بچی کو نہیں ملنے دیا۔ چار ماہ صرف ایک دفعہ اسکی ماں بچی سے ملی اور تب بھی بچی ڈری ہوئی تھی۔‘‘

بیٹی کے غمِ میں نڈھال ماں خالدہ  کا کہنا ہے کہ چار ماہ بعد سنیلہ کے گھر والوں نے فون پر بتایا کہ تمہاری بیٹی کی طبیعت خراب ہے ہسپتال پہنچو۔ جب ہسپتال گئے تو وہاں بچی کی موت ہو چکی تھی اور اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے ۔

’‘’فون آیا کہ عائشہ کی طبیعت بہت خراب ہے ہم ہسپتال لے کر جارہے ہیں اپنا شناختی کارڈ لے کر ہسپتال پہنچوں ۔جب ہم ہسپتال پہنچے تو عائشہ کی موت ہوچکی تھی ڈاکٹرز اور پولیس بھی موقع پر موجود تھے ۔جب ہم نے دیکھا تو عائشہ کے بازو ٹوٹے ہوئے تھے ٹانگوں پر زخم تھےسر پھٹا ہوا تھا۔‘‘

عائشہ کی پھوپھو مسرت بی بی، اپنی بھتیجی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر حکام سے انصاف کی طلبگار ہے ۔

’’عائشہ بہت پیاری تھی بہت پیار کرتی تھی۔نعمت کالونی میں ان کی کوٹھی ہے انہوں نے کیا ہے پیچھے گھر ہے آگے سکول ہے ۔ہمیں انصاف چاہیے ۔یاد تو اس کی آتی ہے رات کو نیند نہیں آتی ۔‘‘

وائس پی کے کی ٹیم جب فیصل آباد نعمت کالونی نمبر 2 میں سنیلہ کے گھر اور سکول گئی تو وہاں تالہ لگا ہوا تھا ۔علاقہ مکین نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ عائشہ کے دس روپے مانگنے پر سنیلہ نے شدید تشدد کیا جس کے بعد عائشہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوئی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عائشہ کے جسم پر 18 جگہوں پر تشدد کے نشانات تھے جن میں سے سات نشانات تین سے پانچ دن پرانے تھے رپورٹ کے مطابق عائشہ کی موت تشدد کے باعث نیورو جینک شوک کی وجہ سے ہوئی۔

واقع کی ایف آئی آر فیصل آباد کے تھانے مدینہ ٹاؤن میں درج کی گئی ۔ ایس ایچ او مدینہ ٹاؤن عمر سرفراز کا کہنا تھا مرکزی ملزمہ سنیلہ سمیت بھائی فضل الرحمان اور بہن راحیلہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سنیلہ پولیس کے روبرو بچی کے قتل کا اعترافی بیان دے چکی ہے اور سنیلہ سے آلہ قتل چھڑی بھی برآمد کرلی گئی ہے جبکہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here