١۴ مارچ ۲۰۲۴

تحریر : شکریہ اسماعیل


پشاور

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی سائمہ محبوب تین چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کی ماں ہے مگر ستم یہ کہ جب انہوں نے تیسری بیٹی کو جنم دیا تو بدقسمتی سے انکی تیسری بچی کو معاشرے کی جانب سے قبول نہیں کیا گیا، جس وجہ سے سائمہ محبوب کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ان تلخ حقائق سے واقف ہوئی جس نے انہیں بدل کر رکھ دیا مگر یہ بدلاو منفی نہیں بلکہ مثبت بدلاو تھا۔

سائمہ محبوب کہتی ہے کہ جب انکی تیسری بچی کو قبول کرنے سے انکار کیا گیا یہ کہہ کر انکا کوئی بیٹا نہیں بس بیٹیاں ہی بیٹیاں پیدا کرتی جارہی ہے تو ایک پل کے لئے انہیں کافی مایوسی ہوئی اور خود کو اپنی تینوں بیٹوں سمیت ختم کرنے کا سوچھنے لگی مگر اپنے اس فیصلے کو جزباتی مانتے ہوئے کچھ وقت کے لئے صبر اور خاموشی سے کام لیا۔ سائمہ محبوب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اج بھی پختونخوا معاشرے میں سب کو بیٹا ہی چاہیے، کسی کو بیٹی نہیں چاہیے، شاید یہ معاشرہ اج بھی اس بات سے ناخبر ہے کہ بیٹی اللہ کی طرف سے ایک رحمت ہوتی ہے۔

اس افسوسناک واقعہ نے سائمہ محبوب کو پیچھے نہیں بلکہ ایک قدم اگے کردیا، تعلیم کی روشنی سے روشناس سائمہ محبوب نے اپنا ایک چھوٹا سا صابن کا کاروبار شروع کیا جس نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک کارخانے کی شکل حاصل کی، اور سائمہ نے اس کو اپنی تیسری بیٹی کے نام سے بقاعدہ برینڈ بنا دیا۔ صابن کے اس کارخانے کے ساتھ ساتھ سائمہ محبوب نے چاکلیٹ کا بھی کاروبار شروع کیا اور اپنی تینوں بچیوں کے لئے وہ تمام اسائشیں بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ باپ کی زمہ داری ہوتی ہے۔ اج سائمہ محبوب ماں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط چٹھان کی طرح اپنی بیٹیوں کی پشت پر کھڑی ہے اور انکی تمام اخراجات خود اٹھارہی ہے۔

سائمہ محبوب نے یہ بھی بتایا کہ جب انہوں نے ایک کارخانہ بنانے کا ارادہ کیا تو ہر طرف سے انکی حوصلہ شکنی کی گئی کہ وہ ایک عورت ہے اور عورت کبھی کارخانہ نہیں چلا سکتی خاص کر جب اسکے پاس پیسے بھی نہ ہوں۔مگر زیرو سے اغاز کرکے اپنے چھوٹے کاروبار کو اخرکار کارخانے میں تبدیل کرکے انہوں نے دقیانوس معاشرے کو اس سوال کا بھی جواب دے دیا۔

سائمہ محبوب کہتی ہے کہ وہ اب دوسری خواتین کو بھی ٹرین کر رہی ہے کہ وہ بھی انکی طرح اپنا کاروبار شروع کریں اور کل کو ایسے حالات کا انکو سامنا نہ کرنا پڑے جس کا بدقسمتی سے سائمہ محبوب شکار ہوئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here